*مختصر اتنا کہ دو لفظ سے دل بن جاتا ہے،مگر وسیع اتنا کہ اس میں دو جہاں سماتے ہیں*
کبھی آپ نے سنجیدگی سے سوچا ہے کہ انسان کی پوری زندگی آخر کس چیز کے گرد گھومتی ہے؟عقل؟ دولت؟ طاقت؟ شہرت؟نہیں، اگر گہرائی میں جائیں تو ہر کامیابی، ہر ناکامی، ہر عروج اور ہر زوال کا مرکز صرف ایک چیز ہے دل، *دو حرف دل* مگر یہی دو حرف انسان کو عرش تک لے جاتے ہیں اور یہی دو حرف اسے فرش پر گرا دیتے ہیں۔
جب ہم قرآن مجید کا گہرائی سے مطالعہ کرتے ہیں تو ایک عجیب حقیقت سامنے آتی ہے،اللہ کریم نے بار بار دل کو مخاطب کیا ہے،آپ غور کریں،اللہ نے ہاتھوں کو کیوں مخاطب نہیں کیا؟پیروں کو کیوں نہیں سمجھایا؟آنکھوں کو کیوں نہیں ڈانٹا؟بلکہ فرمایا *أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ أَمْ عَلَىٰ قُلُوبٍ أَقْفَالُهَا*(کیا وہ قرآن میں غور نہیں کرتے یا ان کے دلوں پر تالے لگے ہیں؟)تالے آنکھوں پر نہیں لگے،تالے دلوں پر لگے ہیں،پھر فرمایا *لَهُمْ قُلُوبٌ لَا يَفْقَهُونَ بِهَا*(ان کے پاس دل ہیں مگر وہ ان سے سمجھتےنہیں)سمجھنے کا مرکز دماغ نہیں بتایا،دل بتایا،کیوں؟کیونکہ دماغ دلیل دیتا ہے،مگر دل فیصلہ دیتا ہے،دماغ راستہ دکھاتا ہے،مگر دل قدم اٹھاتا ہے۔
*محمد ﷺ نے فرمایا:جسم میں ایک ٹکڑا ہے، اگر وہ درست ہو جائے تو پورا جسم درست ہو جاتا ہے وہ دل ہے* سوچئے! نبی کریم ﷺ نے اصلاح کا آغاز ہاتھوں سے نہیں کیا، زبان سے نہیں کیا،بلکہ دل سے کیا،کیوں؟کیونکہ ہاتھ وہی کرے گا جو دل چاہے گا، زبان وہی بولے گی جو دل میں ہوگا،آنکھ وہی دیکھے گی جس کی طلب دل میں ہوگی۔
*ایک چیز پر آپ نے کبھی غور کیا کہ تمام جگہوں پر کام کرنے والی لڑکیاں ہی کیوں* آج ہر بڑے پلیٹ فارم پر، میڈیا پر، اشتہارات میں، فلموں میں دنیا کے عیاش اور مکار لوگ لڑکیوں کو کیوں آگے کرتے ہیں؟کبھی غور کیا؟کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ انسان کی آنکھ سے زیادہ اثر دل پر ہوتا ہے،وہ جانتے ہیں کہ فیصلہ جیب نہیں کرتی دل کرتا ہے،اگر کسی کا دل جیت لیا جائے تو اس کی جیب خود بخود کھل جاتی ہے،اور خوشی سے پیسے دے کر بڑے اعتماد کے ساتھ کہتا ہے *اس نے دل خوش کر دیا، اس نے دل جیت لیا* کیوں؟کیونکہ اصل میدان دل کا ہے،جنگ دل پر لڑی جاتی ہے،فتح بھی دل کی ہوتی ہے، شکست بھی دل کی ہوتی ہے۔
آج کی جدید نیورو سائنس یہ بتاتی ہے کہ انسان کے جذباتی فیصلے اس کی منطقی سوچ سے زیادہ طاقتور ہوتے ہیں، تحقیقات سے ثابت ہوا ہے کہ انسان اکثر خریداری، تعلقات اور بڑے فیصلے جذبات کی بنیاد پر کرتا ہے، بعد میں دماغ ان کی توجیہ پیش کرتا ہے،یعنی پہلے دل فیصلہ کرتا ہے،پھر عقل اس کی وکالت کرتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ جذباتی اشتہارات زیادہ اثر کرتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ محبت، نفرت، خوف اور امید انسان کے رویے بدل دیتے ہیں، چودہ سو سال پہلے قرآن نے دل کو اصل مرکز بتایا،اور آج سائنس اسی حقیقت کو تجربہ گاہ میں ثابت کر رہی ہے۔
اگر سب کچھ دل پر منحصر ہے،
تو پھر سب سے زیادہ حفاظت کس کی ہونی چاہیے؟دل کی،اسی لیے قرآن کہتا ہے *إِلَّا مَنْ أَتَى اللَّهَ بِقَلْبٍ سَلِيمٍ*(کامیاب وہ ہے جو اللہ کے حضور سلامت دل لے کر آئے)دنیا کی ڈگریاں ساتھ نہیں جائیں گی،پیسے ساتھ نہیں جائیں گے،شہرت ساتھ نہیں جائے گی،مگر دل کی کیفیت ساتھ جائے گی۔
مختصر اتنا کہ صرف دو لفظ ہیں *دلِ سلیم* مگر وسیع اتنا کہ اس میں دنیا کی کامیابی بھی ہے اور آخرت کی نجات بھی، دل درست ہو تو نظر پاک ہوتی ہے،دل درست ہو تو زبان نرم ہوتی ہے،دل درست ہو تو معاشرہ سنورتا ہے،اصل انقلاب قانون سے نہیں آتا،اصل انقلاب دل سے آتا ہے،اس لیے اگر زندگی بدلنی ہے،تو حالات نہیں دل بدلنا ہوگا،اور جب دل بدل جائے،تو واقعی دونوں جہان سمٹ کر انسان کی مٹھی میں آ جاتے ہیں۔

                   *✍️متعلم الجامعۃ الاشرفیہ✍️*