دل کیا ہے۔۔۔
مختصر اتنا کہ دو لفظوں سے بن جاتا ہے دل
اور وسیع اتنا کہ اسمیں دو جہاں کے راز ہوتے ہیں
یوں تو یہ گوشت کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا ہے
لیکن یہ ایک عجوبہ ہے.
سادہ بھی ہے، عیار بھی ہے،
مغرور بھی ہے، خاکسار بھی بے
خبر بھی ہے، محرم اسرار بھی
بت کا بندہ بھی ہے، خالق کا پرستار بھی
مجلس عشق میں دیکھے تو مدہوش ہوتا ہے، عقل کی محفل میں دیکھیں تو ہوشیار بھی ہے، مسیحا بھی ہے بیمار بھی ہے،
گل بھی ہے، خار بھی ہے،
امن کا مرکز بھی ہے، برسر پیکار بھی طاقتور بھی ہے،
لاچار بھی قتیل بھی ہے، تلوار بھی مجبور بھی ہے،
مختار بھی مستحق جنت بھی ہے، اور دوزح کا سزاوار بھی۔
یہ بظاہر مٹھی بھر گوشت ہے، مگر معنوں میں ایک پوری
کائنات سموئے ہوئے ہے۔
یہ خاموش بھی ہے اور بولتا بھی بہت ہے…
چپ بھی رہتا ہے اور چیخ بھی اٹھتا ہے۔
یہ وہ آئینہ ہے جس میں انسان اپنی اصل صورت دیکھ سکتا ہے۔
اگر نیت صاف ہو تو یہ نور سے بھر جاتا ہے،
اور اگر خواہشیں غالب آ جائیں تو دھندلا سا ہو جاتا ہے۔
یہ وفا کا امین بھی ہے اور جفا کا سبب بھی۔
یہ صبر کا پیکر بھی ہے اور بے قراری کی انتہا بھی۔
کبھی دعا بن کر لبوں تک آتا ہے،
کبھی آہ بن کر سینے میں ہی رہ جاتا ہے۔
یہی دل ہے جو ٹوٹ کر بھی جینے کا حوصلہ دیتا ہے،
اور یہی دل ہے جو ذرا سی ٹھوکر پر بکھر بھی جاتا ہے۔
یہ سمندر کی طرح گہرا بھی ہے،
اور شیشے کی طرح نازک بھی۔
یہ رازوں کا خزانہ بھی ہے اور احساسوں کا نگہبان بھی۔
یہ محبت میں جھکنا جانتا ہے،
اور انا میں اکڑنا بھی۔
اگر اسے ذکر کی خوشبو مل جائے تو مہک اٹھتا ہے،
اور اگر غفلت کی گرد چھا جائے تو ویران ہو جاتا ہے۔
دل دراصل ایک امانت ہے —
جسے سنبھال لیا جائے تو زندگی سنور جاتی ہے،
اور اگر اسے خواہشوں کے حوالے کر دیا جائے تو انسان خود سے بھی دور ہو جاتا ہے۔
دل ہی انسان کی عزت بھی ہے،
اور دل ہی اس کی آزمائش بھی…
عائشہ ❤ ✨