*سحر و افطار کے دسترخوان سے روحانی لذتوں تک خواتین کی ذمہ داریاں*
ماہِ رمضان المبارک اللہ تعالیٰ کی خاص رحمتوں، برکتوں اور مغفرتوں کا مہینہ ہے، جس میں ایمان کو تازگی اور دلوں کو نئی زندگی عطا ہوتی ہے۔ یہی وہ مہینہ ہے جس کے آغاز پر اللہ تعالیٰ بندوں کو مخاطب کر کے فرماتے ہیں:
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ﴾
یہ آیت واضح کر دیتی ہے کہ روزے کا اصل مقصد صرف بھوکے پیاسے رہنا نہیں ہے، بلکہ تقویٰ کا حصول ہے۔ رمضان انسان کی زندگی میں ایک سالانہ تربیتی نظام کی حیثیت رکھتا ہے، جس میں روح، عقل اور کردار تینوں کی اصلاح مقصود ہوتی ہے۔ خواتین چونکہ گھریلو نظام کی بنیاد اور نسلوں کی پہلی معلمہ ہوتی ہیں، اس لیے رمضان میں ان کا کردار غیر معمولی اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے رمضان کو قرآن کے ساتھ خصوصی نسبت عطا فرمائی:
﴿شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ هُدًى لِّلنَّاسِ﴾
رمضان کا مہینہ جس میں قرآن مجید نازل کیا گیا جو لوگوں کیلیے ہدایت ہے۔
یہ اعلان اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ رمضان کا اصل پیغام ہدایت، فہمِ دین اور تعلق باللّہ ہے۔ خواتین اگر اس مہینے کو صرف باورچی خانے کی مصروفیات تک محدود کر لیں تو وہ اس عظیم پیغام سے محروم رہ جاتی ہیں، لیکن اگر وہ سحر و افطار کے انتظام کو عبادت کی نیت کے ساتھ انجام دیں اور ساتھ ہی اپنے دل کو قرآن سے جوڑ لیں تو یہی معمولات روحانی لذتوں میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ کچن کے کاموں کی ترتیب کے ساتھ قرآن کی ترتیب اولین ترجیح ہونی چاہیے، حافظہ خواتین کام کرتے کرتے بھی قرآن کا ورد کرسکتی ہے، غیر حافظہ خواتین اپنے فون میں تلاوت لگا کر رکھیں اسکو سنتی رہے، اور بچوں کو بھی پڑھنے اور سننے کی ترغیب دے۔
*سحر کا وقت: برکت، بیداری اور استغفار*
سحر کا وقت اللہ تعالیٰ کی خاص قربت اور رحمت کا وقت ہے۔ نبی کریم ﷺ نے اس وقت کی اہمیت کو یوں بیان فرمایا:
“تَسَحَّرُوا فَإِنَّ فِي السُّحُورِ بَرَكَةً” سحر کرو اسلیے کہ سحر میں برکت رکھی گئی ہے۔
سحری میں برکت صرف کھانے میں نہیں بلکہ اس وقت کی روحانی کیفیت میں پوشیدہ ہے۔ خواتین کی ذمہ داری ہے کہ وہ سحر کو محض ایک رسمی عمل نہ بنائیں بلکہ اس وقت کی قدر پہچانیں، سحری کے پکوان سے کچھ وقت پہلے جاگے اور پہلے کچھ رکعت نماز ، کچھ تلاوت اور کچھ ذکر کرکے پھر کاموں کو انجام دیں، گھر والوں کو نرمی اور محبت سے جگائیں، اور انہیں بھی چند لمحے اللّہ کے حضور جھکنے کی ترغیب دیں۔
قرآن کریم اہلِ ایمان کی ایک خاص صفت یوں بیان کرتا ہے:
﴿وَبِالْأَسْحَارِ هُمْ يَسْتَغْفِرُونَ﴾ اور وہ سحر کے وقت اللہ سے مغفرت مانگتے ہیں۔
سحر کے لمحات میں استغفار دل کی سختی کو نرم اور آنکھوں کو نم کر دیتا ہے۔ گھریلو ذمہ داریوں کے باوجود اگر ایک عورت چند لمحے استغفار اور دعا کے لیے نکال لے تو یہی عمل اس کے پورے دن میں برکت کا سبب بن جاتا ہے۔
اس وقت کی مسنون دعا:
“اللَّهُمَّ إِنَّكَ عَفُوٌّ تُحِبُّ العَفْوَ فَاعْفُ عَنِّي” اے اللّہ بے شک آپ معاف کرنے والے ہیں، معافی کو پسند کرتے ہیں پس مجھے بھی معاف کردیجیے۔
یہ دعا مومن کے دل میں عاجزی، امید اور رب سے قرب کا احساس پیدا کرتی ہے، جو رمضان کی اصل روح ہے۔
*افطار کا دسترخوان: شکر، دعا اور اعتدال*
افطار وہ لمحہ ہے جب بندہ اللہ کے حکم پر صبر کے ایک طویل مرحلے کو مکمل کرتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے اس لمحے کی عظمت یوں بیان فرمائی:
“لِلصَّائِمِ عِندَ فِطْرِهِ دَعْوَةٌ لَا تُرَدُّ” روزہ دار کے لیے افطار کے وقت ایک دعا ہوتی ہے جو رد نہیں کی جاتی۔”
یہ قبولیت کا وقت ہے، لیکن افسوس کہ اکثر گھروں میں یہ لمحہ شور، جلدی اور کھانوں کی کثرت میں ضائع ہو جاتا ہے۔ اس وقت خواتین پر دوہری ذمہ داری عائد ہوجاتی ہیکہ اپنی عبادتوں کے ساتھ ساتھ افطار و عشائیہ کا اہتمام بھی کرے، ایسے میں خواتین کو چاہیے کہ کاموں کیلیے نظام الاوقات ترتیب دے، اور افطار سے پہلے دعا کی فضا قائم کریں، خاموشی اور توجہ کے ساتھ چند لمحے اللہ کی طرف متوجہ ہوں، تو یہی وقت روحانی سرور میں بدل سکتا ہے۔ ایک طرف روزہ داروں کیلیے پکوان کرنے کا ثواب تو دوسری طرف افطار کے وقت دعا مانگنے کا ثواب بھی حاصل ہوجایے گا۔
افطار کی مسنون دعائیں:
“اللَّهُمَّ لَكَ صُمْتُ وَعَلَى رِزْقِكَ أَفْطَرْتُ”
اور
“ذَهَبَ الظَّمَأُ وَابْتَلَّتِ العُرُوقُ وَثَبَتَ الأَجْرُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ”
ساتھ ہی قرآن کا یہ حکم ہمیشہ پیشِ نظر رہے:
﴿وَلَا تُسْرِفُوا إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الْمُسْرِفِينَ﴾ اور اسراف نہ کرو یقیناً اللہ تعالیٰ اسراف کرنے والے کو پسند نہیں کرتا۔
سحر اور افطار کے دسترخوان میں فضول خرچی نہ کرے، سادگی، قناعت اور شکرگزاری وہ اوصاف ہیں جو افطار کے دسترخوان کو عبادت میں بدل دیتے ہیں، دسترخوان سادہ ہو مگر دل شکر سے لبریز ہو تو وہ زیادہ بابرکت ہوتا ہے۔
اور یہی خواتین کے حسنِ تدبیر کا اصل میدان ہے۔
*گھر کا ماحول: عبادت گاہ کی تشکیل*
رسول اللہ ﷺ نے گھریلو ذمہ داریوں کو ایک امانت قرار دیتے ہوئے فرمایا:
“كُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ”
خاتونِ خانہ اپنے گھر کی روح ہوتی ہے۔ اس کی نماز، اس کا لہجہ، اس کا صبر اور اس کی ترجیحات پورے گھر کے مزاج کو تشکیل دیتی ہیں۔ رمضان میں اگر وہ عبادتوں کے ساتھ اخلاق کی نرمی کو اپنا شعار بنا لے تو یہ اثر لاشعوری طور پر بچوں اور گھر والوں کے دلوں میں منتقل ہو جاتا ہے۔
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿قُوا أَنفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا﴾ اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو آگ سے بچاؤ۔
یہ آیت خواتین کو یاد دلاتی ہے کہ ان کی ذمہ داری محض جسمانی پرورش نہیں بلکہ روحانی حفاظت بھی ہے۔
*نیت، صبر اور خدمت کا مقام*
رمضان کی اصل روح نیت کی پاکیزگی میں پوشیدہ ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
“إِنَّمَا الأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ” سارے اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہیں۔
اگر ایک عورت پکوان کرتے ہوئے، صفائی کرتے ہوئے یا گھر والوں کی خدمت کرتے ہوئے یا دیگر گھریلو امور میں اللّہ کی رضا کو پیشِ نظر رکھے تو یہی اعمال اس کے لیے اعلیٰ درجے کی عبادت بن جاتے ہیں۔ صبر، برداشت اور خاموش خدمت رمضان میں عورت کے کردار کو مزید باوقار بنا دیتی ہے۔
*دعا، توبہ اور روحانی لذتیں*
رمضان مغفرت کا وعدہ لے کر آتا ہے۔ نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے:
“مَنْ صَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِن ذَنبِهِ”
جس نے رمضان کے روزے رکھے ایمان اور ثواب کی امید کے ساتھ تو اسکے گذرے گناہ معاف کردیے جاتے ہیں۔
یہ مہینہ ہر مومن کے لیے اپنی ذات، اپنی اولاد اور پوری امت کے لیے دعا کا خاص موقع ہے۔ خواتین کو خصوصاً چاہیے کہ وہ اپنی اولاد کیلیے شوہروں کے لیے دعا کریں۔
قرآنی دعا:
“رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّاتِنَا قُرَّةَ أَعْيُنٍ”“اے ہمارے رب! ہمیں ہمارے جوڑ اور ہماری اولاد کی طرف سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما، اور ہمیں پرہیزگاروں کا پیشوا بنا دے۔”
اس دعا کو بھی ہر نماز کے بعد پڑھتی رہے،
یہ دعائیں دل کو نرم اور زندگی کو بامقصد بنا دیتی ہیں، اور یہی وہ روحانی لذت ہے جو سحر و افطار کے ظاہری نظام سے کہیں آگے کی چیز ہے۔
یوں ماہِ رمضان خواتین کے لیے صرف دسترخوان سجانے کا مہینہ نہیں بلکہ دلوں کو سنوارنے کا موسم ہے۔ اگر سحر تلاوت و اذکار سے، افطار دعا سے، دن صبر سے اور رات عبادت سے آراستہ ہو جائے تو ایک عام سا گھر بھی نورِ ایمان کا مرکز بن سکتا ہے۔ یہی رمضان کا پیغام ہے، اور یہی خواتین کی خاموش مگر عظیم ذمہ داری ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں رمضان کی حقیقت سمجھنے، اس کے اوقات کی قدر کرنے اور اپنی ذمہ داریوں کو اخلاص کے ساتھ ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
🖋️*حمیرہ امرین*