(گزشتہ سے پیوستہ) 

استشراق کے بنیادی محرکات  
استشراق کے محرکات دینی، سیاسی، اور اقتصادی محرکات تھے۔ 
 دینی محرک 
 مذھب عیسائیت ترویج و اشاعت ہو اور مسیسحی مذہب دنیا میں تمام مذاہب میں سے سب سے زیادہ قبول کیا جانے والا مذھب بن جائے، انہوں نے نئے تعلیم یافتہ اور نئی نسل کے سامنے مذہب عیسائیت کو پر کشش بناکر پیش کیا کہ استشراق کے ساتھ ساتھ عیسائیت کی تبلیغ ہو۔ 
سیاسی محرک 
 مستشرقین عام طور پر مغربی حکومتوں کا اہم ترین حصہ رہے ہیں، مغربی حکومتوں اور یوروپین حکمرانوں کی مدد کرنا ان کا کام ہے وہ ان مشرقی اقوام و ممالک کے رسم و رواج، طبیعت و مزاج، طریق و ماند وبود اور زبان و ادب بلکہ جذبات و نفسیات کے متعلق صحیح اور تفصیلی معلومات بہم پہونچاتے ہیں ، تاکہ اہل مغربی کا ان پر حکومت کرنا آسان ہو۔ 
اقتصادی محرک 
 بہت سے فضلاء یعنی علماء مغرب (مستشرقین) نے جب اقوام مشرق پر کتابوں کو لکھا تو ناشرین کتب نے اس بنا پر ان کتابوں کو جو مشرقیات اور اسلامیات پر لکھی جاتی تھیں ان کو یورپ اور ایشیا کی بڑی بڑی کتب بازار میں فروخت کیا، جو ان کی مالی منفعت اور بہتر اقتصادی حالت کا ضامن ہے 
 علماء مغرب(مستشرقین) کے بنیادی مقاصد 
استشراق کے بنیادی مقاصد ذیل میں درج کیے جاتے ہیں 
۱- اسلامی عقائد و شواہد خاتمہ کرنے کی کوشش کر نا تاکہ ان کے ترویج شدہ اصول و ضوابط رائج ہوسکے اور ان کے موجودہ نظام کو مکمل عروج حاصل ہو سکے۔ 
۲- اسلام کو موجودہ یہودیت نصرانیت سے ماخوذ دکھانے کی کوششیں کی اور بات باور کرانے کی کوشش کی اسلام ایک من گھڑت اور موضوع دین ہے، اسے یہودیت اور عیسائیت میں چند آں تحریف کے بعد گڑھ لیا گیا ہے(العیاذباللہ)
۳-بذریعہ استشراق رسالت مآبﷺ کی شخصیت کو مشکوک کرنے کی کوشش کی ، عوام کو اس حوالے سے یہ بتانے کی کوشش کی جانے لگیں کہ حضرت محمد ﷺ ایک بہترین اور اچھے انسان تو تھے،جن کے باعث لوگوں نے ان کی اتباع کی مگر وہ رسول نہیں تھے(العیاذباللہ)
٤- مستشرقین نے علمی میدان یہ ثابت کرنے بھی کوشش کی کہ قرآن کریم اللہ رب العزت کا کلام نہیں بلکہ ایک تالیف ہے ، جو نبی کریم ﷺ کی طرف منسوب ہے انہوں نے اپنی قیادت کو باقی رکھنے کے لیے ایک قانون بنایا تھا جس کو قرآن کہتے ہیں (العیاذباللہ)، حقیقت میں اہل استشراق قرآن پاک کے وحی ہونے کے منکر ہیں اور اس تعلق سے لوگوں کو شک میں ڈالنا گویا کوئی مجرم جرم کرنے کے بعد ثبوت مٹانے کی کوشش کر رہا ہو ہل یعنی جب انہوں نے قرآن کو وحی الٰہی ہونے سے انکار کردیا تو یہود و نصاریٰ کے ذریعے تحریف شدہ تورات و انجیل کا محرف ہونا بھی ثابت نہ ہو پاۓ گا
۵- مستشرقین کے مقاصد میں ایک مقصد حجیت قرآن کو مٹانے کے ساتھ ساتھ حجیت حدیث کو مٹانا بھی تھا ، علماء مغرب ( مستشرقین) نے اپنے ترجمہ جات کے ذریعے ان باتوں کو عام کیا کہ حدیث کوئی دلیل نہیں ، بلکہ یہ ایک افسانے کی طرح ہے کہ صحابہ کرام اور تابعین نے اپنی باتوں کو نبی ﷺ کی طرف منسوب کردیا (نعوذ باللہ) ، ساتھ ہی یہ تاثر پیدا کیا کہ صحابہ اور تابعین نے اپنی ذاتی مفادات کی خاطر ایسے مواد گڑھے ہیں ان کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں(معاذاللہ) 
٦-علماء مغرب نے جس طرح قرآن و سنت پر حملہ کرنا نا کا مقصد تھا اسی طرح فقہ اسلامی کو مسخ کرنا بھی ایک مقصد بنایا، علماء مغرب (مستشرقین) کا کہنا یہ ہے کہ فقہ اسلامی ایک مکمل شریعت نہیں بلکہ رومن لاء (عیسائی قانون) سے ماخوذ ہے۔۔ 
ان تمام مقاصد ہر مستشرقین نے بہت ساری کتب لکھی اور اپنے حملوں کو تا حال جاری رکھا ہے ، جس کے نتیجے میں امت کا کم علم اور دین اسلام سے کم شناس طبقہ ان کا شکار ہو جاتا ہے ۔ 
(جاری ہے)