انتہائی افسوس اور دکھ کی بات ہے کہ جس قوم کو قرآن وحدیث کے ذریعہ مخلوق کی رہنمائی کرنی چاہیے تھی، جنہیں غیروں کے لۓ اسوہ بننا چاہۓ تھا، جنہیں دیکھ کر خدا کی یاد آنی چاہیے تھی، جن سے دیگر اقوام کو امن وسلامتی اور صلح وآشتی کا سبق لینا چاہیے تھا، آج وہ دنیا میں آپسی جھگڑے، باہمی خانہ جنگی اور خود اپنوں کی تباہی اور قتل وغارت میں مصروف ہیں، قتل بھی ایسا کہ جسے دیکھ کر یہودی بھی چینخ اٹھے کہ دنیا بلا وجہ ہمیں بد نام کر رہی تھی، انسانیت کے ساتھ گھناؤنا سلوک تو سوڈان میں ہو رہا ہے، حد یہ ہے کہ بہ ظاہر قاتلین وظالمین میں دور دور تک اپنے ہی نظر آ رہے ہیں، ایک طرف ملیشیائی غنڈے اس اندوہ ناک صورتِ حال کے مجرم اور ذمہ دار ہیں تو وہیں دوسری طرف سات ریاستوں کا اتحاد UAE (متحدہ عرب امارات) ان قیامت نما مناظر اور ظلم وبربریت میں برابر کا شریک ہے، ساری دنیا صرف تماشائی بنی ہوئی ہے، اقوامِ متحدہ خاموش ہے، امریکہ سکون کا ٹھنڈا سانس لے رہا ہے، ممالکِ اسلامیہ تماشہ بینوں کی صف میں ہیں، دو سال سے زائد عرصہ سے اہلِ غزہ کی مظلومیت کا رونا رو رہے تھے، اُس سے متصل افغان پاک معاملہ سے دل برداشتہ اور کبیدہ خاطر تھے اور اب دیکھتے دیکھتے اِس خطرناک اور وحشت ناک صورتِ حال کا سامنا ہے، ظلم ایسا کہ الامان والحفیظ نہ بچوں پر رحم، نہ معذوروں کی داد رسی، نہ عورتوں کی صنف کا خیال اور نہ بوڑھوں کی کوئی رعایت، غرض بصیرت وبصارت سے ماوراء چشمہ لگا کر اس خوں ریزی اور نسل کشی پر تلے ہوئے ہیں، ظلم کی اس داستان کو ڈائری میں رقم کر لیجئے کہ سطحِ زمین پر خوں ریزی اس قدر ہے کہ پہلی بار سیٹ لائٹ تصاویر میں بھی خون صاف نظر آ رہا ہے، گھر سے محلہ، محلہ سے گاؤں اور گاؤں سے شہر، سب کے سب تباہ وبرباد کر دۓ گۓ ہیں، ہاسپٹل میں زیرِ علاج سینکڑوں زخمیوں کو یک دم آسودۂ خاک بنا دیا گیا، طبی مراکز معطل ومسمار کر دۓ گۓ ہیں، ویران مکانات اپنے مکینوں کو رو رہے ہیں، سڑکیں اور جنگلات مُردوں سے آباد ہیں، لمحہ بہ لمحہ کتنے ہی لوگوں کو تہِ خاک کیا جا رہا ہے، اس ظالم وجابر گروہ کا سرغنہ ابولولو (حمیدتی) 2000 لوگوں کا یومیہ قتل اپنا فخر اور کامیابی تصور کرتا ہے، "قتل اصحاب الاخدود" کے واقعہ میں عورت کو بچے سمیت شہید ہوتے پڑھا تھا، حالیہ سوڈان قضیہ میں اس کا مشاہدہ ہوا ہے، AP news کے مطابق سوڈان کی کل چار کروڑ آبادی میں سے ایک کروڑ چالیس لاکھ لوگ اپنے گھروں کو چھوڑنے پر مجبور ہو چکے ہیں، قحط سالی کی زندگی گزار رہے ہیں، معصوم بچے، بچیوں اور بے گناہ لوگوں کو شب وروز موت کے گھاٹ اتارا جا رہا ہے۔
سوڈان معاملہ کیا ہے ؟
مختصر طریقہ پر یہ سمجھ لیجئے کہ در اصل سوڈان میں سونے کی بہتات ہے، 2019 میں صدر عمر البشیر کو عوامی اور قومی احتجاج کی بناء پر صدریت سے برطرف کر دیا گیا، اس کے بعد اقتدار دو عسکری قوتوں میں بٹ گیا:
ایک تو قومی فوج جس کی قائد جنرل عبد الفتاح البرہان تھے۔
دوسری ریپڈ سپورٹ فورسز (RSF) (الدعم السریع) جس کے سر براہ حمدان دقلو (حمیدتی) تھا۔
اس کے بعد سے 2023 تک دونوں گروہ مشترکہ طور پر حکومت کرتے رہے، چناں چہ 2023 کے شروع میں یہ بحث چھڑی کہ الدعم السریع (RSF) کو قومی فوج میں ضم کر دیا جائے، بس یہیں سے اختلاف پھوٹ پڑا، قومی فوج چاہتی تھی کہ یہ کام دو سال میں مکمل ہو جائے؛ مگر حمیدتی نے دس سال کی مہلت مانگی، یہ اختلاف سے آگ پھیلی اور پھیلتی چلی گئ یہاں تک کہ آج پورا سوڈان آگ کی لپیٹ میں ہے۔
"جنجوید ملیشیا" یہ ایک مسلح اور بدنامِ زمانہ تنظیم ہے، یہ ملیشیا عرب خانہ بدوش قبائل پر مشتمل ہے، 2003 میں اس گروہ کو بغاوت کا سر کچلنے کے لئے استعمال کیا گیا، بعد میں پھر عمر البشیر نے حمیدتی کو مزید طاقت دی اور اس بدنامِ زمانہ گروہ کو قانونی حیثیت دے کر الدعم السریع (RSF) کے نام سے منظم کر دیا اور اب اسی ریپڈ سپورٹ فورسز (RSF) نے پورے سوڈان میں جہنم برپا کر رکھی ہے اور بد بخت حمیدتی ہی اس گروہ کی سربراہی کر رہا ہے، انتہائی افسوس اور دکھ کی بات یہ ہے کہ متحدہ عرب امارات (UAE) اس گروہ کی بڑے پیمانے پر حمایت کر رہا ہے۔
متحدہ عرب امارات (UAE) سوڈان میں مداخلت کیوں کر رہا ہے؟
متحدہ عرب امارات دنیا کی خوراک کی سپلائی پر کنٹرول اور بحیرۂ احمر کے تمام بندرگاہوں پر قبضہ کر کے ایک نئی "سمندری سلطنت" بنانا چاہتا ہے، اس مقصد کے لیے اسے سوڈان کی زرخیز زمینوں، قیمتی معدنیات اور اہم ساحلی علاقوں کی ضرورت ہے۔
مگر جب سوڈانی حکومت نے ان غیر منصفانہ معاہدوں کو رد کیا اور عوام نے ان کے خلاف آواز اٹھائی تو متحدہ عرب امارات نے حکمتِ عملی بدل لی یعنی تجارتی منصوبوں سے براہِ راست جنگی مداخلت کی طرف بڑھ گیا، اسی لیے عرب امارات نے (RSF) ملیشیا (ریپڈ سپورٹ فورسز) کو اپنا ہتھیار بنا لیا، انہیں پیسہ اور اسلحہ دیتا ہے، بدلے میں سوڈان کے سونے، زمین اور زرعی پیداوار پر کنٹرول حاصل کرتا ہے، چناں چہ کتنے ہی بے گناہ لوگوں کو بغیر کسی جرم کے تہِ خاک کیا جا چکا ہے اور دنیا خاموشی سے یہ سب دیکھ رہی ہے۔
تحریر: عبد اللہ یوسف
٧/جمادی الاولی ١٤٤٧ھ۔
بہ روز جمعرات