بنت محمد رافع✍️
آج کی نوجوانی ایک ہنگامہ خیز سمندر کی مانند ہے… اوپر سے لہریں بہت خوبصورت، چمکتی ہوئی، شور مچاتی ہوئی… مگر اندر کہیں گہرائی میں ایک خاموش خلا، ایک بے نام سی اداسی۔ ہر چہرہ مسکراتا ہوا دکھائی دیتا ہے، مگر کتنے دل ہیں جو ٹوٹے ہوئے ہیں، کتنی آنکھیں ہیں جو تنہائی میں بھیگ جاتی ہیں۔
آج کا نوجوان ہاتھ میں موبائل لیے پوری دنیا سے جڑا ہوا ہے، مگر اپنے گھر والوں سے کٹا ہوا ہے۔ اس کے پاس سینکڑوں کانٹیکٹس ہیں، مگر دل کی بات سننے والا شاید کوئی نہیں۔ سوشل میڈیا پر اس کی زندگی رنگین ہے، تصویروں میں قہقہے ہیں، مگر رات کے اندھیرے میں وہی نوجوان سجدے کی جگہ ڈھونڈتا ہے یا تکیے میں منہ چھپا کر رو لیتا ہے۔ وہ خود بھی نہیں سمجھ پاتا کہ اسے کیا ہو رہا ہے، کیوں دل بے چین ہے، کیوں ہر کامیابی کے بعد بھی ایک ادھورا پن رہ جاتا ہے۔
تعلیم کے میدان وسیع ہو چکے ہیں، یونیورسٹیاں بھر گئی ہیں، ڈگریوں کی فہرست لمبی ہو رہی ہے، مگر کردار کی مضبوطی کمزور پڑتی جا رہی ہے۔ علم تو بڑھ رہا ہے مگر حکمت کم ہو رہی ہے، الفاظ تو بہت ہیں مگر دلوں میں نرمی کم ہے۔ نوجوانی وہ عمر ہے جو آگ کی طرح ہوتی ہے، اگر اسے صحیح رخ مل جائے تو روشنی بن جاتی ہے، اور اگر بے لگام ہو جائے تو سب کچھ جلا دیتی ہے۔
قرآن ہمیں نوجوانی کے وہ روشن نمونے دکھاتا ہے جو رہنمائی کا چراغ ہیں۔ حضرت Yusuf علیہ السلام جوان تھے، حسین تھے، تنہا تھے، آزمائش سامنے تھی… مگر انہوں نے گناہ کے دروازے پر “معاذ اللہ” کہہ کر اپنے رب کو چُن لیا۔ یہی نوجوانی کی اصل طاقت ہے کہ خواہش سامنے ہو اور انسان اللہ کو ترجیح دے دے۔ اسی طرح Muhammad ﷺ کی جوانی پاکیزگی، سچائی اور امانت کا نمونہ تھی۔ پورا مکہ آپ کو صادق و امین کہتا تھا۔ یہ وہ نوجوانی
تھی جس نے بعد میں پوری انسانیت کی رہنمائی کی۔
انکا کیا کہنے💓یہ تو ہمارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں
اگر اُنکے نقش قدم پر چلیں تو وہ کتنا خوش ہونگیں
اور یہ ہمیں لوگوں کو سمجھانا چاہیے
آج کا نوجوان اصل میں برا نہیں ہے، وہ صرف منتشر ہے۔ اسے صحیح سمت نہیں ملی۔ اس کے دل میں بھی خیر ہے، درد ہے، امت کے لیے جذبہ ہے، مگر شور بہت زیادہ ہے اور رہنمائی کم۔ کبھی وہ کیریئر کے دباؤ میں ٹوٹ جاتا ہے، کبھی رشتوں کی الجھنوں میں، کبھی اپنے ہی گھر میں سمجھا نہ جانے کا غم اسے اندر سے کھا جاتا ہے۔ وہ مضبوط دکھنا چاہتا ہے، مگر اندر سے کمزور ہو چکا ہوتا ہے۔
نوجوانی کو صرف تنقید کی نہیں، محبت اور سمجھ کی ضرورت ہے۔ اسے یہ احساس دلانے کی ضرورت ہے کہ وہ قیمتی ہے، اس کی زندگی کا مقصد ہے، وہ محض دنیا کمانے کے لیے پیدا نہیں ہوا بلکہ رب کی رضا حاصل کرنے کے لیے آیا ہے۔ جب نوجوان اپنے رب سے جڑ جاتا ہے تو اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سکون آ جاتا ہے۔ پھر وہی موبائل اس کے لیے خیر کا ذریعہ بن سکتا ہے، وہی تعلیم امت کی خدمت کا راستہ بن سکتی ہے، وہی توانائی دین کی سربلندی کا سبب بن سکتی ہے۔
آج کی نوجوانی اگر نماز سے جڑ جائے، قرآن سے دوستی کر لے، ماں باپ کی دعاؤں کو تھام لے اور نیک صحبت اختیار کر لے تو یہی نسل امت کا فخر بن سکتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ انقلاب ہمیشہ نوجوانوں نے برپا کیے ہیں۔ اگر دل میں ایمان کی چنگاری روشن ہو جائے تو یہی نوجوان دنیا کو بدل سکتے ہیں۔
دعا ہے کہ اللہ ہماری نوجوان نسل کو فتنوں کے اس دور میں اپنے حفظ و امان میں رکھے، ان کے دلوں کو ہدایت سے بھر دے، ان کی آنکھوں کو حیا دے، ان کے قدموں کو استقامت دے اور ان کی زندگیوں کو ایسا بنا دے کہ قیامت کے دن عرشِ الٰہی کے سائے میں جگہ پائیں۔ آمین 🤍