وَالَّذِينَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُونَ "اور وہ (مومنین) جو لغو (بے مقصد) باتوں سے اعراض برتتے ہیں۔"(سورۃ المومنون: 3)فضول گوئی اور بے جا مداخلت سے پرہیز کریں ۔
کسی کی زندگی کے بند دروازوں کے پیچھے جھانکنا یا بن بلائے مشورے دینا نہ صرف اخلاقی طور پر غلط ہے بلکہ یہ آپ کی اپنی قدر میں بھی کمی لاتا ہے۔ جب تک کوئی آپ سے اپنی تکلیف یا معاملہ شیئر نہ کرے، تب تک اس سے بے خبر رہنا ہی دانشمندی اور عافیت ہے۔
نجی زندگی (Privacy) کا احترام کریں۔
آپ میں قابلیت ہے، اس میں کوئی شک نہیں، لیکن ہر جگہ اپنی قابلیت کا مظاہرہ کرنا ضروری نہیں۔ کچھ معاملات ایسے ہوتے ہیں جہاں خاموشی، مداخلت سے زیادہ بااثر ہوتی ہے۔ خود کو ہر مسئلے کا ذمہ دار سمجھ کر ذہنی اذیت میں نہ ڈالیں۔اپنی استعداد کا صحیح ادراک کریں۔
اللہ تعالیٰ نے آپ کی محنت اور قابلیت کا صلہ آپ کے لیے مقرر کر رکھا ہے۔ غیر ضروری مشقت اور دوسروں کے کاموں میں ہلکان ہونے سے منزل قریب نہیں آتی۔ اللہ پر بھروسہ رکھیں، وہ آپ کو آپ کی صلاحیت کے مطابق "منصبِ اعلیٰ" پر فائز کر دے گا۔
اپنی ذات کو اہمیت (Value) دیں۔ جو انسان اپنی قدر کرتا ہے، وہ دوسروں کی خوشیوں میں مُخل نہیں ہوتا۔ دوسروں کو سانس لینے کا موقع دیں اور اپنی زندگی میں بھی سکون کے دیٔے جلائیں۔خوش اخلاقی اور خود پسندی سے دوری بنائیں۔
اس نصیحت کا لبِ لباب نبی کریم ﷺ کی یہ حدیث مبارکہ ہے،
حدیث پاک کا مفہوم ہے کہ"مِنْ حُسْنِ إِسْلَامِ الْمَرْءِ تَرْكُهُ مَا لَا يَعْنِيهِ"
"انسان کے اسلام کی خوبی یہ ہے کہ وہ ان چیزوں کو چھوڑ دے جن سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔" (ترمذی)
یہ نصیحت نامہ ان لوگوں کے لیے ہے جو اپنی صلاحیتوں کو منتشر کرنے کے بجائے انہیں صحیح سمت میں لگانا چاہتے ہیں۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو لغویات اور دوسروں کے معاملات میں مداخلت کر نے سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے
آمین!
از قلم: زا-شیخ