*انٹرنیٹ کی دنیا اور ہمارے معاشرے پر اس کا اثر*

انٹرنیٹ آج کے دور کا سب سے طاقتور ذریعۂ ابلاغ ہے، اس نے فاصلے سمیٹ دیے، معلومات کو عام کر دیا اور دنیا کو ایک گلوبل گاؤں بنا دیا، مگر یہی سہولت اگر بے احتیاطی سے استعمال ہو تو اخلاقی زوال، فکری انتشار اور روحانی کمزوری کا سبب بھی بن جاتی ہے، Google، Facebook، Twitter اور WhatsApp جیسے ذرائع ایک وسیع سمندر کی مانند ہیں، اس سمندر میں خیر بھی ہے اور شر بھی، روشنی بھی ہے اور اندھیرا بھی، اب یہ انسان پر منحصر ہے کہ وہ اس میں موتی تلاش کرتا ہے یا گہرائی میں ڈوب کر اپنا اخلاق کھو بیٹھتا ہے۔
*انٹرنیٹ ایک بڑی منڈی ہے، یہاں کوئی بھی بلا مقصد موجود نہیں، ہر شخص کسی نہ کسی صورت اپنا نظریہ، اپنی سوچ یا اپنا سامان پیش کر رہا ہے، کوئی شہرت کا طالب ہے، کوئی فکری یلغار میں مصروف ہے، کوئی اخلاقی قدروں کو کمزور کرنا چاہتا ہے اور کچھ ایسے بھی ہیں جو واقعی خیر خواہی اور اصلاحِ امت کا جذبہ رکھتے ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ ہم ہر تحریر، ہر ویڈیو اور ہر تعلق کو پرکھیں، تحقیق کریں اور پھر قبول کریں، کیونکہ ہر چمکتی چیز سونا نہیں ہوتی اور ہر مسکراتا چہرہ مخلص نہیں ہوتا۔*
سوشل میڈیا پر تعلقات بناتے وقت غیر معمولی احتیاط ضروری ہے، بہت سے لوگ فرضی ناموں اور جعلی شناخت کے پیچھے چھپے ہوتے ہیں، ان کی تصاویر ملمع سازی کا نمونہ، ان کی گفتگو بناوٹ سے بھرپور اور ان کا کردار پردوں میں مخفی ہوتا ہے، ایسے میں آنکھوں دیکھی حقیقت اور سنی سنائی بات میں فرق کرنا لازمی ہے، کیونکہ بسا اوقات دوست کے بھیس میں دشمن اور خیر کے لبادے میں شر چھپا ہوتا ہے۔
نشر و اشاعت کے باب میں بھی ذمہ داری کا احساس لازم ہے، جو بات شریعت کے خلاف ہو اسے آگے بڑھانا گناہ میں تعاون ہے، اور جو خیر کی بات ہو اسے پھیلانا صدقۂ جاریہ ہے، اس لیے کچھ لکھنے، شیئر کرنے یا تبصرہ کرنے سے پہلے بار بار سوچنا چاہیے کہ آیا یہ عمل اللہ کی رضا کا ذریعہ ہے یا ناراضی کا سبب، یاد رکھو جب تم لکھتے ہو تو تمہارے اعمال نامہ میں بھی لکھا جا رہا ہوتا ہے، اور ہر لفظ قیامت کے دن گواہی دے گا۔
*انٹرنیٹ کا سب سے بڑا خطرہ نظر کی بے احتیاطی ہے، فحاشی، بے حیائی اور گناہ آلود مناظر دل کو سیاہ اور روح کو کمزور کر دیتے ہیں، اگر انسان اپنے نفس پر قابو رکھ سکے تو یہی انٹرنیٹ دعوت و تبلیغ، علم کے فروغ اور اصلاحِ معاشرہ کا عظیم ذریعہ بن سکتا ہے، لیکن اگر نفس خواہشات کے شکنجے میں جکڑا ہو تو یہی ذریعہ ہلاکت کا سبب بھی بن جاتا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ انسان اپنے استعمال کو محدود، با مقصد اور متوازن رکھے۔*
انٹرنیٹ غفلت اور شہوت دونوں کو ابھارنے کی غیر معمولی صلاحیت رکھتا ہے، اور یہی دو دروازے ایسے ہیں جن سے شیطان انسانی دل میں داخل ہو کر اس کے ایمان کو کمزور اور اس کی بصیرت کو دھندلا دیتا ہے، لمحوں کی بے احتیاطی عادت بن جاتی ہے اور عادت رفتہ رفتہ کردار کا حصہ بن کر انسان کی پوری زندگی کا رخ موڑ دیتی ہے، اس لیے اس وسیع ڈیجیٹل دنیا میں قدم رکھتے وقت شعور، تقویٰ اور ذمہ داری کو اپنا زادِ راہ بناؤ۔
تم اس دنیا میں شہد کی مکھی کی طرح بنو، جو کانٹوں بھرے باغ میں بھی صرف پھول تلاش کرتی ہے، رس چنتی ہے اور پھر اسے شہد میں بدل کر دوسروں کے لیے شفا کا سامان بناتی ہے، اسی طرح تمہاری نظر خیر کو تلاش کرے، تمہاری انگلیاں بھلائی کو پھیلائیں اور تمہارا وقت علم، حکمت اور اصلاحِ نفس میں صرف ہو، کیونکہ با مقصد استعمال ہی اس طاقت کو نعمت بناتا ہے، عام مکھی کی طرح ہر گندگی پر نہ بیٹھو کہ خود بھی آلودہ ہو جاؤ اور دوسروں تک بھی آلودگی منتقل کرو، یاد رکھو کہ ہر تصویر، ہر ویڈیو اور ہر تحریر دل پر نقش چھوڑتی ہے، اگر یہ نقش پاکیزہ ہو تو دل روشن ہوتا ہے اور اگر آلودہ ہو تو دل تاریک، اور جب دل تاریک ہو جائے تو انسان کو گناہ بھی گناہ محسوس نہیں ہوتا۔
پس اس ذریعے کو تعمیرِ شخصیت، تقویتِ ایمان اور خدمتِ دین کے لیے استعمال کرو، اسے علم کے فروغ، اچھے اخلاق کے اظہار اور معاشرے کی اصلاح کا وسیلہ بناؤ، تاکہ کل جب اعمال نامہ کھلے تو یہی انٹرنیٹ تمہارے حق میں گواہی دے کہ تم نے اسے خیر کے لیے استعمال کیا تھا، نہ کہ یہ تمہارے خلاف کھڑا ہو کر تمہاری غفلتوں اور لغزشوں کا اعلان کرے۔

                  *✍️متعلم الجامعۃ الاشرفیہ✍️*