*رمضان میں مغفرت سے محروم لوگ اور دردناک وعید*

*خامہ بکف ✍🏻محمد عادل ارریاوی* 
________________________________
محترم قارئین کتنی بڑی بد نصیبی ہے کہ مغفرت کا مہینہ آئے رحمت کے دروازے کھلے ہوں جنت پکار رہی ہو ربِّ کریم اپنے بندوں کو بخشنے کے لیے بے قرار ہو اور انسان پھر بھی خالی ہاتھ رہ جائے رمضان المبارک کوئی عام مہینہ نہیں یہ اللہ ربّ العزت کی طرف سے عطاؤں کا سیلاب ہے یہ گناہوں کو مٹانے اور درجات کو بلند کرنے کا سنہرا موقع ہے اس مہینے میں معمولی نیکی بھی پہاڑ بن جاتی ہے اور ایک سچی توبہ زندگی بھر کے گناہوں کو دھو ڈالتی ہے۔ لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ اگر کوئی شخص ایسے عظیم مہینے کو پائے اور پھر بھی اپنی مغفرت نہ کرا سکے تو اس سے بڑھ کر محرومی کیا ہو سکتی ہے؟ یہ صرف ایک غفلت نہیں بلکہ اپنی آخرت سے بے پروائی ہے یہی وجہ ہے کہ ایسے بد نصیب لوگوں کے حق میں حضرت جبرئیل امین علیہ السلام نے بددعا فرمائی اور نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اس پر آمین کہی یہ کوئی معمولی بات نہیں بلکہ ہمارے لیے ایک زوردار تنبیہ ہے کہ ہم رمضان کو معمولی نہ سمجھیں کیونکہ رمضان المبارک کی آمد ہی انسانوں کو نواز نے اور عطا کرنے کے لئے ہوتی ہے اور نیکیوں کے اجر و ثواب کو بھی بڑھا دیا جاتا ہے تا کہ انسان اس میں بہت کچھ جمع کرنے والا بنے اور بارگاہ خدا سے فیض یاب ہونے والا رہے اسی لئے اس میں ایک ایمان والے کو یہ زیب نہیں دیتا ہے کہ وہ نیکیوں کے اس مہینہ کو لا پرواہی اور کاہلی میں گزار دے تن آسانی اور بے فکری میں بسر کر دے، بلکہ جتنا ممکن ہو نیکیوں کے کرنے اور اعمال صالحہ کو بٹورنے میں مگن رہے اگر اس عظیم مہینہ میں بھی مسلمان محروم رہے تو واقعی اس سے بڑھ کر محرومی اور کیا ہو سکتی ہے؟ اللہ ربّ العزت کے خزانوں کے دہانے کھولے ہوں اور منادی اعلان کر رہا ہو نواز نے اور عطا کرنے کے وعدے سچے پروردگار کی جانب سے ہو اور انسان اس میں بھی غفلت کا شکار رہے اور اپنی نجات اور مغفرت کا سامان نہ کرلے تو بلاشبہ بہت بڑا حرماں نصیب ہوگا لیکن اس سے بڑھ کر خطر ناک بات یہ ہے کہ ایسے محروموں کے لئے خود جبرئیل امین نے بد دعا فرمائی اور نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اس بد دعا پر آمین کہی چناں مشہور روایت ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے منبر کے پہلے درجہ پر قدم رکھا اور آمین کہا دوسرے پر قدم رکھا تو آمین کہا اسی طرح تیسرے پر قدم رکھا اور آمین کہا صحابہ کو بڑی تشویش ہوئی کہ آج خلاف معمول نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے منبر پر قدم رکھا اور آمین کہا خطبہ سے فراغت کے بعد صحابہ کرام نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے دریافت کیا تو آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حضرت جبرئیل علیہ السلام میرے پاس آئے تھے اور انہوں نے تین لوگوں کے حق میں بددعا کی اور میں نے اس پر آمین کہا جن میں ایک وہ شخص ہے جو رمضان المبارک کے بابرکت مہینہ کو پائے اور پھر بھی اس کی مغفرت نہ ہوئی ہو۔ (مستدرک للحاکم حدیث نمبر ۷۳۲۱) حضرت ابو ہریرہ سے مروی ایک روایت میں ہے کہ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا ذلیل وخوار ہو وہ شخص جس کے سامنے میرا نام لیا گیا ہو اور پھر اس نے مجھ پر درود نہ پڑھا ذلیل و خوار ہو جائے وہ شخص جس کو رمضان کے مہینہ کی نعمت حاصل ہوئی اور رمضان گزر گیا مگر اس نے اپنی مغفرت کا سامان نہیں کیا اور ذلیل وخوار ہو وہ شخص جس نے اپنے والدین یا ان میں سے کسی ایک کو بڑھاپے میں پایا لیکن وہ اس کو جنت میں داخل نہ کرائیں ( ترندی حدیث نمبر ۳۴۹۶)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہیکہ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص ایمان اور طلب ثواب کی نیت سے رمضان کا روزہ رکھے اس کے پچھلے گناہ بخش دئے جائیں گے اور جو شخص ایمان و اخلاص کے ساتھ رمضان میں عبادت کرے اس کے گزشتہ معاصی معاف کر دئے جائیں گے اسی طرح جو شخص شب قدر میں ایمان و احتساب کے ساتھ مشغول عبادت رہے اس کے بھی پچھلے گناہ معاف کر دئے جاتے ہیں۔ (بخاری شریف ۲۵۵/۱ حدیث : ۱۸۶۳)
رمضان المبارک جو دراصل رحمتوں کے نزول اور نیکیوں کے حصول کا مہینہ ہے اس کی ہر ساعت اور اس کا ہر لمحہ عطا و نوازش کی بہاروں کو لے کر آتا ہے اور عبادت و بندگی کرنے والوں کو نواز کر جاتا ہے اللہ ربّ العزت نے رمضان کی ہر گھڑی کو انسانوں کے لئے نیکیوں کے کمانے اور اعمال صالحہ کے جمع کرنے کے لئے مختص فرمایا اور خود رسول کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم اس مہینہ کی قدر فرماتے اور عبادتوں میں غیر معمولی اضافہ فرما دیتے یہ ساری چیزیں ہم سب کے لئے جذبہ عمل کو بیدار کرنے اور رمضان المبارک کو نیکیوں کے حاصل کرنے کا ذریعہ بنانے کی دعوت دیتی ہیں رمضان کے بابرکت لمحات کی عظمت کو پہچانتے ہوئے اس کو صحیح استعمال کرنے کی کوشش کرنی چاہیے اور غفلت ولا پرواہی میں اس کے دن ورات کو ضائع ہونے سے بچایا جائے تو ان شاء اللہ رمضان المبارک ہمارے لئے بھی نیکیوں کا موسم بہار ثابت ہوگا اور زیادہ سے زیادہ اعمال کرنے میں معاون بنے گا مختلف قسم کی نیکیوں کو انجام دینے کی فکر کرنی چاہیے تلاوت عبادت نوافل ذکر واذکار صدقہ و خیرات کا اہتمام کرنا چاہیے جس سے بلا شبہ اجر و ثواب میں زیادتی ہوگی اور انسانی ذوق پھر سے طاعات کے انجام دینے کا خوگر بنے گا اور نیکیوں کو کرنے کا حریص ہوگا۔
اے میرے رب ہمارے دلوں کو تقویٰ اور اخلاص سے بھر دے ہمیں رمضان کے بعد بھی نیکیوں پر قائم رہنے کی توفیق عطا فرما
اے میرے پیارے اللہ اس رمضان کو ہماری زندگی کا بہترین رمضان بنا دے آمین یارب العالمین ۔