”مجھے اندیشہ ہے کہ یہ صدقے کی کھجور نہ ہو!“
نبی کریم ﷺ ایک مرتبہ راستے سے گزر رہے تھے تو زمین پر گری ہوئی ایک کھجور دیکھی۔ آپ ﷺ نے اسے اٹھایا؛ صاف کیا اور فرمایا:
”اگر مجھے یہ خوف نہ ہوتا کہ یہ صدقے کی کھجور ہے تو میں اسے کھا لیتا۔“
پھر آپ ﷺ نے وہ کھجور اپنے ایک صحابی کو دے دی تاکہ وہ کھا لیں، کیونکہ نبی ﷺ صدقہ نہیں کھاتے تھے۔
اس واقعے سے نبی ﷺ ہمیں نعمت کی قدر اور احترام سکھاتے ہیں۔ ایک معمولی سی کھجور کا ضائع ہونا بھی آپ ﷺ کو گوارا نہ تھا،
تو کیا اللہ کو یہ بات آسان لگے گی کہ ہم کھانا کچرے میں پھینک دیں؟
اپنی ضرورت کے مطابق کھانا پکائیں، اس میں ہرگز بخل نہیں۔ اگر کھانا زیادہ بن جائے تو اگلے دن کھا لیا جائے،
یا فریج میں محفوظ کر لیا جائے،
یا کسی محتاج کو دے دیا جائے، کیونکہ مسلمانوں کے پیٹ کچرے کے ڈبوں سے زیادہ حق دار ہیں۔
نعمتیں شکر سے محفوظ رہتی ہیں، اور ان کی قدر کرنا ہی حقیقی شکر ہے۔

(عربی تحریر - ادہم شرقاوی)
مترجم - عبید وسیم
متعلم دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ