*احکام رمضان المبارک*
 *بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم* 
 *السلام علیکم و رحمۃ اللّٰہ و برکاتہ* 

 *سحری میں برکت* 
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سحری کھایا کرو، کیونکہ سحری کے کھانے میں برکت ہوتی ہے۔
حضرت عمر وبن العاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ہمارے روزے اور اہل ِکتاب کے روزوں کے درمیان سحری کھانے کا فرق ہے۔
سحری کھانے کے بعد روزے کی نیت کی دعا:
’’ نویت أن أصوم غدًا ﷲ تعالیٰ من شهر رمضان
‘‘یا '' 
وَبِصَومِ غَدٍ نَّوَيْتُ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ''
یہ دونوں دعائیں حدیث سے منقول نہیں ، بلکہ لوگوں کی سہولت کے لیے لکھے گۓ ہے ، تاکہ زبان سے بھی نیت کرلے ، اور روزہ مکمل رہے، کیونکہ فرض روزے کی نیت نہ کی جاۓ تو روزہ نہیں ہوتا۔
مسئلہ:
واضح رہے کہ سحری جس قدر دیر کرکے کھائی جائے، مسنون ہے، بشرطیکہ صبح صادق سے پہلے کھا لے، اگر کسی نے بہت پہلے سحری کرلی تو اس کا روزہ تو صحیح ہوگا، البتہ بلا ضرورت ایسا کرنا اچھا نہیں اور اس طرح کی عادت بنا لینا خلاف سنت ہے، لہذاسحری کے آخری وقت میں بھی ایک دو لقمے کھانا، یا پانی وغیرہ پی لیا جائے، تاکہ خلاف ِسنت عمل سے احتراز ہوجائے۔
۔بعض لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ جب تک فجر کی اذان نہ ہوجائے، اس وقت تک سحری کھانا درست ہے،ان کی یہ بات درست نہیں ہے، کیونکہ سحری کا آخری وقت صبح صادق کے طلوع ہونے تک ہےاور اذان صبح صادق طلوع ہونے کے بعد دی جاتی ہے،لہذا اگر اس طرح روزہ رکھا کہ سحری کے بعد اذان کے ختم تک کھانا پینا جاری رکھا،تو وہ روزہ ادا نہ ہوگا اور اس کی قضاء لازم ہوگی۔

افطار ی میں برکت
حضرت سلمان بن عامر سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:تم میں سے جو شخص روزہ دار ہو، تو اس کو چاہیے کہ وہ کھجور سے افطار کرے، کیونکہ یہ باعث برکت ہے، اگر کھجور نہ مل پائے تو پھر پانی سے افطار کر لے، کیونکہ پانی پاک کرنے والا ہے۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنھما سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: رمضان میں عمرہ حج کے برابر ہے۔
افطار کی دعا
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے افطار کے وقت پڑھی جانے والی دو دعائیں احادیث کی کتابوں میں وارد ہے :
روزہ کھولنے سے پہلے کی دعا:
۱۔ “اللَهُمَّ لك صُمْتُ، وعلى رِزْقِكَ أفْطَرْتُ” ۔
روزہ کھولنے کے بعد کی دعا:
۲۔ "ذَهَبَ الظَّمَأُ، وَابْتَلَّتِ الْعُرُوقُ، وَثَبَتَ الْأَجْرُ إِنْ شَاءَ اللہ"
مسئلہ:
واضح رہے کہ افطار کی یہ دعا عوام کی زبانوں پر ان الفاظ کے اضافے کے ساتھ مشہور ہے، ’’اللهم لك صمتُ وبك آمنتُ وعليك توكلتُ وعلىٰ رزقكَ أفطرتُ‘‘. حالانکہ دعا میں: ’’وبك آمنت وعليك توكلت‘‘. کےالفاظ ثابت نہیں ہیں، صرف یہ الفاظ ثابت ہیں: ’’ اللّهمَّ لَكَ صُمتُ وَ علىٰ رِزقِكَ أَفطَرتُ‘‘.، لہذا جو الفاظ ثابت ہیں، اسی کو پڑھا جائے۔(۴۰)
افطاری میں بلا وجہ تاخیر کرنا ناپسندیدہ ہے۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:دین غالب رہے گا، جب تک کہ لوگ روزہ جلدی افطار کیا کریں گے،کیونکہ یہود اور نصاری روزہ افطار کرنے میں تاخیر کرتے ہیں۔
اللّٰہ تعالٰی ہمیں عملِ صالح کی توفیق عطا فرمائے ۔
آمین یارب العالمین
السلام علیکم و رحمۃ اللّٰہ و برکاتہ