🌻روزہ کے فضائل🌻
حضرت سہل(بن سعد ساعدی) رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جنت کے دروازوں میں سے ایک خاص دروازہ ہے جس کو ”باب الریان" کہا جاتا ہے۔ اس دروازے سے قیامت کے دن صرف روزہ داروں کا داخلہ ہو گا۔ روزہ داروں کے علاوہ کوئی دوسرا اس دروازے سے داخل نہیں ہو سکے گا۔ اس دن پکارا جائے گا کہ کہاں ہیں وہ بندے جو روزے رکھا کرتے تھے ؟ وہ اس پکار پر چل پڑیں گے۔ ان کے سوا کسی اور کا اس دروازے سے داخلہ نہیں ہو سکے گا۔ جب وہ روزہ دار اس دروازے سے جنت میں پہنچ جائیں گے تو یہ دروازہ بند کر دیا جائے گا، پھر کسی اور کا اس سے داخلہ نہیں ہو سکے گا۔
⭐تشریح الحديث⭐
اس حدیث مبارک میں روزہ کی فضیلت کو بیان کیا گیا ہے کہ روزہ داروں کے لیے جنت میں داخلے کا ایک مخصوص دروازہ ہے جس کا نام ” باب الریان “ ہے۔ ریان کے لغوی معنی ہیں "پوری پوری سیرابی“۔ گویا یہ بھر پور سیرابی اس دروازے کی صفت ہے جس سے روزہ داروں کا داخلہ ہو گا۔ اس کی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ عام طور پر روزہ دار کو جس تکلیف کا احساس سب سے زیادہ ہوتا ہے وہ اس کا پیاسا رہنا ہے۔ اس لیے اس کو بدلے میں جو صلہ اور انعام دیا جائے گا اس میں بھی سب سے زیادہ نمایاں اور غالب پہلو سیرابی کا ہونا چاہیے۔ اس مناسبت سے جنت میں روزہ داروں کے داخلہ کے لیے جو مخصوص دروازہ مقرر کیا گیا ہے اس کی خاص صفت سیرابی ہے۔
حضرت ابو صالح زیات رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوہریر ورضی اللہ عنہ سے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کہ اللہ تعالٰی ارشاد فرماتے ہیں: ابن آدم کا ہر اچھا عمل اس کے لیے ہے لیکن روزہ بندہ کی طرف سے خاص میرے لیے ایک عبادت ہے اور میں ہی اس کا اجر و ثواب دوں گا۔ روزہ ایک ڈھال ہے۔ لہذا جب تم میں سے کسی کا روزہ ہو تو وہ بے ہودہ اور فحش باتیں نہ کرے اور شور و غل نہ کرے اور اگر کوئی اس سے گالم گلوچ کرے یا اس سے جھگڑا کرنے لگے تو وہ کہہ دے کہ میں روزہ دار ہوں۔ روزہ دار کے لیے دو خوشیاں ہیں: ایک خوشی افطار کے وقت اور دوسری خوشی روزہ کی وجہ سے اپنے رب سے ملاقات کے وقت۔
⭐تشریح الحديث⭐
اس حدیث مبارک میں روزہ کی فضیلت کو بیان کیا گیا ہے۔ روزہ کی عبادت اس لحاظ سے باقی تمام عبادات سے ممتاز اور جدا ہے کہ اس عبادت کا اجر خود اللہ تعالٰی عطا فرمائیں گے۔ اس لیے تو فرمایا کہ روزہ کی عبادت خاص میرے لیے ہے اور اس کا اجر میں خود دیتا ہوں۔
حدیث کے آخر میں روزہ دار کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نصیحت فرمائی ہے کہ جب کسی کا روزہ ہو تو وہ فحش اور گندی باتیں اور شور و شغب بالکل نہ کرے، زبان کو جھوٹ، غیبت، بہتان، چغلی، الزام تراشی، گالم گلوچ، گانے اور فضول گوئی سے پاک رکھے اور زبان کے نشتر سے کسی کا دل نہ دکھائے، کسی کی ہتک عزت ، بے عزتی اور رسوائی نہ کرے۔ اور اگر کوئی دوسرا آدمی اس سے الجھنا بھی چاہے تب بھی یہ کوئی سخت بات نہ کہے بلکہ صرف اتنا کہہ کر اس سے الگ ہو جائے کہ بھائی میرا روزہ ہے۔
ڈھال ہونے کا مطلب یہ ہے کہ جیسے آدمی ڈھال سے اپنی حفاظت کرتا ہے اسی طرح روزہ سے بھی اپنے دشمن یعنی شیطان سے حفاظت ہوتی ہے اور روزہ کی ڈھال کو پھاڑ ڈالنے کا مطلب یہ ہے کہ روزہ کی حالت میں جھوٹ، غیبت اور اس قسم کے ناجائز کام کیے جائیں۔ لہذا روزہ کے حقیقی فوائد اور ثمرات اس وقت حاصل ہوں گے جب انسان ان گناہ کی چیزوں اور لایعنی کاموں سے بچا رہے۔