*امام طحاوی -رحمہ اللہ- کی کشادہ ظرفی*


بقلم: معاذ حیدر

٧/ رمضان ١٤٤٧ھ


کوچۂ حدیث کا ہر منصف مزاج محقق *امام طحاوی* رحمہ اللہ کے مقام ومرتبہ کا معترف ہے، ان کی علمی خدمات پر خراجِ تحسین پیش کرتا ہے، تحقیقات کا اعتراف کرتا ہے، وہ اپنے زمانے کے اہلِ علم پر فائق تھے، جس کا قد کچھ بلند ہوجاتا ہے اس کی ذرہ نوازی بھی خوب ہوتی ہے‌۔

حضرت الاستاد *مفتی سعید احمد صاحب پالنپوری* -نور اللہ مرقدہ- نے اسی حقیقت کو نہایت دل نشیں انداز میں یوں بیان فرمایا:

"فضل کا پہلا درجہ یہ ہے کہ آدمی "محسود الاقران" ہو، اور آخری درجہ "محسود الاکابر" ہونا ہے۔"

*(حیاتِ امام طحاوی،ص:١٨- ١٩)*

امامِ ممدوح کو بھی اس مرحلے سے گزرنا پڑا، آپ کی تالیفات کو منصۂ شہود پر آنے سے روکا گیا، جہاں مسلکی ذوق مختلف تھا وہاں کے بعض افراد نے اس میں خوب حصہ لیا، مخالف فضا بنانے کی کوششیں ہوئیں، لیکن قدرتِ الہی کو کچھ اور منظور تھا، موانع کے بادل چھٹے، موافقت کا سورج طلوع ہوا، آپ کا علم کو آفاقیت ملی، ہمیں بھی اس چشمۂ کوثر سے بادہ کشی کی سعادت حاصل ہوئی۔

*امام طحاوی* -رحمۃ اللہ علیہ- کی سب سے نمایاں خصوصیت ان کی *وسعتِ ظرفی* ہے، وہ مذہبِ احناف کے دلائل ذکر کرنے کے ساتھ دیگر ائمہ کے مستدلات بھی وافر مقدار میں پیش کرتے ہیں، مختلف آراء کو پورے اطمینان ساتھ نقل کر کے ان کے دلائل کو سیر چشمی سے ذکر کرتے ہیں، پھر ترجیح کی جانب متوجہ ہوتے ہیں۔

لیکن کمال یہ ہے کہ اس ترجیح میں درشت گوئی کا سہارا نہیں لیتے، مرجوح رائے کے قائلین کی بے آبروئی نہیں کرتے، نام کی صراحت بھی نہیں کرتے، اور نہ راجح موقف کے حاملین کے نام لینے کو ضروری سمجھتے ہیں۔

اس طرزِ عمل کی برکت سے ان کی کتاب بے پناہ خوبیوں کی حامل تیار ہوئی، اس کی مزاولت سے متعارض احادیث کے درمیان اسنادی پہلو سے غور کرنے کا ذوق پیدا ہوتا ہے، درایتی معیار کو پرکھنے کی صلاحیت پروان چڑھتی ہے۔

*علامہ زاہد الکوثری -رحمہ اللہ-* نے اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا:

"عالم کے اندر فقہی ملکہ پیدا کرنے اور نصوص میں اسنادی پہلؤوں کے علاوہ داخلی نقد و نظر کے ساتھ تفقہ کے مختلف انداز سکھانے کے سلسلے میں اس کتاب کی نظیر دنیا میں موجود نہیں ہے۔"

*(حدیث اور فہمِ حدیث، ص: ٢٦٣)*

بلاشبہ امام طحاوی رحمہ اللہ کی یہ خصوصیت آج کے علمی ماحول کے لیے ایک روشن نمونہ ہے۔