(42)مضمون 

بسم اللہ الرحمن الرحیم 

ڈرو نہیں، بیدار ہو جاؤ : اللہ ہمارے ساتھ ہے

_______________

  جب سیاست میں خوف کی فضا پھیلائی جائے، اور ووٹ کے نام پر مذہب کو ڈھال بنایا جائے،

تو ایمان والوں کے دل سے ایک صدا بلند ہوتی ہے:

ہمارا مالک اللہ ہے، ہمیں کسی سے نہ ڈراؤ!

یہ جملہ صرف ایک عقیدہ نہیں، بلکہ امتِ مسلمہ کی غیرت، خودداری اور یقینِ کامل کا اعلان ہے۔

آج بہار اسمبلی الیکشن کے موقع پر، پھر وہی پرانا کھیل دہرایا جا رہا ہے _

ڈر کا سودا، خوف کی سیاست، اور مسلمانوں کے جذبات سے کھیلنے کی کوشش۔

مگر اب وقت بدل چکا ہے۔

اب ہم نہ خوف کی زبان سمجھتے ہیں، نہ دھوکے کی سیاست۔

میں صاف اور دوٹوک کہتا ہوں - 

ہمیں بی جے پی سے نہ ڈراؤ۔

اگر تمہیں ووٹ لینا ہے، تو سیکولرازم، بھائی چارگی، اتحاد، روزگار، تعلیم اور پلائن جیسے حقیقی مسائل پر بات کرو۔

بی جے پی کوئی خدا نہیں ہے،

ہمارا مالک وہ ہے جو سب کو دیکھ رہا ہے، جو سب کے دلوں کے حال سے واقف ہے۔

ہمیں کسی کے سائے میں جینے کی ضرورت نہیں،

ہمیں اپنا حق چاہیے، اور وہ نمائندہ چاہیے جو ایوان میں ہماری آواز بنے۔

میں یوگی ادتیہ ناتھ کا وہ جملہ دہراتا ہوں. 

“بٹو گے تو کٹو گے!”

یہ الفاظ دراصل ہمارے اتحاد کی طرف اشارہ ہیں۔

اے میرے سیکولر اور مسلمان بھائیو!

تم جس پارٹی کو بھی ووٹ دو، مگر متحد ہو کر دو۔

ایسے لیڈر کو چنو جو کرپٹ نظام اور ظلم کے خلاف کھڑا ہونے کا حوصلہ رکھتا ہو،

جو انصاف اور انسانیت کی زبان بولتا ہو۔

ہمیں وہ رہنما نہیں چاہیے جو صرف انتخابات کے موسم میں ہمارے دروازے پر آئے،

بلکہ وہ چاہیے جو اقتدار میں بھی ہماری آواز بن کر زندہ رہے۔

 آزادیِ مذہب اور امن کی ضرورت ہے 

ہم کسی کے مذہب سے نفرت نہیں کرتے،

ہم صرف اپنے شعارِ اسلام پر عمل کی آزادی، مسجد و مندر کی حفاظت، اور سماجی ہم آہنگی چاہتے ہیں۔

ہمارا وطن امن کا گہوارہ بنے،

جہاں کوئی کسی کے مذہب سے خوفزدہ نہ ہو،

جہاں انصاف کی روشنی سب کے گھروں میں یکساں چمکے۔

یہ ملک ہمارا بھی ہے،

ہم اس دھرتی کے باسی ہیں،

اور ہم چاہتے ہیں کہ محبت، اخوت اور یکجہتی کے پھول اس سرزمین پر ہمیشہ کھلتے رہیں۔

آج فیصلہ کا وقت ہےکہ ہم اپنے ضمیر کو جھنجھوڑیں 

آج ہمیں خود سے سوال کرنا ہے:

کون سا لیڈر ہماری آواز ایوان میں بلند کرتا ہے؟

کون سی پارٹی واقعی ہمارے مفاد میں کام کرتی ہے؟

کون سا لیڈر ہمارے دکھ درد میں شریک ہے؟

اور کون ہمیں صرف ووٹ بینک سمجھ کر استعمال کرتا ہے؟

یہ وقت ہے غلامی کی زنجیریں توڑنے کا،

سیاسی خودداری اور ملی وحدت کے عزم کو زندہ کرنے کا۔

ہم کسی پارٹی کو جتانے یا ہرانے کے لیے پیدا نہیں ہوئے،

ہم اس لیے ہیں کہ اپنے ووٹ کے ذریعے اپنے مستقبل، اپنے لیڈر، اور اپنی آواز کو منتخب کریں۔

ہمارا وجود کسی پارٹی یا اقتدار کا مرہونِ منت نہیں،

بلکہ ہماری بقا اُس ربِ کائنات کے ہاتھ میں ہے

جو فرعون اور نمرود جیسے ظالموں کو ایک مچھر کے ذریعے نیست و نابود کر دیتا ہے۔

یاد رکھو!

ہمارا وجود کسی پارٹی کے رحم و کرم پر نہیں۔

ہماری بقا نہ کسی سیاست داں کے وعدوں سے جڑی ہے،

نہ کسی حکومت کے احسان سے

لہٰذا : اے میرے بھائیو!

ہمارا ایمان ہمیں سکھاتا ہے کہ تقدیر کا مالک اللہ ہے، سیاست داں نہیں۔

ہمیں نہ ڈراؤ، ہمیں نہ خوف دلاؤ. 

ہم اس ربّ پر بھروسہ رکھتے ہیں جو ذوالقوۃ المتین ہے،

جو حق والوں کو سربلند کرتا ہے اور ظالموں کو ذلیل و خوار۔ کرتا ہے 

آؤ،

ہم اپنے ووٹ سے نفرت، فرقہ پرستی، اور خوف کی دیواریں گرا دیں،

ہم اپنے ووٹ کو ایمان کی طاقت بنائیں،

نفرت کی دیواروں کو گرا دیں،

اور محبت، انصاف، اور اتحاد کے پرچم کو بلند کریں۔

محبت، انصاف، اور ایمان کی بنیاد پر ایک نیا عہد قائم کریں۔

کیونکہ ہمارا مالک اللہ ہے،

ہمیں کسی سے نہ ڈراؤ۔

لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللَّهَ مَعَنَا

“غم نہ کر، بے شک اللہ ہمارے ساتھ ہے۔”

(سورۃ التوبہ 9:40)

اللہ تعالیٰ ہمیشہ اُن کے ساتھ ہوتا ہے جو صبر، تقویٰ، اور سچائی پر قائم رہتے ہیں۔

لہٰذا جب دل خوفزدہ ہو، تو یہ یاد رکھو:

اللہ ہمارے ساتھ ہے. اور جب وہ ساتھ ہو تو کوئی دشمن، کوئی طاقت، کچھ نہیں کر سکتی۔


       : نوٹ :

یہ تحریر کسی جماعت یا فرد کے حق یا مخالفت میں نہیں،

بلکہ امتِ مسلمہ اور ملک کے باضمیر شہریوں کے لیے ایمان، اتحاد اور شعورِ سیاسی کا پیغام ہے۔

وقت آ چکا ہے کہ ہم ووٹ کو جذبات نہیں، ذمہ داری سمجھ کر استعمال کریں۔

   بقلم محمودالباری

mahmoodulbari342@gmail.com

________________