حضرت فاطمہ الزہراء رضی اللہ عنہا

 *3 رمضان وصال فاطمہ کے موقع پر خواتین کے لیے سیرتِ فاطمہ کا پیغام* 

آج تین رمضان المبارک کے موقع پر جب ہم حضرت فاطمہ الزہراء رضی اللہ عنہا کے وصال کو یاد کرتے ہیں تو یہ صرف ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ خواتینِ اسلام کے لیے ایک دعوتِ فکر ہے۔ آپ کی زندگی صبر، حیا، عبادت، خدمت، اطاعت اور غیرتِ ایمانی کا ایسا جامع نمونہ ہے جس میں ایک بیٹی، بیوی اور ماں کی مکمل تصویر نظر آتی ہے۔

حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی ولادت مکہ مکرمہ میں اس گھر میں ہوئی جو وحی کا مرکز اور نورِ نبوت کا سرچشمہ تھا۔ آپ کے والد سیدالمرسلین محمد ﷺ اور والدہ اُم المؤمنین خدیجہ بنت خویلد رضی اللہ عنہا تھیں۔ بچپن ہی سے آپ نے اسلام کے ابتدائی دور کی سختیاں دیکھیں۔ کفارِ مکہ کی اذیتیں، طعن و تشنیع، اور شعبِ ابی طالب کی فاقہ کشی، یہ سب مناظر آپ کی کمسنی کی یادوں کا حصہ تھے۔ ایک کم عمر بچی کا اپنے والد کے لیے اس طرح کھڑا ہونا کہ جب مشرکین نے آپ ﷺ پر گندگی ڈالی تو وہ دوڑ کر صاف کریں، یہ منظر حضرت فاطمہ کے کردار کی ابتدائی جھلک ہے۔ یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ انہیں محبت سے “اُمِّ ابیھا” فرمایا کرتے تھے۔

جب مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت ہوئی تو حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے بھی دیگر اہلِ بیت کے ساتھ مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کی۔ مدینہ میں آپ کا نکاح حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے ہوا۔ یہ نکاح سادگی اور برکت کا نمونہ تھا۔ مہر ایک زرہ تھا، گھر کا سامان نہایت مختصر، مگر دل ایمان اور محبت سے بھرے ہوئے تھے۔ آج کی خواتین کے لیے یہاں ایک بہت بڑا سبق ہے کہ کامیاب ازدواجی زندگی کا دار و مدار سامانِ دنیا پر نہیں بلکہ تقویٰ، برداشت اور باہمی احترام پر ہے۔

ازدواجی زندگی میں حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے بے مثال صبر کا مظاہرہ کیا۔ گھر کے تمام کام خود انجام دیتیں، چکی پیستیں یہاں تک کہ ہاتھوں میں چھالے پڑ جاتے۔ پانی بھرنے سے کندھوں پر نشان آجاتے۔ ایک مرتبہ خادم کی درخواست کی تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں تسبیحِ فاطمہ سکھائی: 33 مرتبہ سبحان اللہ، 33 مرتبہ الحمدللہ، اور 34 مرتبہ اللہ اکبر۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت فاطمہ کی زندگی راحت طلبی نہیں بلکہ عبادت اور محنت کا نام تھی۔ آج کی عورت اگر تھکاوٹ میں ذکرِ الٰہی کو اپنا سہارا بنالے تو اس کی زندگی میں سکون پیدا ہوسکتا ہے۔

آپ رضی اللہ عنہا بہترین ماں بھی تھیں۔ آپ کے گھر میں حضرت حسن بن علی اور حسین بن علی رضی اللہ عنہما جیسے عظیم فرزند پروان چڑھے، جو بعد میں امت کے لیے قربانی اور صبر کی علامت بنے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صالح اولاد کی بنیاد ماں کی گود میں رکھی جاتی ہے۔ حضرت فاطمہ نے اپنے بچوں کو سادگی، عبادت اور شجاعت کا درس دیا۔ آج اگر ہم اپنی نسلوں کو دین سے جوڑنا چاہتے ہیں تو ہمیں فاطمی تربیت اختیار کرنا ہوگی۔

حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا عبادت گزار تھیں۔ راتوں کو قیام کرتیں، امت کے لیے دعائیں کرتیں۔ روایت میں آتا ہے کہ پہلے دوسروں کے لیے دعا کرتیں، پھر اپنے لیے۔ جب ان سے پوچھا گیا تو فرمایا: “الجار ثم الدار” یعنی پہلے پڑوسی پھر گھر۔ یہ فکرِ امت، یہ ایثار اور یہ وسعتِ قلبی آج کے معاشرے میں بہت ضروری ہے۔

رسول اللہ ﷺ کو حضرت فاطمہ سے خاص محبت تھی۔ آپ ﷺ جب سفر سے واپس آتے تو سب سے پہلے فاطمہ کے پاس جاتے، اور سفر پر جاتے وقت بھی سب سے آخر میں انہی سے ملتے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: “فاطمہ میرے جگر کا ٹکڑا ہے، جس نے اسے ناراض کیا اس نے مجھے ناراض کیا۔” یہ مقام و مرتبہ کسی عام خاتون کو حاصل نہیں ہوا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بیٹی کی عزت اور تکریم اسلام کا بنیادی مزاج ہے۔

رسول اللہ ﷺ کے وصال کے بعد حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا شدید غم میں رہیں۔ آپ فرمایا کرتی تھیں کہ اب والد کے بعد دنیا میں کوئی خوشی باقی نہیں۔ صرف چھ ماہ بعد آپ بھی اس دنیا سے رخصت ہوگئیں۔ مدینہ منورہ کی سرزمین نے اس پاکیزہ ہستی کو اپنے اندر جگہ دی۔ آپ کی وفات کم عمری میں ہوئی، مگر زندگی کا اثر رہتی دنیا تک باقی ہے۔

آج تین رمضان کے موقع پر ہمیں سوچنا چاہیے کہ حضرت فاطمہ کی سیرت سے ہم کیا لے رہے ہیں؟
 کیا ہم اپنی بیٹیوں میں حیا اور سادگی پیدا کررہے ہیں؟ کیا ہم ازدواجی زندگی میں صبر اور قناعت کو اختیار کررہے ہیں؟
 کیا ہم اپنی اولاد کو دین کے ساتھ جوڑنے کی فکر رکھتے ہیں؟ 
حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی زندگی ہمیں بتاتی ہے کہ عزت دنیاوی نمود و نمائش میں نہیں بلکہ اللہ کی اطاعت میں ہے۔

خواتینِ اسلام کے لیے حضرت فاطمہ الزہراء رضی اللہ عنہا کی سیرت ایک آئینہ ہے۔ اگر عورت بیٹی ہے تو فاطمہ جیسی فرمانبردار ہو، اگر بیوی ہے تو فاطمہ جیسی وفادار ہو، اگر ماں ہے تو فاطمہ جیسی مربیہ ہو، اور اگر عبادت گزار ہے تو فاطمہ جیسی مخلص ہو۔ یہی پیغام تین رمضان کا ہے کہ ہم اپنی زندگیوں کو فاطمی کردار سے مزین کریں اور اپنے گھروں کو ذکر، حیا اور محبت کا گہوارہ بنائیں۔