«اُس بات سے بچو جس پر بعد میں معذرت کرنی پڑے!»
اپنی زبان کو قابو میں رکھو، جلد باز نہ بنو۔
کسی معمولی سی بات پر ایسا ہنگامہ نہ کھڑا کرو کہ گویا دنیا ہی الٹ دی ہو،
نہ کسی سخت ردِعمل سے، نہ کسی کڑوی بات سے۔
پھر بعد میں آ کر معافی مانگنا اور افسوس کرنا پڑے۔
بلاشبہ معافی مانگنا ایک بلند اخلاق ہے،
لیکن کڑوی بات ایسے ہے جیسے لکڑی میں کیل ٹھونک دی جائے؛
اگرچہ بعد میں کیل نکال بھی دی جائے،
تو بھی سوراخ کا نشان لکڑی میں باقی رہتا ہے۔
اسی طرح دلوں پر چبھنے والے الفاظ کا اثر بھی باقی رہ جاتا ہے۔
(عربی تحریر - ادہم شرقاوی)
مترجم - عبید وسیم
متعلم دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ