🪶از:ح عائش✰
خوبصورت واقعہ: احترامِ روزہ
کل میں ہاسپٹل گئی۔ ہاسپٹل بھی غیر مسلم کا تھا، ڈاکٹر بھی غیر مسلم تھا، اور زیادہ تر مریض بھی غیر مسلم ہی تھے جن کے نمبر لگے ہوئے تھے۔ ہمارا بھی نمبر لگا ہوا تھا اور ہم اپنی باری کے انتظار میں بیٹھے تھے۔ اسی دوران عصر کا وقت قریب آ رہا تھا، دل میں تھوڑی سی فکر بھی تھی کہ نہ جانے کتنی دیر ہو جائے۔
اتنے میں ڈاکٹر کے کمرے سے ڈاکٹر کا اسسٹنٹ باہر آیا اس نے دروازے پر آ کر دستک دی کہ جو لوگ روزے سے ہیں وہ آ جائیں، ڈاکٹر پہلے انہیں دیکھیں گے۔
یہ سنتے ہی دل خوشی سے بھر گیا۔ بے ساختہ اس ڈاکٹر کے لیے دعائیں نکلنے لگیں۔ ایک غیر مسلم ہو کر اس نے مسلمانوں کے روزے اور عبادت کا اس قدر خیال رکھا کہ باقی تمام مریضوں کو، جن کے نمبر ہم سے پہلے تھے، مؤخر کر کے روزہ داروں کو پہلے بلا لیا۔ یہ منظر واقعی دل کو چھو لینے والا تھا۔
لیکن اسی وقت چند غیر مسلم خواتین غصے میں بول اٹھیں:
"ہاں ہاں، کیوں نہیں! بس روزے والوں کو ہی جلدی ہے، ہمیں نہیں؟"
ان کی بات میں شکوہ تھا، جو اپنی جگہ سمجھ میں آنے والا بھی تھا کیونکہ ہر شخص اپنی تکلیف اور انتظار کو زیادہ محسوس کرتا ہے۔ مگر اس سب کے باوجود ڈاکٹر کا یہ عمل میرے دل میں ایک مثبت تاثر چھوڑ گیا۔
دل کو اس بات کی بھی خوشی ہوئی کہ اب گھر پہنچنے میں دیر نہیں ہوگی اور ان شاء اللہ عصر کی نماز بھی وقت پر ادا ہو جائے گی۔ اس چھوٹے سے عمل نے دل میں بہت بڑا اثر چھوڑا۔
کل مجھے شدت سے احساس ہوا کہ اچھائی، ہمدردی اور انسانیت کسی ایک مذہب کی میراث نہیں ہوتی۔ غیر مسلم بھی بہت اچھے ہوتے ہیں۔ وہ بھی احساس رکھتے ہیں، عزت دیتے ہیں اور دوسروں کے مذہبی جذبات کا خیال کرتے ہیں۔ اصل خوبصورتی انسان کے کردار میں ہوتی ہے، اس کے دل کی نرمی میں ہوتی ہے۔
ایسے لوگ معاشرے میں محبت اور بھائی چارہ پیدا کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو جزائے خیر دے اور ہمیں بھی دوسروں کا خیال رکھنے والا بنائے۔ آمین۔