*مسلم لڑکیوں کے ارتداد میں عصری تعلیم گاہوں اور موبائل کا کردار*
آج امتِ مسلمہ کے لیے سب سے بڑا المیہ یہ نہیں کہ دشمن طاقتور ہو گیا ہے، بلکہ یہ ہے کہ ہماری اپنی بیٹیاں دشمن کے فریب میں آ رہی ہیں، وہ بیٹیاں جن کے دامن میں حیا کی چادر تھی، آنکھوں میں شرم تھی، چہروں پر نورِ ایمان جھلکتا تھا، آج وہی بیٹیاں روشن خیالی کے نام پر اندھیروں میں بھٹک رہی ہیں، آزادی کے جال میں قید ہو چکی ہیں، اور محبت کے نام پر اپنی عزت و عقیدت دونوں گنوا چکی ہیں۔
یہ تلخ حقیقت ہے کہ عصری تعلیم گاہیں اور موبائل فون آج کے ارتداد کے بڑے اسباب بن چکے ہیں، وہ درس گاہیں جن سے کبھی علم کی روشنی پھوٹتی تھی، وہاں آج ایمان کی شمعیں گل ہو رہی ہیں، وہ آلہ (موبائل) جس کو علم و تحقیق کا ذریعہ بنانا تھا، وہی آج گمراہی کا سفیر بن چکا ہے، لیکن قصور صرف درس گاہوں یا موبائل کا نہیں قصور اس ذہن کا ہے جو غیرتِ ایمانی سے خالی ہو چکا ہے، اور اس دل کا ہے جس میں عقیدہ کی حرارت بجھ چکی ہے۔
ورنہ مجھے کوئی بتا سکتا ہے ایک لڑکی جس نے غیر مسلموں کے درمیان میں زندگی بسر کی اور ایک زمانے تک غیر لوگوں کے ساتھ رہی یمن کی یونیورسٹی میں پڑھی اور اس نے نوبل پرائز کو جیتا اس سے ایک صحافی نے سوال کیا،ایسا جواب دیا کہ صحافی شرمندگی سے چور چور ہو گیا،اس نے پوچھا،
آپ اتنے بڑے عہدے پر فائز ہو گئیں نوبل پرائز جیت گئی ہو اور حجاب میں آتی ہو ایسا کیوں؟
اس لڑکی نے جواب دیا جب انسان بے شعور تھا تب وہ ننگا( برہانہ )تھا، جب اس نے شعور سیکھا تو کپڑے پہن لیے،مطلب یہ ہے کہ شعور نے کپڑے پہنائے اور بے شعوری میں انسان ننگا تھا، اس جواب کو سن کر وہ صحافی شرم سے چور چور ہو گیا،اور یقیناً یہ ایک دانشمندانہ جواب ہی نہیں بلکہ تمام باطل نظریات پر ایک تھپڑ تھا،اور بے غیرت معاشرے کے لیے ایک بہترین سبق۔
لڑکیاں اگر چاہیں تو انہی تعلیمی اداروں میں عصمت و ایمان کا چراغ روشن رکھ سکتی ہیں، شرط صرف اتنی ہے کہ پردہ ان کا فخر ہو، قرآن ان کا رہنما ہو، اور محمد عربی ﷺ ان کے آئیڈیل ہوں ورنہ یہی تعلیم، جو ترقی کا زینہ بن سکتی تھی، ایمان کی بربادی کا راستہ بن جائے گی جیسے بن بھی چکی ہے۔
پھر اسکی تعبیر علامہ اقبال کے اس شعر سے ہوگی:
اللہ سے کرے دور تو تعلیم بھی فتنہ
املاک بھی اولاد بھی جاگیر بھی فتنہ
نا حق کے لیے اٹھے تو شمشیر بھی فتنہ
شمشیر ہی کیا نعرہ تکبیر بھی فتنہ۔
عرض: آج ضرورت ہے کہ علما، مفکرین اور اہلِ ثروت مل کر ایسے ادارے قائم کریں جہاں علم کے ساتھ ایمان بھی پڑھایا جائے، جہاں ڈگری کے ساتھ دین داری بھی سکھائی جائے، جہاں لڑکی صرف پڑھنا نہیں بلکہ امت کی ماں بننے کا سلیقہ بھی سیکھے، اگر ہم نے یہ نہ کیا تو ہماری بیٹیاں کتابیں تو پڑھیں گی مگر قرآن سے ناواقف، بولیں گی مگر حیا سے عاری، اور چمکیں گی مگر نورِ ایمان کے بغیر۔
اور موبائل؟ وہ تو آج کا سب سے خطرناک ہتھیار ہے! ایک طرف سے محبت کے جملے آتے ہیں، دوسری طرف ایمان کی جڑیں کٹتی ہیں، وہ انگلیاں جو کبھی تسبیح کے دانے گنتی تھیں، آج بے حیائی کے کلک کرتی ہیں، وہ آنکھیں جو کبھی قرآن پڑھا کرتی تھیں، اب تصویریں دیکھ کر اپنے انجام کا تماشہ بن رہی ہیں۔
کاش وہ سمجھتیں کہ اسلام چھوڑنے سے آزادی نہیں ملتی بلکہ وہ جانوروں سے بدتر زندگی کا آغاز ہوتا ہے، وہ جو سمجھ بیٹھیں کہ مذہب بدل کر سکون ملے گا، وہ آج ذلت و عصمت کے آخری درجے پر سسک رہی ہیں، ان کی ہنسی اب چیخوں میں بدل چکی ہے، ان کی محبت اب پچھتاوے کی سزا بن چکی ہے، جو میں کئی تحریرات میں ذکر کر چکا ہوں۔
خدارا جاگ جائیں ان بچیوں سے نسلوں کا ظہور ہوتا ہے، آپ سب دانشور لوگ ہیں، میں ایک طالب علم ہوں خدا کے لیے کیجیے کچھ امت کے لیے ورنہ بارگاہ الٰہی میں آپ بھی اسکے زمرے میں آئیں گے اور اللہ کی بارگاہ میں آپ سے بھی سوال ہوگا ہم نے آپکو یہ صلاحیت عطا فرمائی تھی کہ قوم کی راہنمائی کر سکو پھر کیوں مجھے بتائیں پھر کیا جواب ہوگا خدا کی بارگاہ میں، اور مجھے تو رونا آتا ہے جب یہ حدیث پڑھتا ہوں،
خاتم النبیین ﷺ نے ارشاد فرمایا: (مفہوم )کسی کافر کو مسلمان کرنے سے بہتر ہے کسی مسلمان کو مرتد ہونے سے روکنا، کیونکہ کافر اسلام کو اتنا نقصان نہیں پہنچا سکتا جتنا کہ مرتد پہچائے گا اور اسکا نتیجہ بھی ہم دیکھ رہے ہیں۔
بس آخر میں یہی آتا ہے میری زبان پر 😔
ہم بھی کیا خوب ہیں جینے ادا بھول گئے
اپنے اسلاف کا نقش کف پا بھول گئے
منزلیں پانا تو ٹھہرا ہے بہت دور کی بات
اتنے بھٹکے کہ خود اپنا پتہ بھول گئے
*✍️متعلم الجامعۃ الاشرفیہ✍️*