"ارے دکھاوے کیلئے نماز پڑھ رہی ہوگی"

الفاظ تھے کہ چابک جو سیدھا سینے میں جاکے پیوست ہو گئے۔
شادی ہال کے بھرے مجمع میں جہاں شور تھا، باتوں کی گونج، قہقہوں کی آوازیں، رنگین لباس، تصویریں، ہنسی مذاق سب مل کر شادی کی تقریب کو دلکش بنا رہے تھے شاید اسی کو دنیا خوشی کا موقع کہتی ہے۔
ظہر کا وقت ہو گیا تھا مگر اس شور شرابے کے بیچ اذان کی آواز شاید دب گئی تھی کانوں تک نہیں پہونچی یا شاید سب اتنا مگن تھے کہ کسی کو نماز کا خیال ہی نہیں رہا، ہاں مگر گھڑی کی سوئیاں ظہر کا وقت بتا رہی تھیں، مجمع زیادہ تھا اور چہرے اجنبی، کاش کوئی نماز کا پوچھتا تو میں بھی ساتھ میں پڑھ لیتی، وقت رفتہ رفتہ ختم ہونے لگا، گھڑی کی سوئیاں بہت تیزی سے آگے بڑھنے لگیں، دل عجیب سی کیفیت میں مبتلا ہونے لگا، کیا آج واقعی میری نماز چھوٹ جائیگی؟
کیا میرا ایمان اتنا کمزور ہے کہ اس چمکنے والی دنیا کی دھند میں میں اللہ کو بھول جاؤ؟
کیا یہ یاد نہیں کہ اس رب نے کن کن مشکل حالات سے مجھے نکالا ہے اور اب جب باری میری آئی تو میں کیوں پیچھے ہٹ رہی ہوں؟
ماضی کے سارے معجزے آپس میں گڈ مڈ ہو رہے تھے
کسی نے نماز کا ذکر نہ کیا تو میں نے ہمت جمع کر لی، ایکدم سے سارے چہرے نظر سے اوجھل ہونے لگے اور یاد تھا تو فقط اللہ۔وضو کر کے آئی قبلے کا پوچھا شاید کوئی انجان چہرہ تھا " نہیں معلوم بیٹا! یہ ہال گھر سے کافی دور ہے قبلے کا رخ نہیں معلوم"
یہ جملہ ان کی زبان سے ادا ہوۓ تو دل بے اختیار بول اٹھا: یا اللہ ! یہ کیسی آزمائش ہے؟
موبائل کی ایپلیکیشن کھولی قبلے کا رخ معلوم کیا جاۓنماز لیکر ایک کونے میں جاکر جب بچھایا اور اس پر کھڑی ہوئی تو چند لمحے قبل کا شور جیسے معدوم ہو گیا، ایسا محسوس ہو رہا تھا اب بس یہیں تک آزمائش تھی اب آگے اللہ خود گائڈ کریگا، بھرے مجمعے میں جہاں چند ہی افراد آپ کے شناسہ ہوں، اوروں کی شناخت کا آپ کو اندازہ تک نہ ہو ان کے درمیان وقت نکال کر قبلے کا رخ معلوم کرنا، جاۓ نماز بچھا کر نماز کیلئے کھڑا ہونا کتنا مشکل ہوتا ہے یہ آپ تب تک نہیں سمجھ سکتے جب تک آپ خود اس مشکل کا سامنا نا کرلیں۔
نماز شروع کر دی، تکبیر، ثناء، رکوع اور سجدہ ادا کیا، دوسری رکعت کیلئے کھڑی ہوئی یا شاید تیسری، سورہ فاتحہ کی چند آیتیں زبان سے ادا ہوئیں 
یہ کون ہے؟ دکھاوے کیلئے نماز پڑھ رہی ہے
پیچھے سے دو تین افراد کے بیچ سرگوشی ہوئی لہجہ شاید طنزیہ تھا،
الفاظ کانوں سے ٹکرا کر سیدھے دل میں اتر گئے، پورا وجود بالکل شل ہو گیا، پیر لڑکھڑانے لگے مگر کسی طرح رکوع کیا اور پھر سجدہ، آہ!!
تب پتا چلا کہ اللہ کے آگے سجدہ ریز ہونے میں جو سکون ہے وہ کہیں نہیں، ایسا لگ رہا تھا اللہ اپنے آغوش میں لے کر کہہ رہا ہو کہ فکر نہ کرو اللہ ہے نا۔
اشک آنکھوں سے بلا اختیار بہنے لگے، آواز ہچکیوں میں بدلنے لگی اور سجدہ کافی لمبا ہو گیا میری زندگی کا شاید سب سے طویل سجدہ۔
وہ چابک کی مانند جملے ابھی تک میری سماعتوں سے ٹکرا رہے تھے، وہ محض جملہ نہیں تھا بلکہ دل پر لگنے والا وار تھا، کبھی ان پر رونا آ رہا تھا اور کبھی جی کر رہا تھا ان الفاظ کے بدلے جملے کا تمانچہ ان کے منھ پر دے ماروں، ان سے کہوں کہ اگر یہ دکھاوا ہی ہے تو آپ بھی ایسے موقع پر دو رکعت دکھاوے کیلئے ہی سہی پڑھ کر دکھا دیں، اوہ کم آن! اب یہ نہ کہیئے گا کہ میں دکھاوا نہیں کرتی ہم لڑکیاں دکھاوا ہی تو کرتی ہیں چند ایسی خواتین ہی ہونگی جو یہ کام نہیں کرتیں اور جو نہیں کرتیں وہ یہ الفاظ بھی استعمال نہیں کرتیں۔
شادی کی تقریب میں، ہاسپٹل میں ایڈمٹ ہو کر، بازار میں خریداری کرتے وقت، سفر میں وہیکلس میں ادا کی گئی نمازیں کبھی بھی دکھاوے کیلئے نہیں ہو سکتیں۔
کہنے کیلئے بہت کچھ تھا مگر ذہن اس بات پر زیادہ توجہ دے رہا تھا کہ صبر کر جا، مکافاتِ عمل کا نام سنا ہے، اللہ ہے نا!
"بے شک اللہ دلوں کے بھید کو جانتا ہے"
یہ آنسو اللہ کبھی بھی رائیگاں نہیں جانے دیگا۔
نماز مکمل ہوئی تو سب کچھ پہلے جیسا ہی تھا، وہی شور شرابہ، ہنسنا، ملنا جلنا بس دل عجیب سی کیفیت میں مبتلا ہو گیا تھا کہ میں نے کیا غلط کیا تھا؟
کیا بھرے مجمعے میں خوشی کے موقع پر نماز پڑھنا جرم ہے؟ ( معاذ اللہ)
کیا خوشی کے موقع پر اللہ کو بھول جانا صحیح ہے ان کے نزدیک؟
یہ کیسا معاشرہ ہے جو نماز پڑھنے کو جرم ٹھہرا رہا ہے اور جو نماز چھوڑ کر بظاہر دلکش نظر آنے والے مناظر میں ڈھل رہے ہیں ان پر کوئی تبصرہ نہیں، کیا عبادت کرنا تماشہ ہے؟ اور جو اصل میں تماشہ ہو رہا ہے اس کی کوئی پکڑ نہیں؟
بہت سارے خیالات یکے بعد دیگرے ذہن میں آ رہے تھے مگر دل پُر سکون تھا، لگ رہا تھا کہ ہاں! اللہ کو پا لیا میں نے اور اب کچھ دیر قبل ہونے والی سرگوشی سے بالکل بھی فرق نہیں پڑ رہا تھا۔
ہر چیز کے پیچھے اللہ کی کوئی نہ کوئی حکمت ہوتی ہے اور شاید یہ بھی اسی کا حصہ تھی شاید وہی ایک تبصرہ میرا ایمان مزید مضبوط کر دے اور اس دن میں نے جان لیا کہ لوگوں کی سرگوشیاں وقتی ہوتی ہیں مگر اللہ کی رضا ابدی، اس ایک جملے نے مجھے توڑا نہیں بلکہ میرے اور میرے رب کے درمیان ایک مضبوط رشتہ جوڑ دیا، لوگوں نے اسے دکھاوا سمجھا اور میں نے اسے اپنے رب کے ساتھ وفا سمجھا، اس دن مجھے احساس ہوا کہ اصل امتحان لوگوں کے بیچ نہیں بلکہ اپنے نفس کے بیچ ہوتا ہے،
شاید وہ سرگوشی میرے صبر کی آزمائش تھی اور وہ سجدہ میری قبولیت کا لمحہ، میرا رب دلوں کے حال کو جانتا ہے یہی میرا سکون ہے۔
اب ہر مجمع، ہر موقع پر میرا سجدہ پہلے سے کہیں زیادہ پُر یقین ہو گا۔ (ان شاء اللہ)