دعاؤں میں ایکٹنگ سے پرہیز کیا کریں 

 ایک لڑکی نے بڑے اہتمام سے نمازِ حاجت ادا کی۔
 آنکھوں میں حیا، دل میں خواہش اور لبوں پر دعا تھی۔
جب شادی کے لیے مانگنے کا وقت آیا تو شرما گئی۔
عرض کیا:
“یا اللہ! میں اپنے لیے کچھ نہیں مانگتی، بس میری امی کو ایک خوبصورت داماد دے دیں۔”
قدرت کی شان دیکھیے، دعا قبول ہوئی…
مگر اس کی چھوٹی بہن کی شادی طے ہوگئی! 🤭
یہ واقعہ بظاہر مزاح سے بھرپور ہے، لیکن اس میں ہمارے لیے ایک گہرا سبق پوشیدہ ہے۔
دعا ایک سنجیدہ عمل ہے۔
یہ دل کی سچائی اور نیت کی صفائی کا نام ہے۔ جب ہم دعا مانگتے ہیں تو ہمیں کسی اور کو دکھانے یا خود کو زیادہ نیک ظاہر کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔
اللہ تعالیٰ تو دلوں کے حال جانتا ہے۔
اسے ہماری آواز سے زیادہ ہمارے ارادے کی خبر ہوتی ہے۔
اکثر ہم زندگی میں “ایکٹنگ” کر جاتے ہیں۔
 کبھی عاجزی دکھانے کی ادا، کبھی بے نیازی کا انداز، کبھی یہ ظاہر کرنا کہ ہمیں اپنی ذات کے لیے کچھ نہیں چاہیے۔
 حالانکہ دل میں خواہشیں موجزن ہوتی ہیں۔ یہی دکھاوا کبھی کبھی ہماری بات کا رخ بدل دیتا ہے۔
 الفاظ اگر واضح نہ ہوں تو مطلب بھی بدل جاتا ہے۔
دعا مانگتے وقت سادگی اختیار کیجیے۔
 جو چاہیے، صاف صاف مانگیے۔
اگر اپنی خوشی چاہتے ہیں تو بے جھجھک عرض کیجیے۔
 اللہ رب العزت دینے والا ہے، وہ حیا یا تکلف کی وجہ سے مانگنے والے کو محروم نہیں کرتا، بلکہ سچے دل کی پکار کو پسند کرتا ہے۔
یہ واقعہ ہمیں ہنسا ضرور دیتا ہے، مگر ساتھ ہی سمجھا بھی دیتا ہے کہ دعا میں وضاحت اور اخلاص ضروری ہے۔
 اپنی بات گھما پھرا کر کہنے سے بہتر ہے سیدھی اور سچی التجا کی جائے۔
لہٰذا یاد رکھیے:
دعا میں “اداکاری” نہیں، “سچائی” کام آتی ہے۔
اللہ کے حضور بناوٹ نہیں، بس دل کی سادہ سی فریاد کافی ہے۔
تو آئندہ جب ہاتھ اٹھائیں تو دل کی بات دل سے کہیے… کہیں ایسا نہ ہو کہ داماد کی دعا کسی اور کے نصیب میں چلی جائے! 😉✨
عائشہ ❤