معاشرے میں پھیلی ہوئی غلط فہمیاں..!

میں نے دیکھا کہ اکثر خواتین نماز کے درمیان اٹھنا پڑا جاۓ تو وہ جائے نماز کو ایک کونےسے موڑ دیتی ہیں۔
وہ ایسا کیوں کرتی ہیں
اکثر خواتین کا جواب وہی ہوتا ہے جو ہم اپنی نانیوں دادیوں سے سنتے آئے ہیں
 کہ جناب اگر کونہ نہ موڑو تو شیطان نماز پڑھنے لگتا ہے۔
 کتنی عجیب بات ہے ناں، وہ شیطان جو ایک سجدہ کرنے کو تیار نہ ہوا وہ بھلا اب کیوں نماز پڑھنے لگا؟
اگر اس نے اب سجدے کرنے ہوتے تو پہلے سجدے سے انکار ہی کیوں کرتا، اسی لیے تو وہ راندۂ درگاہ کر دیا گیا۔
اور چلیں اگر فرضِ محال ایک منٹ کو مان بھی لیتے ہیں کہ وہ نماز پڑھتا بھی ہے تو یہ تو اچھی بات ہے، پڑھنے دیں آپ کا کیا جاتا ہے۔ 
ایسی کتنی ہی سینہ بہ سینہ توہمات ہمارے آباؤ اجداد سے چلتے چلتے ہم تک پہنچتی ہیں جن میں سے کسی کو بھی تاریخِ اسلام میں کوئی اہمیت حاصل نہیں ہے، لیکن افسوس ہے کہ وہ ہمارے مسلم گھرانوں میں بڑی شدت سے اپنائی جاتی ہیں۔
 مثلاً۔
 رات کو جھاڑو نہ دو گھر خالی ہو جائے گا، قینچی خالی نہ چلاؤ جھگڑا ہوگا،
 خالی جھولا نہ جھلاؤ بچہ نہیں ہوگا یا نومولود بچے کو نقصان ہوگا۔
اسی طرح جھاڑو سے نہ مارو سوکھے کی بیماری ہو جائے گی،
چوکھٹ پر بیٹھ کر کھانا نہ کھاؤ مقروض ہو جاؤ گے، وغیرہ وغیرہ۔
 جب کہ دینِ اسلام قرآن و حدیث میں ایسی توہمات کا کہیں ذکر نہیں ملتا۔
اللّہ حفاظت فرمائے 
اللہ کے لیے اپنے گھروں کو دینِ محمد ﷺ کی تعلیمات سے آراستہ کیجیے،  ۔
عائشہ ❤