*مسلمان کمزور نہیں ہوتا*
اسلام کے دامن میں طاقت ہے اور طاقت کا راز ایمان میں پوشیدہ ہے مسلمان کمزور کبھی نہیں ہوتا کمزور تو اس وقت ہوتا ہے جب اس کے دل سے ایمان کی حرارت نکل جاتی ہے جب ایمان نہیں تھا تو عرب کے قبیلے مال و دولت نسب و شہرت سب رکھتے تھے مگر باطل کے غلام تھے دولت تھی مگر وقار نہیں طاقت تھی مگر غیرت نہیں اور جب ایمان آیا تو وہی غلام آقا بن گئے وہی ریگزاروں کے راہگیر دنیا کے رہبر بن گئے۔
یہ ایمان ہی تھا جس نے حضرت حمزہ بن عبدالمطلب کو وہ جلال بخشا کہ قریش کے غرور کو توڑ دیا، یہ ایمان ہی تھا جس نے خالد بن ولید کو سیف اللہ بنا دیا وہ تلوار جو کبھی نیام میں نہ لوٹی، یہ ایمان ہی تھا جس نے طارق بن زیاد سے کہلوایا کہ سمندر پیچھے ہے اور دشمن آگے اب واپسی کا نہیں صرف شہادت کا راستہ ہے اور کشتیوں کو جلا دیا، یہ ایمان ہی تھا جس نے سلطان صلاح الدین ایوبی کو بیت المقدس کا فاتح بنایا اور صلیبیوں کے تاج زمین پر گرادیے یہی ایمان محمد بن قاسم کے دل میں بجلی بن کر دوڑا جس نے سترہ برس کی عمر میں سندھ کی سرزمین پر اللہ کا پرچم لہرا دیا۔
اور یہی ایمان نورجہاں رابعہ بصری خنساء نسیبہ بنت کعب اور سمیہ کے دلوں میں قوت بن کر اتر آیا جس نے عورت کو دنیا کے ہر باطل کے سامنے فولاد بنا دیا حضرت خنساء نے چار بیٹے جہاد میں بھیجے اور جب سب شہید ہوگئے تو آنکھوں سے آنسو نہیں بہائے بلکہ چہرے پر مسکراہٹ کے ساتھ فرمایا الحمدللہ میرے بیٹوں نے اللہ کی راہ میں جان دی اب میں بھی کامیاب ہوں۔
حضرت نسیبہ بنت کعب وہ تھیں جو احد کے میدان میں نبی کریم ﷺ کے سامنے ڈھال بن گئیں جب مرد پیچھے ہٹے تو وہ آگے بڑھیں اور تلوار سے کفار کے سینے چاک کیے نبی ﷺ نے فرمایا جس طرف میں دیکھتا تھا نسیبہ مجھے اپنے سامنے نظر آتی تھیں یہ ایمان ہی تھا جس نے حضرت سمیہ کو ظالم ابو جہل کے نیزے پر بھی کلمہ چھوڑنے نہ دیا اور وہ اسلام کی پہلی شہیدہ بنیں جنہوں نے بتا دیا کہ ایمان والی عورت کمزور نہیں وہ پوری امت کا فخر ہے۔
مسلمان جب ایمان پر قائم رہا تو فقر میں بھی فاتح رہا اور جب ایمان سے خالی ہوا تو دولت کے باوجود مغلوب ہوگیا آج بھی اگر امت اپنے سینوں میں خالد کا حوصلہ صلاح الدین کا یقین خنساء اور سمیہ کا صبر پیدا کرلے تو دنیا کی کوئی طاقت اسلام کا چراغ بجھا نہیں سکتی۔
اسلام نے کمزور ہونا نہیں سکھایا ہے اسلام میں جو آ گیا وہ اگر وقت کا فقیر بھی ہے تو کسی کافر بادشاہ سے کروڑوں درجہ طاقتور ہے حضرت بلالؓ غلام تھے مگر ان کی اذانوں سے قیصر و کسریٰ کے ایوان لرز اٹھے حضرت ابوذرؓ کے پاس مال نہیں تھا مگر ان کی زبان سے حق کے تیروں نے باطل کے سینے چیر دیے حضرت علیؓ کے جسم پر زرہ نہیں تھی مگر ان کے بازو میں ایمان کا جوش تھا جس نے پہاڑوں کو بھی ہلا دیا مسلمان کبھی کمزور نہیں ہوتا وہ دنیا کے سامنے نہیں جھکتا بلکہ دنیا اس کے کردار کے سامنے سر جھکاتی ہے۔
*✍️متعلم الجامعۃ الاشرفیہ✍️*