*السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ*
*بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم*
*احکام رمضان المبارک*
*روزہ کی حالت میں قئے کا حکم*
( *زیادہ قئے* کا مطلب ہوتا ہے *منہ بھر کر* قئے ہونا اور *منہ بھر* قئے کہتے ہیں اتنی زیادہ قئے ہونا کہ اس کو منہ میں روک پانا مشکل ہو ۔ اور اگر اس سے کم ہو تو اسے *تھوڑی قئے* کہا جاتا ہے)
1))۔ اگر روزہ کی حالت میں خود بہ خود قئے ہو جائے اور وہ تھوڑی ہو یعنی *منہ بھر* سے کم ہو تو روزہ نہیں ٹوٹے گا۔
2))۔ اگر روزہ کی حالت میں خود بہ خود قئے ہو جائے اور وہ *منہ بھر* ہو تو اس صورت میں بھی روزہ نہیں ٹوٹے گا۔
3))۔ اگر روزہ دار نے جان بوجھ کر قئےکی اور وہ تھوڑی تھی یعنی منہ بھر سے کم تھی تو اس صورت میں بھی روزہ نہیں ٹوٹے گا ۔
4))۔ اگر روزہ دار نے جان بوجھ کر قئےکی اور وہ منہ بھر تھی یا منہ بھر سے بھی زیادہ تھی تو اس صورت میں روزہ ٹوٹ جائے گا، بعد میں صرف اس دن کے روزہ کی قضاء واجب ہوگی ، کفارہ ( یعنی ایک ساتھ 60 روزوں) کا حکم نہیں ہوگا۔
واللہ اعلم بالصواب