انسان کی زندگی بظاہر جتنی مصروف اور منظم دکھائی دیتی ہے، اندر سے اتنی ہی بے ترتیب بھی ہو سکتی ہے۔ آج کے دور میں ہر سہولت میسر ہے، ہر آسائش موجود ہے، مگر سکون ناپید۔ زبان پر مسکراہٹ ہے مگر باطن میں اضطراب ہے
یہ اضطراب کہاں سے آتا ہے؟
دل پرسکون کیوں نہیں ہوتا؟
اس کا سبب صرف حالات نہیں، بلکہ روحانیت سے وہ دوری ہے جس نے دل کو بے قرار کر دیا ہے۔ روحانیت دراصل دل کا وہ رشتہ ہے جو اسے اپنے خالق سے جوڑتا ہے۔ جب یہ رشتہ مضبوط ہوتا ہے تو حالات کی سختی بھی انسان کو توڑ نہیں پاتی۔ لیکن جب یہی تعلق کمزور پڑ جائے تو معمولی سی بات بھی دل میں طوفان برپا کر دیتی ہے۔
قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ:
" ألا بذكر الله تطمئن القلوب "
دلوں کا اطمینان اللہ کے ذکر میں ہے۔
یہ محض ایک آیت نہیں بلکہ ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے۔ گویا دل کی بے چینی کا اصل علاج دنیا کی کسی شے میں نہیں بلکہ ذکرِ الٰہی میں پوشیدہ ہے
آج کے دور میں سوشل میڈیا کی چمک دمک، دوسروں کی زندگیوں کی نمائش، موازنہ، حسد اور مقابلہ بازی—یہ سب دل پر غیر محسوس انداز میں دباؤ ڈالتے ہیں۔ ہم دوسروں کی خوشیوں کو دیکھ کر اپنی زندگی کو کمتر سمجھنے لگتے ہیں۔ یہ احساسِ کمتری رفتہ رفتہ اضطراب میں بدل جاتا ہے۔ حالانکہ ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ ہر زندگی کا امتحان مختلف ہے، ہر چہرے کے پیچھے ایک ان کہی کہانی چھپی ہوتی ہے۔
روحانیت سے دوری کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ ہم نے عبادت کو رسم بنا لیا ہے۔ نماز ادا ہوتی ہے مگر دل حاضر نہیں ہوتا۔ تلاوت ہوتی ہے مگر سمجھنے کی کوشش نہیں کی جاتی۔ دعا مانگی جاتی ہے مگر یقین کمزور ہوتا ہے۔ جب عبادت میں روح باقی نہ رہے تو وہ جسم کی حرکت تو بن جاتی ہے مگر دل کی غذا نہیں بنتی۔ اور جب دل کو غذا نہ ملے تو وہ کمزور ہو کر اضطراب کا شکار ہو جاتا ہے۔
دل کا اضطراب صرف مذہبی مسئلہ نہیں بلکہ نفسیاتی پہلو بھی رکھتا ہے۔ جدید نفسیات بتاتی ہے کہ انسان کو اندرونی سکون کے لیے کسی بڑے مقصد سے وابستہ ہونا ضروری ہے۔ جب انسان کی زندگی کا کوئی روحانی ہدف نہ ہو تو وہ خلا محسوس کرتا ہے۔ یہ خلا ہی بے چینی کی جڑ ہے۔ روحانیت انسان کو یہ شعور دیتی ہے کہ وہ محض مادی وجود نہیں بلکہ ایک ابدی روح کا حامل ہے۔ جب انسان اپنی اصل پہچان کو بھول جائے تو وہ وقتی خوشیوں میں سکون تلاش کرتا ہے، مگر یہ خوشیاں عارضی ہوتی ہیں اور ختم ہوتے ہی دل پہلے سے زیادہ خالی محسوس ہوتا ہے
ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ سکون حاصل کرنے کے لیے سب کچھ ٹھیک ہونا چاہیے حالات سازگار ہوں لوگ وفادار ہوں وسائل کافی ہوں درحقیقت سکون حالات کا محتاج نہیں تعلق کا محتاج ہے جب تعلق مضبوط ہو جائے تو زمانے کی تند ہوائیں بھی آپ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتی
تاریخ گواہ ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے سخت ترین آزمائشوں کا سامنا کیا مگر دل کا اطمینان قائم رہا۔! کیوں؟
کیونکہ تعلق اپنے رب سے مضبوط تھا!
آج ذہنی دباؤ، ڈپریشن اور بے خوابی عام ہو چکی ہے۔ لوگ رات بھر جاگتے ہیں، سوچتے رہتے ہیں، دل کو سمجھاتے رہتے ہیں۔ مگر دل دلیل سے نہیں، یقین سے مانتا ہے اور روحانیت انسان کو امید دیتی ہے اور امید اضطراب کا سب سے بڑا علاج ہےجب انسان اس بات کا یقین رکھتا ہے اس کا رب ہر حال میں اس کے ساتھ ہے اسے دیکھ رہا ہے، سن رہا ہے، اور اس کے لیے بہتر فیصلہ کر رہا ہے یہ یقین دل کو یوں تھام لیتا ہے، جیسے خزاں رسیدہ شاخ پر اچانک بہار اتر آئے۔
روحانیت سے دوری کا ایک علامت یہ ہے کہ ہم نے اپنے اندر کی آواز کو دبانا سیکھ لیا ہے۔ ضمیر جب متوجہ کرتا ہے تو ہم خود کو مصروف کر لیتے ہیں۔ دل جب خاموشی چاہتا ہے تو ہم شور میں پناہ لے لیتے ہیں۔ ہم تنہائی سے گھبراتے ہیں، کیونکہ تنہائی میں ہمیں اپنی کمزوریاں نظر آتی ہیں حالانکہ تنہائی اگر ذکر اور تفکر کے ساتھ ہو تو یہی تنہائی انسان کو مضبوط بنا دیتی ہے
دل کا اضطراب اس وقت شدید بڑھ جاتا ہے جب انسان مستقبل کے خوف اور ماضی کے پچھتاوے میں جکڑا رہے۔ روحانیت انسان کو حال میں جینا سکھاتی ہے۔ نماز کی حالت میں انسان چند لمحوں کے لیے دنیا سے کٹ کر صرف اپنے رب کے سامنے کھڑا ہوتا ہے۔ یہ لمحے اگر شعور کے ساتھ گزارے جائیں تو دل کو ایسی ٹھنڈک عطا کرتے ہیں جو کسی اور شے سے ممکن نہیں۔
یہ کہنا درست نہیں کہ روحانیت کا مطلب دنیا کو چھوڑ دینا ہے۔ اسلام توازن کا دین ہے۔ قرآن مجید ہمیں دنیا میں رہ کر آخرت کی تیاری کا درس دیتا ہے۔ اصل مسئلہ دنیا کا ہونا نہیں، بلکہ دنیا کا دل میں بس جانا ہے۔ جب دنیا دل میں جگہ بنا لے تو روحانیت کمزور ہو جاتی ہے۔ اور جب روح کمزور ہو تو دل بےقرار ہو جاتا ہے۔
تو پھر حل کیا ہے؟
سب سے پہلے نیت کی اصلاح۔ عبادات کو بوجھ نہیں بلکہ ملاقات سمجھا جائے۔ نماز کو جلدی میں ادا کرنے کے بجائے اس کے معنی پر غور کیا جائے۔ روزانہ چند منٹ خاموشی میں بیٹھ کر اپنے دل کا جائزہ لیا جائے۔ شکرگزاری کو عادت بنایا جائے۔ دن میں کم از کم ایک بار اللہ کا ذکر شعوری طور پر کیا جائے۔ یہ چھوٹے چھوٹے اعمال دل کی دنیا بدل سکتے ہیں۔
روحانیت کی طرف واپسی ایک دن کا سفر نہیں بلکہ مسلسل جدوجہد ہے۔ کبھی دل لگے گا، کبھی نہیں لگے گا۔ کبھی آنکھیں نم ہوں گی، کبھی خشک رہیں گی۔ مگر اصل کامیابی کوشش میں ہے۔ جب انسان سچائی سے اپنے رب کو پکارے تو جواب ضرور ملتا ہے، چاہے فوراً نہ ملے۔
آخرکار، دل کا اضطراب ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ کہیں نہ کہیں کوئی خلا ہے۔ یہ بےچینی دراصل ایک دعوت ہے—اپنے اصل کی طرف لوٹ آنے کی دعوت۔ اگر ہم اس دعوت کو سن لیں، اپنے دل کی صدا پر کان دھریں، اور روحانیت کے راستے پر قدم رکھ دیں تو ممکن ہے وہی دل جو آج بےقرار ہے، کل سکون کا گہوارہ بن جائے۔
کیونکہ دل کی زمین جب ذکر سے سیراب ہو جائے تو وہاں اطمینان کے پھول کھلنے لگتے ہیں۔ اور جس دل میں اطمینان ہو، وہی اصل میں زندہ دل ہے۔
ازقلم:فاطمہ ابوالکلام 🥀