ہمیشہ ہم سوچتے ہیں کہ انگریز ہم سے زیادہ اگے کیوں ہیں؟
ان کے پاس اتنے زیادہ وسائل ہیں وہ ٹیکنالوجی میں ہم سے اگے ہیں۔
کبھی یہ سوچا کہ صحابہ کے مقابلے میں ہمارے پاس وسائل کتنے زیادہ ہیں؟
ہم ہمیشہ اپنا موازنہ گوروں سے کرتے ہیں
پھر چاہے وہ بات ایک شخصیت سازی کی ہو تب بھی ہمارے پاس گوروں کے علاوہ کوئی ماڈل نہیں؟
کیا کبھی ہم نے یہ سوچا ہے کہ گورے کس سے انسپائر ہیں ؟
وہ کن کو ہمیشہ سے اس سٹڈی کرتے آئے ہیں؟
حیرت کی بات ہے کہ یہی انگریز قوم پہلے عربوں سے زیادہ بدو جاہل تھی ۔
اور بہت زیادہ خستہ حال تھی ، ان سے زیادہ کم علم ، اور کم عقل تھی ، انہوں نے ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے تعلیمات کو باقاعدہ ریسرچ کر کے دیکھا ، سیکھا ،پرکھا اور پھر اپنے اندر سمویا۔
انہوں نے ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات سے اپنی زندگیاں اندھیروں سے روشنیوں میں ڈھالیں۔
ان کی پوری زندگی کو کھنگالا۔آج بھی ان کی کتابوں کے اندر دنیا کے عظیم ترین انسانوں کی لسٹ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام سر فہرست ہے۔کیوں ؟
کیوں کہ انہوں نے صحیح جگہ سے inspiration حاصل کرلی اور وہ کامیاب ہوگںٔے ۔
الحمدللہ ہم مسلمان ہیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی ہیں ان کی نسبت ہمارا تعلق اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ قریبی اور گہرہ ہےپھر ہم کیوںinspirationحاصل نہیں کرسکے ؟
صحابہ کرام کو اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رول ماڈل کے طور پر تیار کیا تاکہ امت ان کے نقش قدم پر چلے
لیکن ہم میں سے کتنے لوگوں نے صحابہ رضی اللہ عنہ کی زندگیوں کا مطالعہ کیا ہوگا اور انہیں اپنی زندگی کے ہر پہلو میں اپنانے کی کوشش کی ہوگی۔

محنت کی دھوپ سہہ لو تو سایہ نصیب ہے 
کامیابی انہیں کو ملتی ہے جو ثابت قدم ہیں 🌟✨

آںٔیں اور ہم سب مل کے اپنا محاسبہ کریں ‌

انمول ✍️