🖋️از: بنتِ ابوالخیر اعظمیؔ
رمضان محض ایام و ساعات کا نام نہیں؛ یہ زمانے کی پیشانی پر ثبت وہ سنہرا باب ہے جس میں بندگی کی حقیقت اپنے کمال پر جلوہ گر ہوتی ہے۔ یہ مہینہ آتا ہے تو فضا میں ایک لطیف سی لرزش پیدا ہوتی ہے، دلوں کی زمین نرم پڑ جاتی ہے، اور آنکھوں کی نمی دعاؤں کا راستہ بن جاتی ہے۔ گویا آسمان کے دریچے کھلتے ہیں اور رحمت کی بارشیں روح کی پیاسی مٹی کو سیراب کرنے لگتی ہیں۔
یہ وہ مہینہ ہے جس میں قرآن مجیدکا نزول ہوا
وہ کتابِ ہدایت جس کی آیات، دل کے اندھیروں میں چراغ جلاتی ہیں جس کی تلاوت سینوں کی گھٹن کو وسعت میں بدل دیتی ہے اور جس کا پیغام انسان کو اس کے اصل مقام عبودیت سے آشنا کرتا ہے۔ رمضان ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہم محض جسم نہیں، ایک امانت دار روح بھی ہیں اور اس روح کی غذا ذکرِ الٰہی، تلاوتِ قرآن اور خشوعِ سجدہ ہے۔
روزہ محض بھوک اور پیاس کا نام نہیں؛ یہ ارادے کی تطہیر، نگاہ کی حفاظت، زبان کی تہذیب اور دل کی تربیت ہے۔ جب بندہ طلوعِ فجر سے غروبِ آفتاب تک حلال سے بھی رک جاتا ہے تو وہ دراصل اپنے نفس کو یہ درس دے رہا ہوتا ہے کہ اصل اطاعت خواہش کی نہیں، حکمِ رب کی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں صبر، شکر میں ڈھلتا ہے اور تقویٰ دل کی دھڑکن بن جاتا ہے۔
رمضان کی راتیں اپنی آغوش میں ایک خاص سکوت رکھتی ہیں۔ تراویح میں کھڑے ہو کر جب بندہ کلامِ الٰہی سنتا ہے تو گویا ہر آیت اس کے باطن کو مخاطب کرتی ہے۔
اور پھر وہ ساعت آتی ہے جسے لیلۃ القدر
کہتے ہیں ایک ایسی شب جو ہزار مہینوں سے افضل ہے۔ اس رات کا ایک سجدہ، ایک آنسو، ایک سچی آہ انسان کی تقدیر کا دھارا موڑ سکتی ہے۔ کتنے ہی لوگ ہیں جو اس رات میں مغفرت پا لیتے ہیں، اور کتنے ہیں جو غفلت کی چادر
اوڑھے رہ جاتے ہیں۔
رمضان ہمیں اپنے گرد و پیش کی خبر بھی دیتا ہے۔ جب ہم افطار کے وقت دستر خوان پر بیٹھتے ہیں تو ہمیں ان ہاتھوں کا خیال آتا ہے جن کے پاس روٹی نہیں؛ ان آنکھوں کا تصور ابھرتا ہے جو حسرت سے دوسروں کی طرف دیکھتی ہیں۔ یہی احساس زکوٰۃ کو محض فریضہ نہیں رہنے دیتا بلکہ دل کی سخاوت بنا دیتا ہے۔ صدقہ صرف مال کا اخراج نہیں، دل کے بخل کا علاج بھی ہے۔
یہ مہینہ دراصل ایک آئینہ ہے—ہم اپنے آپ کو اس میں دیکھ سکتے ہیں۔ ہماری نمازوں کی کیفیت کیا ہے؟ ہماری زبان کس قدر محفوظ ہے؟ ہمارے دل میں کتنا کینہ، کتنی حسد کی آگ باقی ہے؟ رمضان ہمیں جھنجھوڑ کر کہتا ہے: “اے انسان! اگر اب بھی نہ بدلا تو کب بدلے گا؟”
سوچیے، جو لوگ پچھلے رمضان ہمارے ساتھ تھے، آج سب موجود نہیں۔ کتنی آوازیں خاموش ہو گئیں، کتنے سائے قبروں میں اتر گئے۔ شاید یہ رمضان ہمارا آخری رمضان ہو۔ شاید اگلے سال ہم کسی اور کی دعاؤں کا موضوع ہوں۔ پھر کیا بہتر نہیں کہ اس مہینے کو معمولی ایام کی طرح نہ گزارا جائے بلکہ اسے اپنی زندگی کا نقطۂ انقلاب بنا لیا جائے؟
آئیے اس رمضان کو دل کی گہرائیوں سے قبول کریں۔
قرآن سے رشتہ جوڑیں محض زبان سے نہیں، عمل سے۔
نمازوں کو وقت پر ، شوق سے ادا کریں۔
معاف کریں، تاکہ معاف کیے جائیں۔
روئیں، تاکہ ہنسائے جائیں۔
جھکیں، تاکہ بلند کیے جائیں۔
رمضان چند دنوں کا مہمان ہے، مگر اس کے اثرات ابدی ہو سکتے ہیں۔ اگر ہم نے اس مہینے میں اپنے رب کو پا لیا، تو گویا سب کچھ پا لیا؛ اور اگر اسے کھو دیا، تو بہت کچھ کھو بیٹھیں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں ایسا رمضان عطا فرمائے جو ہماری تقدیر بدل دے، ہمارے دلوں کو نور سے بھر دے، اور ہمیں ان خوش نصیبوں میں شامل کر دے جن کے نام دفترِ مغفرت میں ثبت ہو جائیں۔
آمین یا رب العالمین۔