نماز میں نبی کا خیال آنا کیسا ہے؟

نماز میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خیال آنا برا نہیں ہے بلکہ تشہد پڑھتے وقت جب نمازی ”السلام علیکم ایہا النبی“ پڑھتا ہے اور معنی کا استحضار دل میں رہتا ہے تو اس وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا خیال آنا لازمی ہے؛ البتہ صوفیاء کرام کے یہاں رائج ”صرف ہمت“ کا تجربہ نماز میں ممنوع ہے۔ 

*صرف ہمت* تصوف میں ایک مستقل مضمون ہے،
تصوف کی کتابوں میں “صرفِ ہمت” (یا تصرفِ ہمت) کا تذکرہ خاص مفہوم میں آتا ہے، اور اس کا معنی عام لغوی معنی سے کچھ وسیع ہوتا ہے۔

صوفیہ کے ہاں “ہمت” کیا ہے؟
اہلِ تصوف کے نزدیک ہمت سے مراد ہے؟
دل کی وہ باطنی قوت جو یکسوئی اور توجہ کے ساتھ کسی مقصد کی طرف متوجہ ہو۔
یہ صرف ارادہ نہیں بلکہ قلبی توجہ، یکسوئی اور روحانی قوت کا نام ہے۔

“صرفِ ہمت” یا “تصرفِ ہمت” کا مفہوم
تصوف کی اصطلاح میں اس کے دو مشہور استعمال ملتے ہیں:
 اپنی ساری باطنی توجہ اللہ کی طرف لگا دینا
یعنی سالک دنیا سے دل ہٹا کر مکمل توجہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور قرب پر لگا دے۔
یہ معنی تربیتی اور اصلاحی کتب میں زیادہ آتا ہے۔
مثلاً:
شیخ اپنے مرید کو نصیحت کرتا ہے کہ “اپنی ہمت کو ایک کرو، اور اسے صرف اللہ کے لیے مخصوص کرو۔”

 شیخ کی روحانی توجہ (تصرفِ ہمت)
بعض صوفیہ کے ہاں “تصرفِ ہمت” سے مراد یہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی ولی کو ایسی قبولیت دے دے کہ اس کی دعا یا توجہ سے کسی کے حال میں اصلاح یا تبدیلی واقع ہو جائے۔

لیکن اہم بات اہلِ سنت کے نزدیک
حقیقی تاثیر صرف اللہ تعالیٰ کی ہے۔
ولی یا شیخ کی ہمت خود مؤثرِ حقیقی نہیں، بلکہ اللہ کے اذن سے سبب بنتی ہے۔
اگر کسی مقام پر یہ عقیدہ پیدا ہو کہ شیخ مستقل طور پر اثر انداز ہوتا ہے، تو یہ درست نہیں۔

بہرحال جہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خیال آنے کو مفسد صلوٰۃ کہا اسکی وجہ یہ ہیکہ نماز میں دھیان صرف اللہ کی طرف ہونا چاہیے، اگر کؤیی نبی کے خیال میں اس قدر گم ہوجائے کہ خدا کی ذات اسکے ذہن سے نکل جائے تو یہ غلط ہے ، کیونکہ یہ نماز کے مقاصد کے خلاف ہے۔

واللہ اعلم بالصواب