رمضان المبارک: رحمت و مغفرت کے انمول خزانے اور ان کی کنجیاں
روزہ دار ہمیشہ اس تلاش میں رہتے ہیں کہ انہیں ایسے قیمتی خزانے میسر آئیں جن سے وہ اپنی روز مرہ زندگی کو بہتر بنا سکیں، اور رمضان المبارک میں تو یہ جستجو مزید بڑھ جاتی ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ روحانی فائدہ حاصل کیا جا سکے۔ یہ خزانے سونے چاندی کے نہیں بلکہ خیر، رحمت، مغفرت اور برکت کے انمول ذخائر ہیں۔ اللہ تعالیٰ اپنے روزہ دار بندوں کو یہ عظیم نعمتیں ماہِ رمضان میں اس لیے عطا فرماتا ہے تاکہ وہ زندگی کے ہر موڑ پر ان سے رہنمائی اور تقویت حاصل کر سکیں۔ آپ جانتے ہیں کہ جہاں خزانے ہوتے ہیں وہاں ان کی حفاظت کا بھی خاص انتظام کیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ خزانے بھی مضبوط تالوں میں بند رکھے گئے ہیں اور ان کے کھلنے کے لیے مخصوص کنجیاں درکار ہوتی ہیں۔ خیر و رحمت اور بخشش و برکت کے ان خزانوں کی کنجیاں روزوں کے اندر پوشیدہ رکھی گئی ہیں۔ جس نے ان کنجیوں کو پا لیا، گویا اس نے ان بیش بہا خزانوں تک رسائی حاصل کر لی، کیونکہ جب کنجیاں ہاتھ میں ہوں تو تالوں کو کھولنا کوئی مشکل کام نہیں رہتا۔
آئیے، انہی خزانوں اور ان کی کنجیوں پر کچھ سنجیدگی سے غور کریں تاکہ ہم اس بابرکت مہینے سے بھرپور فائدہ اٹھا سکیں اور اپنی دنیا و آخرت کو سنوار سکیں۔

پہلی کنجی: بے حد و حساب اجر
روزہ دار کے لیے ضروری ہے کہ وہ روزے کی عظمت اور اس کے بے مثال اجر و ثواب کو اچھی طرح سمجھے اور اسے حاصل کرنے کی بھرپور کوشش کرے۔ یہ بات ذہن میں رہنی چاہیے کہ جس عمل کا اجر جتنا زیادہ ہوتا ہے، اس کے آداب اور تقاضے بھی اتنے ہی بلند ہوتے ہیں۔ اسی حقیقت کی وضاحت حضرت ابو ہریرہؓ کی روایت سے ہوتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ ابنِ آدم کا ہر عمل اسی کے لیے ہے، سوائے روزے کے، کیونکہ روزہ خاص میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ عطا کروں گا۔ روزہ انسان کے لیے ایک مضبوط ڈھال ہے، لہٰذا جب تم میں سے کوئی روزہ رکھے تو وہ بے ہودہ باتوں، گالی گلوچ اور شور و شغب سے بچے۔ اگر کوئی اس سے جھگڑا کرے یا بدزبانی کرے تو وہ نرمی سے کہہ دے کہ میں روزہ دار ہوں۔ اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں محمد ﷺ کی جان ہے، روزہ دار کے منہ کی بو اللہ تعالیٰ کے نزدیک کستوری کی خوشبو سے بھی زیادہ پسندیدہ ہے۔ روزہ دار کے لیے دو خوشیاں مقرر کی گئی ہیں: ایک افطار کے وقت، جب وہ روزہ کھولتا ہے، اور دوسری اس وقت جب وہ اپنے رب کے حضور پیش ہوگا اور اپنے روزے کی بدولت خوشی محسوس کرے گا (متفق علیہ)۔ یہ روایت بخاری میں اس طرح آئی ہے، جبکہ ہدایت میں یہ الفاظ بھی ملتے ہیں کہ ’’وہ اپنی خواہشات اور کھانے پینے کو صرف میری رضا کے لیے ترک کرتا ہے‘‘۔
روزے کی فضیلت اور اس کے عظیم اجر کے بارے میں نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے: ’’جس شخص نے ایمان اور خلوص کے ساتھ رمضان کے روزے رکھے، اس کے پچھلے تمام گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں‘‘ (بخاری ومسلم)۔ اسی طرح آپ ﷺ نے فرمایا: ’’جس نے ایمان و احتساب کے جذبے کے ساتھ رمضان کی راتوں میں قیام کیا، اس کے گزشتہ گناہ بخش دیے جاتے ہیں‘‘ (مسلم)۔ مزید ارشاد فرمایا: ’’جنت میں ایک خاص دروازہ ہے جسے ریّان کہا جاتا ہے، قیامت کے دن اس دروازے سے صرف روزہ دار ہی داخل ہوں گے، ان کے علاوہ کوئی اور اس میں سے گزرنے کا حق دار نہ ہوگا۔ اعلان کیا جائے گا: روزہ دار کہاں ہیں؟ چنانچہ وہ کھڑے ہوں گے اور اسی دروازے سے جنت میں داخل ہوں گے، پھر وہ دروازہ بند کر دیا جائے گا اور کوئی دوسرا اس میں سے داخل نہ ہو سکے گا‘‘ (بخاری ومسلم)۔ اسی طرح حضور اکرم ﷺ نے فرمایا: ’’جب رمضان آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں اور شیاطین کو قید کر دیا جاتا ہے‘‘ (بخاری ومسلم)۔
روزے کے اجر و ثواب کی یہ عظمت اور شان جب روزہ دار کے دل میں جاگزیں ہو جاتی ہے تو اس کے اندر اس اجر کے حصول کی شدید خواہش بیدار ہو جاتی ہے، جو اسے مزید محنت، لگن اور جدوجہد پر آمادہ کرتی ہے۔ چنانچہ وہ اپنے تمام اعمال میں شریعت کے آداب کی مکمل پاسداری کرتا ہے اور اپنی زندگی کو رسولِ اکرم ﷺ کی سنت کے مطابق ڈھالنے کی بھرپور کوشش کرتا ہے۔

دوسری کنجی: تقویٰ
روزے کا بنیادی مقصد تقویٰ پیدا کرنا ہے، اس لیے روزہ دار کو یہ سمجھنا چاہیے کہ روزے اور تقویٰ کے درمیان کس قدر گہرا اور مضبوط تعلق ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کیے گئے ہیں، جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے، تاکہ تم میں تقویٰ کی صفت پیدا ہو‘‘ (البقرۃ: 183)۔ اس آیتِ مبارکہ سے واضح ہوتا ہے کہ روزے کی اصل روح اور اس کا حقیقی ہدف انسان کے اندر تقویٰ کو پروان چڑھانا ہے۔
تقویٰ کے نہایت سادہ اور جامع معنی یہ ہیں کہ انسان وہاں نہ جائے جہاں اللہ تعالیٰ نے جانے سے منع فرمایا ہو اور جہاں رہنے کا حکم دیا ہو وہاں سے غفلت اختیار نہ کرے۔ دوسرے لفظوں میں تقویٰ یہ ہے کہ روزہ دار پوری ہوشیاری اور ذمہ داری کے ساتھ اپنی عبادت اور اپنے اخلاق کی حفاظت کرے، تاکہ کوئی ایسا عمل سرزد نہ ہو جائے جو اس کی نیکیوں کو ضائع کر دے۔ جب انسان عبادت کے آداب اور شریعت کے تقاضوں کا اہتمام کرتا ہے تو وہ گناہوں اور نافرمانی سے محفوظ رہتا ہے۔ رفتہ رفتہ یہ احتیاط اور پرہیز اس کی عادت بن جاتی ہے، جس کے نتیجے میں اس کی زندگی سنور جاتی ہے اور بہتر سے بہترین رخ اختیار کر لیتی ہے۔ اور اگر کبھی لغزش ہو بھی جائے تو وہ فوراً سچی توبہ کر کے خود کو گناہوں کی آلودگی سے پاک کر لیتا ہے۔
جب انسان روزے کی اصل روح اور اس کی حقیقی حقیقت کو پا لیتا ہے تو وہ تقویٰ کے حصول کے لیے پوری سنجیدگی اور دل جمعی کے ساتھ کوشش کرنے لگتا ہے۔ روزہ محض بھوک اور پیاس برداشت کرنے یا خواہشاتِ نفس سے وقتی طور پر رک جانے کا نام نہیں، بلکہ اس کا مقصد انسان کو گناہ و معصیت کی تاریکی سے بچانا اور اسے ضبطِ نفس اور اطاعت کا خوگر بنانا ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے اس حقیقت کو نہایت بلیغ انداز میں یوں واضح فرمایا: ’’جو شخص جھوٹی بات کہنا اور اس پر عمل کرنا نہیں چھوڑتا، تو اللہ تعالیٰ کو اس کے کھانا پینا ترک کرنے کی کوئی حاجت نہیں‘‘ (بخاری)۔
پس اگر روزہ دار کو تقویٰ کی یہ کنجی نصیب ہو جائے تو وہ ایک ایسے عظیم روحانی خزانے کا حق دار بن جاتا ہے جو قیامت کے دن اس کے نامۂ اعمال کو نور، حسن اور تابانی سے بھر دے گا اور اس کی نجات و سرخروئی کا سبب بنے گا۔

تیسری کنجی: تعمیرِ سیرت و کردار
ذرا اس نکتے پر سنجیدگی سے غور کیجیے کہ روزے صرف ’’چند دنوں‘‘ یعنی ایک پورے مہینے کے لیے کیوں مقرر کیے گئے ہیں؟ یہ مدت نہ اس سے کم رکھی گئی اور نہ زیادہ، اس کے پیچھے گہری حکمتیں پوشیدہ ہیں۔ اس غور و فکر سے روزہ دار پر روزے کی اصل غرض و غایت، یعنی تقویٰ کی حقیقت واضح ہو جاتی ہے۔ ساتھ ہی یہ بات بھی آشکار ہوتی ہے کہ عبادت کا انسانی ارادے سے نہایت مضبوط تعلق ہے، کیونکہ انسان جن اعمال اور عبادات کا عادی بن جاتا ہے، انہیں اختیار کرنا یا چھوڑ دینا اسی کے پختہ ارادے پر منحصر ہوتا ہے۔ روزہ دار فجر سے مغرب تک اپنی بنیادی ضروریات ترک کر دیتا ہے اور اپنی روزمرہ عادات میں نمایاں تبدیلی پیدا کرتا ہے۔ عادت کو بدلنا کوئی آسان کام نہیں، بلکہ اس کے لیے مسلسل مشق، صبر اور وقت درکار ہوتا ہے۔ اسلامی شریعت میں انسانی ارادے کو بڑی اہمیت دی گئی ہے، کیونکہ جس شخص میں مضبوط ارادہ نہ ہو وہ اپنی ذمہ داریوں کو نبھانے سے قاصر رہتا ہے۔ حضرت علیؓ نے انسانی ذمہ داری کی حقیقت کو یوں بیان فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ نے کسی کو زبردستی مکلف نہیں بنایا، نہ انبیا کو بے مقصد بھیجا، بلکہ اس نے حکم دیا اختیار کے ساتھ اور منع فرمایا تنبیہ اور ڈراوے کے ساتھ۔‘‘
جب انسان اپنی بری عادات کو چھوڑ کر اچھی اور پسندیدہ عادات اپنا لیتا ہے، اپنے نادرست طرزِ عمل کو درست راہ پر لے آتا ہے اور اپنے کردار کو سنوار لیتا ہے تو درحقیقت وہ ایک عظیم خزانے کی کنجی حاصل کر لیتا ہے۔ ہم ہر سال یہ مشاہدہ کرتے ہیں کہ رمضان کی آمد کے ساتھ ہی لوگ اپنے اندر مثبت تبدیلیاں لانے کے لیے آمادہ ہو جاتے ہیں۔ اگر ایک مسلمان روزوں کے اس تربیتی عمل سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے ارادے کو مضبوط کرے اور اسے بہتر رخ پر ڈالنے کی کوشش کرے تو اس کی زندگی میں ایک زبردست اور ہمہ گیر انقلاب برپا ہو سکتا ہے۔

چوتھی کنجی: روزہ اور آسانی
اگرچہ روزہ دار کے لیے بے شمار اجر و ثواب کا وعدہ کیا گیا ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ اسلامی شریعت کی ایک نمایاں اور روشن خصوصیت یہ ہے کہ اس میں آسانی اور سہولت کو خاص اہمیت دی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’اگر تم میں سے کوئی بیمار ہو یا سفر میں ہو تو دوسرے دنوں میں اتنی ہی گنتی پوری کر لے، اور جو لوگ روزہ رکھنے کی طاقت رکھتے ہوں (پھر بھی نہ رکھ سکیں) تو وہ فدیہ دیں، یعنی ایک مسکین کو کھانا کھلائیں‘‘ (البقرۃ: 184)۔ اس آیت سے واضح ہوتا ہے کہ اسلام انسان کی کمزوریوں اور مجبوریوں کو پیشِ نظر رکھ کر اسے سہولت فراہم کرتا ہے۔
رسولِ اکرم ﷺ نے بھی امت کے لیے آسانی کے اصول کو عملی صورت میں پیش فرمایا۔ آپ ﷺ کا ارشاد ہے: ’’اگر تم میں سے کوئی بھول کر کھا پی لے تو وہ اپنا روزہ پورا کرے، کیونکہ اسے اللہ ہی نے کھلایا اور پلایا ہے‘‘ (متفق علیہ)۔ حضرت عائشہؓ بیان فرماتی ہیں کہ بعض اوقات رسول اللہ ﷺ فجر کے وقت حالتِ جنابت میں ہوتے اور غسل کرنے کے بعد روزہ رکھ لیتے تھے (بخاری و مسلم)۔ اسی طرح قرآنِ مجید میں فرمایا گیا: ’’تمہارے لیے روزوں کی راتوں میں اپنی بیویوں کے پاس جانا حلال کر دیا گیا ہے، وہ تمہارے لیے لباس ہیں اور تم ان کے لیے لباس ہو۔ اللہ نے جان لیا کہ تم اپنے ساتھ خیانت کر رہے تھے، تو اس نے تمہاری توبہ قبول فرمائی اور تم سے درگزر کیا‘‘ (البقرۃ: 187)۔
یہ آسانیاں انسان کو اطاعت اور فرماں برداری پر قائم رہنے کی ترغیب دیتی ہیں اور اسے اسلامی قانون سازی کی حکمت و رحمت سے بھی آگاہ کرتی ہیں۔ روزے دراصل سزا نہیں بلکہ انسانی ارادے کی تربیت، ضبطِ نفس کی مشق اور اطاعت کا خوگر بنانے کا ایک مؤثر ذریعہ ہیں۔ اسی تربیت کا تقاضا یہ بھی ہے کہ انسان دوسروں کے ساتھ معاملات میں نرمی اور آسانی کا رویہ اختیار کرے، کیونکہ روزے ہمیں یہی سبق دیتے ہیں کہ سہولت، رحمت اور درگزر ہی اصل اسلامی مزاج ہے۔

پانچویں کنجی: قرآنِ مجید
رمضان المبارک قرآنِ کریم کے نزول کا مہینہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’رمضان وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا، جو تمام انسانوں کے لیے سراسر ہدایت ہے، اور ایسی روشن تعلیمات پر مشتمل ہے جو سیدھی راہ دکھانے والی اور حق و باطل میں واضح امتیاز کرنے والی ہیں۔ لہٰذا جو شخص اس مہینے کو پائے، اس پر لازم ہے کہ وہ اس کے روزے رکھے‘‘ (البقرۃ: 185)۔ اس آیتِ مبارکہ سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ قرآن پوری انسانیت کے لیے ہدایت کا سرچشمہ ہے اور اس عظیم نعمت کے نزول کے لیے اللہ تعالیٰ نے رمضان جیسے بابرکت مہینے کو منتخب فرمایا۔
جو شخص حقیقی ترقی اور کامیابی کا خواہاں ہو، اس کے لیے قرآن ہی سب سے بڑا سہارا اور رہنما ہے۔ روزہ دار اگر قرآن سے اپنا رشتہ مضبوط کر لے تو وہ دنیا و آخرت دونوں میں بلندی کی منازل طے کر سکتا ہے۔ حضرت عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ اس کتاب کے ذریعے بعض قوموں کو سربلندی عطا فرماتا ہے اور اسی کتاب کو نظر انداز کرنے کی وجہ سے بعض کو ذلت اور پستی میں مبتلا کر دیتا ہے‘‘ (مسلم)۔
لہٰذا رمضان میں کثرت کے ساتھ قرآن کی تلاوت کرنی چاہیے، اس کے معانی میں غور و فکر کرنا چاہیے اور اس کی ہدایات کو سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ ہر حرف پر نیکی ملتی ہے اور ہر نیکی کا اجر دس گنا بڑھا دیا جاتا ہے، جیسا کہ حدیث میں آیا ہے کہ الف ایک حرف ہے، لام ایک حرف ہے اور میم ایک حرف ہے۔ حضرت عثمان بن عفانؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ’’تم میں سب سے بہتر وہ شخص ہے جو قرآن سیکھے اور دوسروں کو سکھائے‘‘ (بخاری)۔ درحقیقت یہ عظیم کتاب دنیا اور آخرت دونوں میں ترقی اور فلاح کا ذریعہ ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاصؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’قیامت کے دن قرآن والے سے کہا جائے گا: پڑھتا جا اور ترقی کرتا جا، اسی طرح ٹھہر ٹھہر کر پڑھ جیسے تو دنیا میں پڑھا کرتا تھا، تیری آخری منزل وہ ہو گی جہاں تیری آخری آیت ختم ہو گی‘‘ (ترمذی، ابوداؤد)۔
رمضان اور قرآن کا یہ گہرا تعلق روزہ دار کو اس بات پر آمادہ کرتا ہے کہ وہ اس کتابِ ہدایت سے بھرپور استفادہ کرے، اسے پڑھے، سمجھے، سیکھے، سکھائے اور اس کی تعلیمات پر عمل کرے، تاکہ وہ حقیقی ترقی، روحانی بلندی اور دائمی کامیابی سے ہم کنار ہو سکے۔

چھٹی کنجی: قربِ الٰہی
قرآنِ مجید میں روزوں کے فرض ہونے اور ان میں دی گئی آسانیوں کے ذکر کے درمیان ایک ایسی عظیم آیت آئی ہے جسے بعض لوگ روزوں کے موضوع سے الگ سمجھتے ہیں، حالانکہ حقیقت میں یہ آیت روزوں کے سیاق و سباق میں آ کر ایک نہایت گہری اور اہم حقیقت کی طرف رہنمائی کرتی ہے، لیکن اس حقیقت تک پہنچنے کے لیے تدبر اور غور و فکر ضروری ہے۔ وہ آیت یہ ہے:
’’اور اے نبی ﷺ! میرے بندے جب تم سے میرے بارے میں سوال کریں تو انہیں بتا دو کہ میں ان کے بہت قریب ہوں۔ پکارنے والا جب مجھے پکارتا ہے تو میں اس کی دعا سنتا ہوں اور قبول کرتا ہوں۔ لہٰذا انہیں چاہیے کہ وہ میری بات مانیں اور مجھ پر ایمان رکھیں، تاکہ وہ ہدایت پا جائیں‘‘ (البقرۃ: 186)۔
جو شخص روزوں کے احکام کی پابندی کرتا ہے اور قرآن کی ہدایات سے روشنی حاصل کرتا ہے، وہ قربِ الٰہی کا مستحق بن جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی محبت کے دائرے میں داخل ہو جاتا ہے۔ رمضان المبارک میں نوافل کی کثرت انسان کو اللہ کے قریب کر دیتی ہے۔ مشہور حدیثِ قدسی میں ارشاد ہے: ’’میرا بندہ نوافل کے ذریعے میرے قریب ہوتا رہتا ہے یہاں تک کہ میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں‘‘۔
جب روزہ دار کے ہاتھ میں یہ کنجی آ جاتی ہے تو اسے دعا کی ضرورت اور اہمیت کا گہرا شعور حاصل ہو جاتا ہے، کیونکہ دعا بذاتِ خود عبادت ہے۔ بندہ جب کثرت سے دعا کرتا ہے تو اس کا رشتہ اپنے رب سے مضبوط ہو جاتا ہے، اور یوں وہ فطری طور پر اللہ کی اطاعت کی طرف مائل ہو جاتا ہے، اس کے احکام کو خوش دلی سے قبول کرتا اور ان پر عمل پیرا ہوتا ہے۔ دعا دراصل اللہ کی پناہ میں آنا، اسے یاد کرنا اور اس کے سامنے اپنی عاجزی کا اظہار کرنا ہے۔ اور جب بندہ اپنے رب کو یاد کرتا ہے تو ربِ کریم بھی اپنے بندے کو یاد فرماتا ہے، جیسا کہ ارشاد ہے: ’’پس تم مجھے یاد رکھو، میں تمہیں یاد رکھوں گا، اور میرا شکر ادا کرو، ناشکری نہ کرو۔‘‘
روزہ دار فرائض اور نوافل کی ادائیگی کے ساتھ تمام نیک اعمال انجام دے کر قربِ الٰہی کا حق دار بن جاتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ اسے اپنے قرب کی دولت سے نوازتا ہے اور اس کی دعاؤں کو سنتا اور قبول فرماتا ہے۔ انہی کنجیوں کے ذریعے روزہ دار کو ایسے روحانی خزانے حاصل ہوتے ہیں جو موتیوں اور ہیروں سے بھی کہیں زیادہ قیمتی ہیں۔ ان خزانوں کے دروازے رمضان المبارک میں کھلتے ہیں اور جو لوگ اس مہینے کی روح کو زندہ رکھتے ہیں، ان پر رمضان کے بعد بھی کھلے رہتے ہیں۔ یوں روزہ دار اپنی دنیوی زندگی کے لیے بھی بے شمار فائدے سمیٹ سکتا ہے اور آخرت کی دائمی کامیابی کے لیے بھی عظیم ذخیرہ جمع کر سکتا ہے۔ گویا ان کنجیوں کی بدولت وہ زندگی کے ہر مرحلے میں ترقی کر سکتا ہے اور ان خزانوں سے بھرپور استفادہ کر سکتا ہے۔ اب آئیے دیکھتے ہیں کہ یہ خزانے آخر کون کون سے ہیں؟

پرہیز کے خزانے
جب روزہ دار اطاعتِ الٰہی کو ملحوظ رکھتا ہے، نافرمانی سے اجتناب کرتا ہے، روزوں کے آداب کی پوری پابندی کرتا ہے اور اپنے ارادے کو مضبوط بنا لیتا ہے، نیز خود کو بری عادات کی غلامی سے محفوظ رکھتا ہے تو وہ روزے کی فرضیت کے اصل مقصد، یعنی تقویٰ کو حاصل کر لیتا ہے۔ مسلسل مشق اور تربیت کے ذریعے اس میں برے کاموں سے بچنے اور ان سے دور رہنے کی مضبوط صلاحیت پیدا ہو جاتی ہے۔ یوں وہ پرہیز و احتیاط کے انمول خزانوں کا مالک بن جاتا ہے۔ اس صلاحیت کی بدولت وہ اپنے طرزِ عمل کو ہر قسم کی خرابی سے محفوظ رکھتا ہے اور اس پر یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ جب انسان اپنے ارادے کو بروئے کار لا کر حدود کی پابندی کرتا اور ہر قبیح و شر سے بچتا ہے تو اسے پرہیزگاری کا عظیم خزانہ نصیب ہوتا ہے۔ اس سے اس کا اللہ پر بھروسا بڑھتا ہے، خود اعتمادی پیدا ہوتی ہے اور پھر شیطان اس پر غالب نہیں آ پاتا، نہ ہی وہ اپنے وسوسوں سے اسے گمراہ کر سکتا ہے۔ یوں روزہ دار کو تقویٰ اور پرہیزگاری کی وہ بے بہا دولت حاصل ہو جاتی ہے جو انسان کو منکرات، نفسانی خواہشات اور گناہوں سے محفوظ رکھتی ہے۔

ترقی کے خزانے
روزہ رکھنے اور راتوں میں قیام کرنے کا اجر و ثواب یقینی اور بے شمار ہے۔ روزہ دار اس کے ثمرات کا دنیا میں بھی امیدوار رہتا ہے اور آخرت میں تو اس کے لیے عظیم اجر کی صورت میں جزا کا ملنا طے شدہ ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ثواب کی کنجیوں کا گہرا تعلق تلاوتِ قرآن، دعا، قیام اللیل، اعتکاف اور دیگر نیک اعمال سے ہے۔ انہی کنجیوں کے ذریعے روزہ دار کو ایک عظیم روحانی خزانہ حاصل ہوتا ہے، جسے ترقی کا خزانہ کہا جا سکتا ہے۔ کیونکہ جب انسان اللہ کے فضل و کرم سے تقویٰ کی دولت سے بہرہ ور ہو جاتا ہے تو وہ ایمان کی حلاوت سے آشنا ہو جاتا ہے، اللہ اور اس کے رسول ﷺ اس کے لیے سب سے زیادہ محبوب بن جاتے ہیں۔ اور یہ محبت اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ انسان تمام فرائض و نوافل کی پابندی کرے اور اطاعت و فرمانبرداری میں بھرپور جدوجہد کرے۔
یہ خزانہ نیک اعمال سے لبریز ہوتا ہے: قرآن کی کثرت سے تلاوت، سنتِ رسول ﷺ کی پیروی میں رمضان کے دوران دل کھول کر سخاوت، روزہ داروں کے لیے افطار کا اہتمام، صلہ رحمی، یتیموں اور محتاجوں کا خیال رکھنا، اور رمضان میں ہر طرح کی نفل عبادات میں اضافہ—یہ سب اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی محبت حاصل کرنے کے بہترین ذرائع ہیں۔ ان اعمال کے ذریعے روزہ دار ترقی کی بلند منزلیں طے کرتا ہے اور بالآخر اللہ تعالیٰ کی رضا کا مستحق بن جاتا ہے۔

حبِ الٰہی کے خزانے
جس انسان کو تقویٰ و پرہیزگاری کی دولت نصیب ہو جائے اور اطاعتِ الٰہی میں ترقی کے مواقع میسر آ جائیں، وہی درحقیقت اللہ تعالیٰ کی خاص عنایات کا مستحق بنتا ہے۔ بندے پر اللہ کی سب سے بڑی اور عظیم ترین عنایت اس کی محبت ہے، اور یہ محبت بندے کے لیے سب سے اعلیٰ انعام اور سب سے بڑی کامیابی ہے۔ حدیثِ قدسی میں ارشاد ہے: ’’جب میں اپنے بندے سے محبت کرنے لگتا ہوں تو میں اس کا کان بن جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے، اس کی آنکھ بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے، اس کا ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے اور اس کا پاؤں بن جاتا ہوں جس سے وہ چلتا ہے۔ اگر وہ مجھ سے مانگے تو میں ضرور اسے عطا کرتا ہوں اور اگر وہ مجھ سے پناہ چاہے تو میں ضرور اسے پناہ دیتا ہوں۔‘‘
روزہ دار اس بات کا آرزو مند ہوتا ہے کہ اس نے پورے ماہِ رمضان میں قرآنِ کریم سے جو گہرا تعلق قائم کیا ہے، اس کا بھرپور اجر اسے نصیب ہو۔ وہ لیلۃ القدر کی تلاش میں شب بیداری کرتا ہے تاکہ اسے اس مبارک رات کا نور اور برکت حاصل ہو۔ وہ اعتکاف، عبادت اور آخری عشرے کی مسلسل جدوجہد کا صلہ چاہتا ہے اور امید رکھتا ہے کہ اس کی محنت رائیگاں نہ جائے۔
روزہ دار کی سب سے بڑی تمنا یہ ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے جہنم سے نجات عطا فرمائے اور اس کے روزے، عبادات اور دعائیں قبول فرما لے۔ تاہم یہ بات پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ اللہ کے فضل کی یہ امید محض آرزو نہیں، بلکہ عمل، محنت اور سچی جدوجہد کے بعد وابستہ کی جاتی ہے۔ روزہ دار کو عطا ہونے والے یہ تمام خزانے ربِ کریم کے خاص انعامات ہیں، جو اس کے لیے پوری زندگی باعثِ تقویت اور سرمایۂ نجات بن جاتے ہیں۔ دعا کی قبولیت کے لیے بھی وہ انہی خزانوں پر بھروسا کرتا ہے، لیکن یہ تمام امیدیں اسی وقت بارآور ہوتی ہیں جب ان کے ساتھ خلوصِ عمل موجود ہو۔ اسی لیے ارشاد فرمایا گیا: ’’لہٰذا انہیں چاہیے کہ میری بات مانیں اور مجھ پر ایمان رکھیں، تاکہ وہ ہدایت پا جائیں۔‘‘
یا اللہ! ہمیں ان عظیم خزانوں کی کنجیاں عطا فرما۔ جب ہم ماہِ رمضان گزاریں تو ہمیں اپنے فضل و کرم سے مالا مال فرما دے، اور اس کے بعد بھی ہمیں اپنی بے پایاں نعمتوں سے ہمیشہ بہرہ ور رکھ۔ یا اللہ! ہمیں توفیق عطا فرما کہ ہم رمضان کے تقدس اور حرمت کا پورا لحاظ رکھیں، اس کی کنجیاں اور خزانے ہمارے ہاتھ لگیں، اور ان کنجیوں کے ذریعے ہم ہدایت، قرب اور کامیابی کے دروازے کھول سکیں۔ اے اللہ! ہماری دعاؤں کو قبول فرما۔ آمین!


تحریر: محمد فداء المصطفٰی قادری 
رابطہ نمبر: 9037099731
پی جی ریسرچ اسکالر: دارالہدیٰ اسلامک یونیورسٹی