*`یہـودی شہـزادی کا سـوال*`
*خـنـزیـر حـرام کیــوں ہــے*⁉️
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
وہ دمشق کی صبح تھی، سردیوں کی دھوپ قلعہ کی پتھریلی دیواروں پر سنہری تہہ جمائے ہوئے تھی۔ سلطان کے دربار کی رونقیں اپنے عروج پر تھیں۔ نقارچیوں نے ظہر کی اذان کے بعد نقارے تھام لیے تھے اور علمی و مذہبی حلقوں کی گفتگو کا دور شروع ہو چکا تھا۔
اچانک پردہ داروں نے ایک اجنبی خاتون کو دربار میں داخل ہونے کی اجازت طلب کی۔ وہ خوبصورت لباس میں ملبوس تھی، لیکن اس کے ماتھے پر سوالوں کی شکنیں تھیں۔ اس نے اپنا تعارف کراتے ہوئے کہا کہ وہ اندلس سے آنے والے ایک یہودی تاجر کی بیٹی ہے، اور اس کا نام ایستھر ہے۔
سلطان نے نہایت تحمل سے اسے دیکھا اور بولے، "خوش آمدید، ایستھر۔ کیا پیغام لائی ہو؟"
ایستھر نے سیدھی نظر سلطان کی آنکھوں میں ڈالی۔ اس کی آواز میں جارحیت نہیں، بلکہ ایک متجسس بچی کی سی بے باکی تھی۔ "سلطان! میں سمجھنا چاہتی ہوں۔ میری پرورش ایک ایسے گھرانے میں ہوئی جہاں سور کا گوشت انتہائی پسندیدہ غذا ہے۔ یہ طاقتور ہے، ذائقے دار ہے۔ آپ کے دینِ اسلام نے اسے حرام قرار دے رکھا ہے۔ میں جاننا چاہتی ہوں، کیوں؟
اگر آپ مجھے ایک منطقی، سائنسی، اور قابلِ فہم دلیل دے سکتے ہیں کہ یہ حرام کیوں ہے، تو میں آپ کے سامنے سر تسلیم خم کر دوں گی اور کلمہ پڑھ لوں گی۔"
دربار میں خاموشی چھا گئی۔ ایک سنسنی سی دوڑ گئی۔ کچھ علماء نے ناپسندیدگی سے ماتھے سکیڑے، کچھ سپاہیوں کے ہاتھ تلواروں کی طرف بڑھے۔ لیکن سلطان نے اپنے قریب کھڑے وزیر کی طرف دیکھا، جو خاموشی سے سر ہلا رہے تھے۔ سلطان کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی، لیکن آنکھیں گہری اور سنجیدہ رہیں۔
"ایستھر،" سلطان نے آہستہ سے کہا، "تمہارا سوال بجا ہے۔ تم سچ کی تلاش میں آئی ہو، لڑنے نہیں۔ اور سچ کا راستہ کبھی جلدی نہیں ملتا۔ کیا تم کل صبح تک میرے مہمان خانے میں ٹھہر سکتی ہو؟"
شہزادی نے اثبات میں سر ہلایا۔
سلطان نے حکم دیا، "ان کے قیام کا پورا انتظام کیا جائے۔ اور... ہاں، ان کے کھانے میں وہ سب کچھ شامل کیا جائے جو وہ چاہیں، بشمول ان کی پسندیدہ غذا۔"
دربار حیران رہ گیا۔ لیکن سلطان نے کوئی وضاحت نہیں دی۔
اگلی صبح، جب سورج اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ دمشق کے آسمان پر چڑھا، دربار دوبارہ لگا۔ شہزادی ایستھر بھی موجود تھی، لیکن اس کے چہرے پر پہلے والی بے باکی کی جگہ تجسس اور ہلکی سی بے چینی نے لے لی تھی۔
سلطان نے اشارہ کیا۔ دربانوں نے دربار کے دروازے کھول دیے۔ ایک عجیب منظر سامنے آیا۔ دو آدمی ایک بڑا سا صندوق اٹھائے لا رہے تھے۔ انہوں نے صندوق دربار کے بیچوں بیچ رکھ دیا اور سلطان کے حکم پر اس کا ڈھکن کھول دیا۔
صندوق میں دو چھوٹے چھوٹے بچے تھے۔ ایک نر اور ایک مادہ سور کے بچے۔ وہ ابھی دودھ پی رہے تھے، بے حد معصوم اور کمزور۔
سلطان نے شہزادی کی طرف دیکھا اور فرمایا، "ایستھر، تم نے کل سوال کیا تھا کہ سور کا گوشت حرام کیوں ہے؟ میں تمہیں کوئی دلیل نہیں دوں گا، نہ کوئی کتاب کھول کر پڑھوں گا۔ میں تمہیں صرف دو دن کی مہلت دیتا ہوں۔ یہ دو بچے ہیں۔ تم انہیں اپنے کمرے میں رکھو۔ جس طرح تمہارے معاشرے میں ان کی پرورش ہوتی ہے، ٹھیک ویسے ہی ان کی پرورش کرو۔ انہیں وہی کھلاؤ جو تم خود کھاتی ہو۔ ان کے ساتھ وہی سلوک کرو جو تم اپنے پالتو جانوروں کے ساتھ کرتی ہو۔ دو دن بعد بتانا، تم نے ان میں کیا فرق دیکھا۔"
شہزازی حیران رہ گئی۔ یہ کوئی دلیل نہیں تھی، یہ تو ایک تجربہ تھا۔ لیکن اس نے سلطان کے اسرار کو قبول کر لیا۔
دو دن بعد، شہزازی واپس آئی۔ اس کا چہرہ زرد پڑ چکا تھا، آنکھوں کے نیچے گہرے حلقے تھے اور کپڑوں سے عجیب سی بو آنے لگی تھی۔ وہ بڑی مشکل سے اپنے آپ کو سنبھالے کھڑی تھی۔
سلطان نے پوچھا، "بتاؤ، کیسا رہا تمہارا تجربہ؟"
ایستھر نے کانپتے ہوئے کہنا شروع کیا، "سلطان! یہ... یہ جانور نہیں ہیں، یہ شیطان ہیں۔ میں نے انہیں صاف ستھرا رکھنا چاہا، لیکن وہ اپنے ہی میلے میں لیٹے رہنا پسند کرتے ہیں۔ میں نے انہیں اچھا کھانا دیا، پھل اور روٹی، لیکن انہوں نے اسے ٹھکرا دیا اور صرف وہ چیزیں کھائیں جو میں ان کے سامنے پھینک دیتی تھی، چاہے وہ گندی ہی کیوں نہ ہوں۔ ان کی آوازیں ایسی تھیں کہ میرا سر پھٹا جاتا تھا۔ وہ ایک دوسرے پر جھپٹتے تھے، کاٹتے تھے، اور ان کی بدبو نے میرے کمرے کو جہنم بنا دیا تھا۔"
ایستھر نے آنکھیں بند کر لیں، جیسے اس منظر کو دوبارہ نہ دیکھنا چاہتی ہو۔ "اور سب سے خوفناک بات... میں نے دیکھا کہ جب وہ بھوکے ہوتے ہیں، تو نہ صرف ایک دوسرے پر حملہ کرتے ہیں، بلکہ میں نے انہیں اپنا ہی فضلہ کھاتے دیکھا۔ سلطان، یہ جانور نہیں، یہ گندگی ہے۔"
دربار میں مکمل خاموشی تھی۔ ایستھر کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔ وہ بولی، "میں سمجھ گئی، سلطان۔ میں سمجھ گئی کہ آپ کا دین اسے کیوں حرام کہتا ہے۔ یہ صرف طبیعت کی خرابی کا مسئلہ نہیں، یہ روح کی گندگی ہے۔ جو جانور خود پاکیزہ نہیں رہ سکتا، وہ انسان کو اندر سے کیسے پاک رکھ سکتا ہے؟ جو جانور اپنی ہی نسل کے بچے کھا جائے، اس کے گوشت میں کیا شفقت ہوگی؟ جو جانور گندگی میں پلے، وہ انسان کے اندر کیا پاکیزگی پیدا کرے گا؟"
وہ آگے بڑھی اور گھٹنوں کے بل گر گئی۔ "أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمداً رسول الله۔ سلطان، آپ نے مجھے کتابیں پڑھ کر نہیں، حقیقت کا سامنا کروا کے سچ سکھایا۔"
سلطان صلاح الدین نے اپنی جگہ سے اٹھ کر اسے اٹھایا۔ ان کی آنکھوں میں حکمت کا نور تھا۔ "ایستھر، اسلام عقل اور فطرت کا دین ہے۔ اس نے ہر اس چیز کو حرام کیا ہے جو انسان کی روح، اس کے جسم، اور اس کے معاشرے کے لیے نقصان دہ ہے۔ تم نے خود دیکھ لیا۔ اب تم صرف اس لئے مسلمان نہیں ہوئی کہ تم نے ایک حکم مان لیا، بلکہ اس لئے کہ تم نے اس کی حکمت کو اپنی آنکھوں سے دیکھا۔"
اس دن کے بعد ایستھر، اب ام کلثوم، دمشق کی مشہور عالمہ بن گئی۔ وہ اکثر کہا کرتی تھی، "اللہ نے جو چیز بھی حرام کی، اس میں بندے کی بھلائی چھپی ہے۔ اور جو چیز حلال کی، اس میں برکت۔ میں نے وہ برکت اپنی آنکھوں سے دیکھی ہے۔"
خلاصہ: حرام اور حلال کے پیچھے اللہ کی حکمتیں ہیں، جو عقل سلیم اور فطرتِ انسانی پر مبنی ہیں۔ کبھی کبھی سچ کو سمجھنے کے لیے دلیل نہیں، مشاہدہ چاہیے۔ ⚖️🕊️🌙