*کیا ہے روزہ اور کیوں ہے روزہ؟*
کہتے ہیں ایک غیر مسلم ملک میں ایک مسلمان طالبِ علم زیرِ تعلیم تھا، رمضان المبارک آیا تو اس نے معمول کے مطابق سحری کی،دن بھر یونیورسٹی میں کلاسز لیں، دوستوں کے ساتھ بیٹھا مگر کچھ کھایا پیا نہیں، اس کے ساتھی حیران ہوئے،
ایک دن ایک ہم جماعت نے پوچھا *تم صبح سے شام تک کچھ نہیں کھاتے؟ پانی بھی نہیں؟ یہ کیسا قانون ہے؟* مسلمان نوجوان نے مسکرا کر کہا، یہ قانون نہیں، یہ عبادت ہے، اسے روزہ کہتے ہیں، ہم طلوعِ فجر سے غروبِ آفتاب تک کھانے پینے اور خواہشات سے رکے رہتے ہیں، صرف اللہ کی رضا کے لیے۔وہ بولا اگر تم بہت پیاسے ہو جاؤ اور چپکے سے پانی پی لو تو؟ یہاں تو کوئی تمہیں جانتا بھی نہیں،نوجوان نے جواب دیا، یہی تو روزہ ہے، لوگوں سے نہیں، اپنے رب سے تعلق کا نام اگر میں اکیلے میں بھی پانی نہ پیوں تو اس کا مطلب ہے کہ میں اُس ذات کو مانتا ہوں جو مجھے دیکھ رہی ہے، چاہے دنیا نہ دیکھے،وہ کچھ دیر خاموش رہا، پھر بولا تو روزہ صرف بھوکا رہنا نہیں ہے؟
مسلمان نے کہا نہیں، روزہ صرف معدے کا نہیں، آنکھوں کا بھی ہے، زبان کا بھی ہے، دل کا بھی ہے، آنکھ برائی نہ دیکھے، زبان جھوٹ نہ بولے، دل میں کینہ نہ آئے، ہاتھ ظلم نہ کرے، اگر صرف بھوکا رہنا ہو اور عادتیں نہ بدلیں تو یہ کیسا روزہ؟وہ شخص سوچ میں پڑ گیا اور بولا اگر سب لوگ ایسے روزے رکھیں تو معاشرہ کیسا ہوگا؟ نہ دھوکہ ہوگا،نہ خیانت،نہ بددیانتی،نہ غیبت،نہ حرام خوری، نہ ظلم،کیونکہ جو شخص تنہائی میں بھی اپنے نفس کو روک سکتا ہے، وہ کسی کا حق کیسے مارے گا؟
نوجوان کی آنکھیں جھک گئیں، اس نے آہستہ سے کہا،بات تو درست ہے، مگر مسئلہ یہ ہے کہ ہم میں سے بہت سے لوگ روزہ رکھتے ہیں، مگر روزہ ہمیں نہیں رکھتا،ہم بھوکے تو رہتے ہیں، مگر گناہوں سے نہیں رکتے،وہ ہم جماعت بولا،پھر اصل روزہ کیا ہے؟جواب آیا،اصل روزہ وہ ہے جو انسان کو بدل دے،جو اسے صبر سکھائے،شکر سکھائے،ہمدردی سکھائے،اور سب سے بڑھ کر تقویٰ عطا کرے،قرآن میں آیا ہے کہ روزہ اس لیے فرض کیا گیا تاکہ تم میں تقویٰ پیدا ہو۔
کچھ دیر بعد وہ شخص بولا،کیا میں بھی یہ عبادت کر سکتا ہوں؟مسلمان نے کہا،کیوں نہیں؟ رب سب کا ہے، جو اسے ایک مان لے، اس کے حکم کو قبول کر لے، وہ بھی اس کے قرب کا مستحق ہو جاتا ہے،یہ سن کر اس کی آنکھوں میں عجیب چمک تھی، شاید وہ سمجھ چکا تھا کہ روزہ صرف جسم کو نہیں، روح کو زندہ کرنے کا نام ہے۔
روزہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ اگر ہم پانی کے ایک گھونٹ سے رک سکتے ہیں تو حرام کے ایک لقمے سے بھی رک سکتے ہیں،اگر ہم چند گھنٹوں کی بھوک برداشت کر سکتے ہیں تو چند لمحوں کا غصہ بھی پی سکتے ہیں،اگر ہم اللہ کے خوف سے اکیلے میں نہیں کھاتے تو اکیلے میں گناہ بھی نہیں کرنا چاہیے،مگر افسوس: ہم نے روزے کو رسم بنا دیا، سحری و افطاری کو اہتمام بنا لیا،لیکن تقویٰ کو بھلا دیا،کاش ہمارا روزہ ہمیں بدل دے،ہماری تنہائیوں کو پاک کر دے،ہماری زبانوں کو سچا کر دے، ہماری نگاہوں کو جھکا دے،اور ہمارے دلوں میں حقیقی خوفِ خدا پیدا کر دے۔
یا اللہ ہمیں ایسا روزہ نصیب فرما جو تیرے ہاں مقبول ہو،جو ہمیں گناہوں سے دور کر دے،اور ہماری زندگیوں کو نور سے بھر دے،آمیـــــــــــــــــن یــــا رب الــــــــعـــــــالــــــمـــــیــن بجاہ النبی الکریم ﷺ۔
*✍️متعلم الجامعۃ الاشرفیہ✍️*