بنت محمد رافع

ماہِ رمضان ہمیشہ کیوں نہ رہ جاتا…؟ 🥺

یہ سوال دل سے نکلتا ہے… جب سحری کی خاموشی میں آنکھ کھلتی ہے، جب اذانِ فجر کی آواز روح کو جگا دیتی ہے، جب افطار کے وقت دعا مانگتے ہوئے آنکھیں نم ہو جاتی ہیں… تو دل کہتا ہے:
یا اللہ! یہ مہینہ کبھی ختم نہ ہو…
رمضان اصل میں وقت کا نام نہیں… کیفیت کا نام ہے۔
یہ وہ مہینہ ہے جس میں دل نرم ہو جاتے ہیں، آنکھیں جلدی بھر آتی ہیں، قرآن سے محبت بڑھ جاتی ہے، گناہوں سے نفرت ہونے لگتی ہے، اور انسان خود کو اللہ کے بہت قریب محسوس کرتا ہے۔
مگر رمضان کا ہمیشہ نہ رہنا بھی اللہ کی حکمت ہے۔
اگر رمضان سارا سال رہتا تو شاید وہی قدر نہ رہتی… وہی تڑپ، وہی انتظار، وہی شوق نہ رہتا۔
اللہ تعالیٰ نے اسے مہمان بنا کر بھیجا ہے… تاکہ ہم اس کی قدر کریں، اس کے جانے کا غم محسوس کریں، اور اگلے رمضان تک خود کو سنبھال کر رکھیں۔
رمضان ہمیں یہ سکھانے آتا ہے کہ:
تم عام دنوں میں بھی ایسے ہی رہ سکتے ہو۔
تم بغیر کھائے پیے بھی صبر کر سکتے ہو۔
تم تہجد کے لیے جاگ سکتے ہو۔
تم قرآن کے ساتھ جُڑ سکتے ہو۔
تم گناہوں سے بچ سکتے ہو۔
رمضان ہمیشہ نہیں رہتا…
لیکن رمضان کی تربیت ہمیشہ رہ سکتی ہے۔
اصل سوال یہ نہیں کہ رمضان کیوں چلا جاتا ہے…
اصل سوال یہ ہے کہ کیا رمضان کے بعد بھی ہمارا دل ویسا ہی رہتا ہے؟
جو شخص رمضان کے بعد بھی نمازوں کی حفاظت کرے، قرآن سے تعلق رکھے، گناہوں سے بچے، صدقہ کرے، نرم دل رہے…
تو اس کے لیے پورا سال ہی رمضان بن سکتا ہے۔
رمضان ایک مدرسہ ہے…
مدرسہ ہمیشہ نہیں چلتا… لیکن اس کی تعلیم زندگی بھر ساتھ رہتی ہے۔
اللہ ہمیں ایسا دل عطا فرمائے کہ رمضان جائے مگر رمضان کی روشنی نہ جائے…
رمضان ختم ہو مگر ہمارا تعلقِ الٰہی ختم نہ ہو…
اور ہمیں بار بار اس مبارک مہینے تک پہنچائے۔
آمین یا رب العالمین 🤍