🖋️بنتِ ابوالخیر اعظمیؔ
رمضان کی شام جب افقِ مغرب پر سرخی بکھیرتی ہے اور مؤذن کی صدا فضا میں تحلیل ہو کر دلوں میں اترتی ہے، تو افطار کا لمحہ صرف بھوک و پیاس کے خاتمے کا اعلان نہیں ہوتا بلکہ صبر کی معراج اور شکر کی ابتدا کا استعارہ بن جاتا ہے۔ دسترخوان پر سجی نعمتیں، کھجور کی مٹھاس، پانی کی شفافیت اور دعاؤں کی سرگوشیاں سب مل کر ایک نورانی کیفیت پیدا کرتے ہیں۔ مگر اسی روحانی تسکین کے بعد ایک اور لطیف سی طلب دل کے دریچوں پر دستک دیتی ہے چائے کی طلب۔
افطار کے بعد چائے کے طلبگار ایک عجیب کیفیت میں ہوتے ہیں۔ گویا ان کے لیے افطار اُس وقت تک مکمل نہیں ہوتا جب تک چائے کا کپ ہاتھ میں نہ آ جائے۔ دسترخوان سمیٹا جا رہا ہوتا ہے، برتن دھل رہے ہوتے ہیں، مگر ان کی نظریں کیتلی کی سمت لگی ہوتی ہیں۔ کوئی دھیرے سے کہتا ہے
“چائے بن رہی ہے نا؟”
اور کوئی مسکراتے ہوئے جواب دیتا ہے
“بس ابھی لے آئی!”
یہ طلب عادت کی اسیری نہیں بلکہ لمحے کو مکمل کرنے کی خواہش ہے۔ گویا افطار کی داستان کا آخری باب چائے کی چسکی پر رقم ہوتا ہے۔ پہلا گھونٹ حلق سے اترتے ہی دن بھر کی مشقت جیسے تحلیل ہو جاتی ہے، گفتگو کے سلسلے جڑ جاتے ہیں، اور چہروں پر طمانیت کی روشنی پھیل جاتی ہے۔ چائے یہاں راحت کا استعارہ بن جاتی ہے تھکن کے مداوا کا، اور اپنائیت کے احیا کا۔
لیکن اگر اس منظر کو باطن کی آنکھ سے دیکھا جائے تو اس میں ایک لطیف سبق بھی پوشیدہ ہے۔ جس اشتیاق سے ہم چائے کے لیے منتظر رہتے ہیں، کیا اسی اشتیاق سے ہم ذکر و دعا کے بھی طلبگار ہیں؟ جس طرح کیتلی کے اُبال کا انتظار ہمیں بےقرار رکھتا ہے، کیا اسی طرح سجدوں کی حرارت اور تلاوت کی لذت کے لیے بھی دل بےتاب ہوتا ہے؟ اگر یہ بےتابی عبادت کی سمت مڑ جائے تو رمضان کی حقیقت اور بھی نکھر اٹھے۔
افطار کے بعد چائے کے طلبگار ہمیں یہ بھی یاد دلاتے ہیں کہ زندگی کی بڑی خوشیاں اکثر چھوٹے لمحوں میں پوشیدہ ہوتی ہیں۔ ایک سادہ سی پیالی میں راحت، رفاقت اور شکر کا ذائقہ گھلا ہوتا ہے۔ یہی رمضان کا پیغام ہے سادگی میں سرور، قناعت میں کشادگی، اور ہر نعمت میں رب کی عطا کا اعتراف۔
پس چائے کی چسکی لیجیے، مگر اس کے ساتھ دل کو بھی ذکر کی حرارت سے گرمایئے۔ تاکہ جسم کی تازگی کے ساتھ روح کی بالیدگی بھی نصیب ہو، اور افطار کا لمحہ صرف معدے کی سیرابی نہیں بلکہ دل کی سیرابی کا سبب بن جائے۔ ☕