بس بہت ہو گیا نیتیش کمار کا دھوکہ اب نہیں


✍🏻 محمد عادل ارریاوی

___________________________________


کب تک ہم بھولتے رہیں گے؟ کب تک ان وعدوں پر یقین کرتے رہیں گے جو ہر الیکشن کے موسم میں ہماری گلیوں میں گونجتے ہیں اور نتیجے کے بعد خاموشی میں دفن ہو جاتے ہیں؟ نیتیش کمار وہی نام جس پر بہار کے مسلمانوں نے بھروسہ کیا امید باندھی ساتھ دیا مگر آج وہی نیتیش کمار وقف بورڈ پر حملہ آور ہیں مدرسوں پر قدغن لگا رہے ہیں اور ہماری مذہبی و تعلیمی شناخت کو مٹانے والوں کے ساتھ کھڑے ہیں یہ صرف ایک سیاسی کھیل نہیں یہ ہمارے ایمان ہماری تاریخ اور ہماری پہچان پر وار ہے۔

سوال یہ نہیں کہ نیتیش کمار نے کیا کیا سوال یہ ہے کہ ہم نے کیوں برداشت کیا؟ سوال یہ ہے کہ بہار کے اہل قلم اہل علم حضرات خصوصاً ہمارے سیمانچل کے اہل قلم اہل دانش اور اہل ایمان کیوں خاموش ہیں؟ کیا ہماری خاموشی ہی ان کی ہمت نہیں بڑھا رہی؟

بہار کے مسلمانوں سے ایک سیدھی بات اگر اب بھی ہم جاگے نہیں اگر اب بھی ہم نے ان لوگوں کو ووٹ دیا جنہوں نے وقف مسجد مدرسہ خانقاہ اور قبرستان کو نشانہ بنایا تو سمجھ لو ہم اپنی نسلوں کا مستقبل خود دفن کر رہے ہیں۔

یہ وقت سیاست نہیں ضمیر کی جنگ کا ہے یہ وقت مصلحت کا نہیں غیرت کے اعلان کا ہے نیتیش کمار کو ووٹ دینا اب صرف ایک غلطی نہیں یہ اپنے دین اپنے وقار اور اپنی شناخت سے غداری ہے اٹھو بہار کے مسلمانوں ہوش میں آؤ اپنے ضمیر سے پوچھو کیا ہم دوبارہ اسی دھوکے کے شکار بنیں گے؟

یا اس بار تاریخ بدل دیں گے؟

مختصر نہیں مکمل سوچیں۔

اللہ ربّ العزت آپ سب کا حامی و ناصر ہو آمین یارب العالمین ۔