استشراق ________ میرا مطالعہ قسط(٣)
23 فروری، 2026
!عزیز قارئین کرام تیسری قسط ملاحظہ ہو
(قسط نمبر۳
وسائل استشراق
وہ وسائل اور ذرائع جن کے ذریعے علماء مغرب (مستشرقین) اپنے اہداف و مقاصد کو پورا کرنے کی کوشش کرتے ہیں،
ان میں چند ذیل میں درج کیے جاتے ہیں ۔
کتاب ومتون
قران و سنت، فقہ و کلام،صحابہ کرام و تابعین، ائمہ کرام کی رواۃ حدیث کے ترجموں کو منحرف کرنے کی مکمل کوشش کچھ اس طرح سے کی کہ ایک ذہین و حساس آدمی جو اس موضوع پر وسیع اور گہری نظر نا رکھتا ہو، پورے اسلام سے منحرف کرنے کے لیے کافی ہے۔
ذیل میں درج اقتباس اس بات جو ثابت کرتا ہے جو وہ اپنے پڑھے لکھے حوصلہ مند اور ترقی پسند نوجوان نسل کے سامنے مختلف عنوانات سے پیش کرتے ہیں، جس کو نوجوان نسل کا ذہن ایک معقول حقیقت کی طرح قبول کرتا چلا جاتا ہے ہے۔
ایک مصری فاضل ڈاکٹر محمد البہی نے اپنی کتاب الفکر الاسلامی الحدیث ( صفحہ١٨١،١٨٤) میں پیش کیا ہے جو اکثر و بیشتر مستشرقین کی کتابوں کا قدر مشترک اور ان کے خیالات کا عکس ہے
” اسلامی معاشرہ کی وابستگی اسلام کے ساتھ صرف ایک مختصر وقفہ میں ہی مستحکم رہی ، یہ وہ تاریخی وقفہ ہےجبکہ اسلامی معاشرہ ابتائی حالت اور دور طفولیت میں تھا ، اس ابتدائی حالت اور دور طفولیت نے اس کا موقع دیا کہ انسانی زندگی اور اسلامی تعلیمات میں مناسبت اور ہم آہنگی پیدا ہو سکے لیکن اس مختصر ابتدائی وقفہ کے ختم ہوتے ہی اسلامی معاشرہ اور اسلام کے درمیان خلیج پڑ گئی، اور اسلام زندگی کی رہنمائی کا سرچشمہ نہیں رہا کلچرل، اقتصادی اور دوسرے خارجی محرکات و عوامل کے نتیجہ میں اسلامی معاشرہ کے اندر زندگی جتنی تبدیل ہوتی اور ترقی کرتی رہی اتنا ہی اسلام اس بدلتی ہوئی اور ترقی کرتی ہوئی زندگی کا ساتھ دینے سے قاصر ہوتا چلا گیا، یہ خلیج برابر وسیع ہوتی چلی گئی یہاں تک کہ خلافت اسلامی کے آخری مرکز(جدید ترکی) نے اس بات کا اعلان کردیا کہ اسلام اب عام زندگی میں دخل نہ دے سکے گا اوراس کی جگہ فرد کے ضمیر میں ہوگی اور یہ فرد بغیر کسی اعلان اورجوش کے اپنی ذات کے لیے اس کا اظہار کر سکے گا“
(اقتباس: مسلم ممالک میں اسلامیت و مغربیت کی. کشمکش از مولانا ابوالحسن علی حسنی ندوی صفحہ ۲٦٠،٢٦١)
ساتھ ہی ساتھ اخبارات ، مجلات و رسالات میں ایسے مضامین کا شائع کرنا جس کے ذریعے لوگوں کے ذہنوں کو مرعوب کیا جا سکے ، ان کے ایمانی قوت کو نقصان پہنچایا جا سکے۔۔۔
تعلیمی ادارے اور جامعات
اہل مغرب کا سب سے بڑا وسیلہ اور ذریعہ ان کی وہ جامعات(یونیورسٹی) ہیں جو مغربی ممالک میں اسلام کے نام پر بنائی گئی ہیں ، اٹھارویں اور انیسویں صدی میں مغرب کی مشہور ترین جامعات میں استشراق کے لیے شعبہ جات کا انعقاد ہوا اور لندن میں اسکول آف اورینٹل اینڈ افریقن اسٹڈیز جیسے ادارے قائم ہوئے، جو کہ مشرقی اقوام پر تحقیقات کے مراکز بن گئے ان اداروں نے نہ صرف مغربی ممالک میں بلکہ مشرقی ممالک میں بھی اپنے اثرات پھیلائے، یورپ میں مشرقی وسطیٰ کے زمانے سے ان اداروں کا قیام ہوتا رہا ہے جن میں مستشرقین عربی زبان و ادب کو سیکھ کر ان کا دیگر زبانوں سے موازنہ کرتے،
اہل مغرب نے اپنی جامعات کے دروازے تمام ممالک کے لیے کھول دیئے کہ ان کی تحقیقات وتعلیمات سے دیگر قوموں کے لیے فائدہ حاصل کرنے کے مواقع پیدا ہوں اور اس کے بعد انہیں اعلیٰ اسناد سے نوازا گیا، جس کے ذریعے وہ اپنی قوم کے لوگوں کو متاثر کر سکے اور وہ اپنے ممالک میں اہم جگہ حاصل کریں،
جس طرح مغربی ممالک اسلامی جامعات کا انعقاد کیا گیا اسی طرح مشرقی اور عرب ممالک میں مغربی جامعات کی بنیاد پر زور دیا، فرانسیسی یونیورسٹیوں نے عرب ممالک اور مشرقی ممالک میں اپنے ادارے کھولے ، اس مشن میں جرمن حکومت نے بھی اہم کردار ادا کیا۔
انہیں تعلیمی اداروں اور جامعات نے بیرون ممالک میں تعلیمی حاصل کرنے کی سرگرمی نے مشرقی ممالک اور بالخصوص مسلم ممالک سے آنے والی نوجوان اور تعلیم یافتہ نسل کو بہت متاثر کیا نئی نسل ان کے تعلیمی اداروں اور ان کے طرز زندگی سے متاثر ہوتی چلی گئی
الموسوعہ الاسلامیہ (اسلامی انسائیکلوپیڈیا )
الموسوعہ الاسلامیہ ایک وسیع ترین استشراقی موسوعاتی کام ہے،اسلامی انسائیکلوپیڈیا (دائرۃ المعارف الاسلامیہ) اسلامی تاریخ، ثقافت، اور علوم کا ایک جامع تحقیقی مجموعہ ہے، جو بنیادی طور پر انگریزی، فرانسیسی اور جرمن زبانوں میں بیسویں صدی عیسوی میں مرتب کیا گیا، یہ عالم اسلام کے جغرافیہ تاریخ و فقہ، فلسفہ اور ادب پر مشتمل ہے، اس کا اردو ترجمہ ۱۹۵۳عیسوی سے ۱۹۹۳ عیسوی کے درمیان ہوا، اسلامی انسائیکلوپیڈیا کا قیام ۱۹۹۸ عیسوی میں بین الاقوامی کانفرنس کے گیارہویں اجلاس میں ہوا ،
الیکٹرانک میڈیا
اہل مغرب کو وسائل میں سے ایک وسیلہ الیکٹرانک میڈیا بھی ہے جس نے ذریعے وہ دنیا کے ہر خطہ میں اپنے افکار و نظریات پیش کرتے ہیں اور مشرقی قوموں میں بالخصوص مسلمان طبقوں کے دلوں میں اپنے ان نظریات کو پیوست کرنے کی کوشش میں مصروف رہتے ہیں، یہ بات بھی سامنے لائی جاتی ہے کہ اسلام ایک نیا اور غیر مانوس مذہب ہے، بعد اس کے اہل مغرب کے تلامذہ جو استشراق کو مستشرقین علماء سے پڑھتے ہیں وہ عالم اسلام میں آنے کے بعد ان مقاصد کو کامیاب کرنے کی مکمل کوشش کرتے ہیں، دور موجود میں اس کی کئی مثالیں دیکھنے میں آئیں ہیں ۔۔
ان وسائل کی روشنی میں دیکھا جاسکتا ہے کہ استشراق ایک منظم تحریک تھی جس کی پشت پر علمی، سیاسی اور اقتصادی محرکات کار فرما تھے، آج بھی یہ وسائل مختلف شکلوں موجود ہیں اور ان کے آثار مسلم معاشرے پر جاری ہے۔۔
( جاری ہے)