*اکابرِ دیوبند کی دل سوزی*


بقلم: معاذ حیدر

٥/ رمضان ١٤٤٧ھ


"اکابرِ دیوبند" کے تذکرے میں عجیب و غریب کشش ہے، ان کی خدمات میں حیرت انگیز وسعت ہے، شریعت کے شعبوں میں ان کے بے شمار آثار ہیں، حضور پرنور ﷺ کی دل سوزی اور جاں گدازی کا عکس بھی ان میں خوب تھا، ان کا سوزِ جگر ہر لمحہ انہیں بے قرار رکھتا، قلبی توجہات، عمدہ خصلتوں اور حکمت آمیز تدبیروں کے ذریعے معاشرے کی خامیوں کو دور کرتے، بادۂ معرفت سے سرشار کرتے، بادہ چش کو بادہ کش بنادیتے۔

*سیّد الطائفۃ حاجی امداد اللہ مہاجر مکی -رحمہ اللہ-* گنہ گاروں کو اپنی حکمت سے نیکی کے دریا میں اتار دیتے تھے، *حکیم الامۃ -رحمہ اللہ-* فرماتے ہیں: ایک آزاد خیال سے حضرت حاجی صاحب -نور اللہ مرقدہ- نے حلقۂ ارادت میں شامل ہونے کو کہا، اس نے نماز نہ پڑھنے کی شرط لگادی، حضرت نے منظور فرمالیا اور روزانہ "اللہ اللہ" کے ورد کی تلقین فرمائی، جب نماز کا وقت ہوا تو اسے خارش ہوگئی، بہت بے چینی محسوس ہوئی، علاج سے راحت نہ ملی، پانی کے استعمال کرنے کا ارادہ ہوا مکمل وضو ہی کرلیا، اس سے ایک گونہ سکون ملا، دل میں نماز کا خیال آیا تو نیت باندھ لی، اس سے مکمل افاقہ مل گیا، اب معاملہ اسی طرح ہوتا رہا تا آں کہ وہ پابندِ صلاۃ ہوگیا۔

*حضرت تھانوی -رحمہ اللہ-* کہتے ہیں: *حاجی صاحب کا امر بالمعروف بالقلب تھا۔*

یہ قلبی توجہات کی حیرت انگیز تاثیر تھی، جو دل کے سوز و گداز سے لبریز ہونے کی علامت ہے۔

*حجۃ الاسلام حضرت نانوتوی -رحمہ اللہ-* نے اہلِ دیوبند کی بہت سی اصلاحات فرمائی ہیں، بدعت اور رسومات کو چھوڑنے کا باضابطہ عہد لیا، ایک اصلاحی وثیقہ پر خلقِ کثیر نے دستخط بھی کیے۔

*(سوانح قاسمی: ٢/ ٥١)*

*حضرت گنگوہی -رحمہ اللہ-* کو دین کی اشاعت طبعاً مرغوب تھی، اتباعِ سنت میں آپ کی شخصیت بے مثال تھی، زندگی کے ہر مواقع پر لوگوں کی اصلاح کی فکر غالب رہی، امراض اور صدمات کے زمانے میں بھی صرفِ نظر کرنے کی گنجائش نہیں رکھی، حالتِ اسیری میں آپ کی جدوجہد سے ایک بڑی تعداد کی اصلاح ہوئی، آپ کے بیانات سے لوگوں پر گریہ کی کیفیت طاری ہوجایا کرتی تھی۔