*کیا ناپاکی کی حالت میں موبائل میں قرآن پڑھ سکتے ہیں؟*
*مسئلہ کی وضاحت کے لیے پہلے حالتیں سمجھ لیجیے:*
1. بے وضو ہونا (حدثِ اصغر)۔
2. جنابت کی حالت (حدثِ اکبر) یعنی جس ناپاکی پر غسل واجب ہوتا ہو۔
3. حیض و نفاس۔
*(1) بے وضو شخص کا موبائل میں قرآن پڑھنا*
بے وضو شخص کے لیے قرآنِ کریم کی تلاوت زبانی جائز ہے، البتہ مصحف کو بلا وضو ہاتھ لگانا جائز نہیں۔
دلیل:
الدر المختار میں ہے:
> وَيَحْرُمُ مَسُّ الْمُصْحَفِ إِلَّا بِطَهَارَةٍ
اور رد المحتار میں وضاحت ہے کہ ممانعت مسِّ مصحف یعنی چھونے کی ہے، تلاوت کی نہیں۔
موبائل مصحف کے حکم میں نہیں کیونکہ حروف اسکرین پر روشنی (pixels) کی صورت میں ہوتے ہیں، مستقل لکھائی نہیں۔
لہٰذا بے وضو شخص موبائل میں قرآن پڑھ سکتا ہے، مگر بہتر ہے باوضو ہو۔
*(2) جنابت کی حالت میں قرآن پڑھنا*
جنبی (جس پر غسل فرض ہو) کے لیے قرآن کی تلاوت جائز نہیں، خواہ مصحف سے ہو یا زبانی۔
حدیث:
> لا يقرأ الجنب ولا الحائض شيئًا من القرآن
(سنن ترمذی)
فقہائے احناف نے اسی پر فتویٰ دیا ہے۔
بدائع الصنائع میں ہے:
> ولا يقرأ الجنب القرآن
لہٰذا موبائل سے بھی قرآن کی تلاوت جنابت کی حالت میں جائز نہیں۔
البتہ دعا کی نیت سے آیاتِ دعائیہ پڑھ سکتا ہے، جیسے:
"رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً"
حوالہ: الفتاویٰ الهندية
*(3) حیض و نفاس والی عورت کا حکم*
حائضہ اور نفساء کا بھی وہی حکم ہے جو جنبی کا ہے۔
الہدایہ میں ہے:
> ولا تقرأ الحائض ولا النفساء القرآن
لہٰذا وہ بھی موبائل سے قرآن بطورِ تلاوت نہیں پڑھ سکتیں۔
البتہ دعا یا ذکر کی نیت سے آیات پڑھ سکتی ہیں۔
واللہ اعلم بالصواب