تعلیم انسانی تہذیب کا سب سے بنیادی ستون ہے۔ یہ وہ سرچشمہ ہے جس سے فرد کی شخصیت، قوم کی فکر، اور تمدن کی سمت متعین ہوتی ہے۔ اسلام کی تعلیم میں علم کو محض معاشی ضرورت نہیں ؛بلکہ روحانی ترقی کا زینہ قرار دیا گیا ہے۔ قرآن کاارشاد ہے:
قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَالَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ (الزمر: 9)
’’کیا جاننے والے اور نہ جاننے والے برابر ہو سکتے ہیں؟‘‘
اسلام نے انسان کے ظاہری اور باطنی دونوں پہلوؤں کی تربیت کو علم کا مقصد قرار دیا ہے۔ مگر دورِ حاضر میں مسلمانوں کا نظامِ تعلیم — خاص طور پر برصغیر کے مسلمانوں کا — دو انتہاؤں میں تقسیم ہو چکا ہے: ایک طرف مدارسِ دینیہ ہیں جہاں دین کی گہرائی موجود ہے مگر عصر کی روشنی اور موجودہ علوم سے فاصلہ ہے، اور دوسری طرف جدید اسکولز اور یونیورسٹیاں ہیں جہاں زمانہ سےواقفیت اوراس کے تقاضوں کی آخری حدتک رعایت موجود ہے ؛لیکن دین کی معنویت اور روحانیت کی کمی محسوس کی جاتی ہے۔ یہ تقسیم محض نصاب کی نہیں؛بلکہ فکر، ثقافت اور تہذیب کی ایک حقیقی تقسیم بن چکی ہے۔ اس پس منظر میں ایک سوال پوری ملت کے سامنے کھڑا ہے: کیا اسلام کے ماننے والے دو متوازی نظامِ تعلیم کے ساتھ اپنی تہذیب کو زندہ رکھ سکتے ہیں؟
اسی سوال کے جواب میں یہ مقالہ مرتب کیا گیا ہے تاکہ دورِ حاضر کے تناظر میں ایک متحدہ اسلامی نظامِ تعلیم کا فکری و عملی خاکہ پیش کیا جا سکے ۔ ایسا نظام جو قرآن کی روح اور عصر کی ضرورت دونوں کو یکجا کر دے۔
باب اول: نظامِ مدارس میں عصری علوم کی شمولیت کے امکانات
1. موجودہ صورتِ حال
برصغیر کے مدارسِ اسلامیہ نے صدیوں تک ایمان، علم، اور تہذیبِ اسلامی کی حفاظت کی۔ انہوں نے غلامی کے زمانے میں بھی روحِ ایمان کو زندہ رکھا۔ لیکن زمانے کی رفتار نے اب تعلیمی دنیا میں انقلاب برپا کر دیا ہے۔ آج سائنس، ٹیکنالوجی، انفارمیشن، میڈیا، اور سوشل سائنسز نے انسان کے شعور کو نئے زاویے دیے ہیں۔
مدارس کا موجودہ نصاب — جس کی بنیاد ’’درسِ نظامی‘‘ پر ہے — یقیناً اپنے وقت میں بہترین تھا، مگر اب وہ نصاب، جدید سائنسی و فکری چیلنجز کا سامنا کرنے کے لیے ناکافی ہو چکا ہے۔دینی تعلیم کا مقصد دین فہمی ہے، مگر دین فہمی دنیا کے فہم کے بغیر ممکن نہیں۔ قرآن بار بار کائنات، تاریخ، اور انسان کی نشانیوں پر غور کی دعوت دیتا ہے۔ لہٰذا مدارس میں عصری علوم کی شمولیت دراصل دینی تعلیم کی تکمیل کا حصہ ہے، نہ کہ اس سے انحراف۔
2. قانونی سہولتیں، حدود اور رکاوٹیں
ہندوستانی ’دستور ‘(The Constitution of India)مدارس کو مذہبی آزادی دیتا ہے۔ آرٹیکل 30 کے تحت اقلیتی ادارے اپنے تعلیمی ادارے قائم کر سکتے ہیں۔ کئی ریاستوں میں دینی مدارس کو سرکاری الحاق کے بغیر بھی خودمختاری حاصل ہے۔ یہ ایک بڑی قانونی سہولت ہے، مگر اس کے ساتھ رکاوٹیں بھی ہیں:
سرکاری نصاب سے ہم آہنگی نہ ہونے کے باعث مدارس کے طلبہ کی اعلیٰ تعلیم تک رسائی محدود ہے۔بعض حلقوں میں دینی تعلیم کے بارے میں منفی تاثر بھی راہ میں رکاوٹ بنتا ہے۔ان رکاوٹوں کے باوجود ،مدارس کو یہ قانونی آزادی حاصل ہے کہ وہ اپنے نصاب میں اصلاح و توسیع کر سکیں۔
3. ضروریاتِ تعلیمی
مدارس کے طلبہ میں ذہانت، حافظہ، اور اخلاص کی جو قوت پائی جاتی ہے، وہ کسی بھی قوم کا خواب ہو سکتی ہے؛ مگر ان کی ذہانت کو اگر دینی علوم کے ساتھ سائنسی شعور سے جوڑ دیا جائے تو وہ قوم کے رہنما بن سکتے ہیں۔
ضروری ہے کہ مدارس میں:ریاضی، سائنس، انگریزی، اور کمپیوٹر کی بنیادی تعلیم شامل کی جائے۔جدید فقہی مسائل (فقہ المعاصرہ، اقتصادیات، طب، میڈیا، ماحولیات) پر تدریسی کورس تیار کیے جائیں۔دعوت، تحقیق، اور عالمی مکالمہ کے لیے زبانوں کی مہارت (انگریزی، فرانسیسی وغیرہ) سکھائی جائے۔یہ سب کچھ دینی روح کے خلاف نہیں؛ بلکہ دین کوعصری تناظر میں سمجھنے اوراپنے دور کے لوگوں کو اسلوب عصر (Contemporary Style)میں پہونچانے کے لازمی وسائل ہیں۔
4. مختلف میدانوں میں مسلم افراد کی کمی: اسباب و تدارک
آج مسلمانوں کی قومی زندگی کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہم عدلیہ، میڈیا، انتظامیہ، سائنس، ٹیکنالوجی، اور بین الاقوامی پالیسی سازی جیسے اہم میدانوں میں مؤثر نمائندگی سے محروم ہیں۔ یہ کمی دراصل نظامِ تعلیم کی تقسیم کا براہِ راست نتیجہ ہے۔ مدارس کے فضلا دینی شعور رکھتے ہیں ؛مگر دنیاوی نظام میں شریک نہیں، اور اسکولی تعلیم یافتہ مسلمان، دنیا میں سرگرم ہیں مگر دینی شعور سے خالی۔اس خلیج کو پاٹنے کا راستہ متحدہ نصاب ہے ۔ جہاں دینی اور عصری علوم ایک دوسرے کے معاون بنیں، نہ کہ متقابل۔
5. اصلاحی I تجاویز
(الف) مربوط نصاب (Integrated Curriculum)
دینی و عصری علوم کو ایک ہم آہنگ فریم ورک میں ضم کیا جائے تاکہ علم کے دو ،دھاروں کے بجائے ایک متحد و متوازن نظامِ تعلیم وجود میں آئے۔ قرآن، فقہ، سیرت اور عقائد جیسے علومِ شرعیہ کے ساتھ سوشیالوجی، اکنامکس، پولیٹیکل سائنس، کمپیوٹر، اور انگریزی زبان کو نصاب کا جزو بنایا جائے۔ اس طرح طلبہ کی ذہنی ساخت نہ صرف دینی بصیرت سے روشن ہوگی ؛بلکہ وہ عصری دنیا کے علمی و فکری چیلنجوں سے بھی ہم آہنگ ہو سکیں گے۔
(ب) تخصصی نظام (Specializations)
دینی بنیاد کے بعد طلبہ کو مختلف عصری میدانوں میں تخصص (Specialization) کے مواقع فراہم کیے جائیں، جیسے: فقہ المعیشت (Islamic Economics)، دعوت و میڈیا (Da‘wah & Media)، اسلامی فکر و فلسفہ، یا تعلیم و تربیت۔ اس سے فارغین محض عالمِ دین نہیں بلکہ ایسے ماہرین کے طور پر ابھریں گے جو موجودہ زمانے کے علمی و عملی تقاضوں کو اسلامی نقطۂ نظر سے پورا کر سکیں۔
(ج) تعاونِ بین المدارس و الجامعات (Institutional Collaboration)
دینی مدارس اور مسلم یونیورسٹیوں (مثلاً دارالعلوم دیوبند،دارالعلوم ندوۃ العلماء، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، جامعہ ملیہ اسلامیہ، وغیرہ) کے درمیان باہمی تعاون اور تعلیمی شراکت داری قائم کی جائے۔ اس اشتراک سے نہ صرف علمی تبادلہ (Academic Exchange) بڑھے گا ؛ I I've done big classes بلکہ تحقیقی سطح پر ایک نیا فکری احیاء (Intellectual Revival) بھی ممکن ہوگا، جو مسلم تعلیمی نظام کو نئی جہت دے گا۔
(د) اساتذہ کی تربیت (Teacher Training)
دینی مدارس کے اساتذہ کے لیے تربیتی ورکشاپس، سیمینارز، اور ریفریشر کورسز کا باقاعدہ نظام قائم کیا جائے تاکہ وہ جدید تدریسی اسلوب، ٹیکنالوجی کے استعمال، اور عصری علوم کی بنیادی واقفیت حاصل کر سکیں۔ ایک باخبر اور وژنری معلم ہی وہ بنیاد فراہم کر سکتا ہے جس پر ایک متوازن اور ترقی یافتہ تعلیمی نظام تعمیر ہو سکتا ہے۔
باب دوم: اسکولی نظامِ تعلیم میں مذہبی علوم کی شمولیت کے امکانات
1. موجودہ صورتحال
دورِ جدید کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ تعلیم اپنے اصل مقصد سے جدا ہو گئی ہے۔ تعلیم کو محض روزگار کا ذریعہ سمجھا جانے لگا، جبکہ اسلام نے اسے تزکیۂ نفس، تعمیرِ کردار اور معرفتِ الٰہی کا ذریعہ قرار دیا۔برصغیر کے مسلمانوں نے جب جدید اسکولی نظام کو اپنایا تو وہ مغربی ماڈل سے براہِ راست متاثر تھا ، ایک ایسا نظام جس کی بنیاد سیکولر تصورِ علم پر ہے۔ یہ تصور مذہب کو نجی دائرے تک محدود کر دیتا ہے اور علم کو خالص مادی ترقی کے آلے میں تبدیل کر دیتا ہے۔نتیجتاً مسلم طلبہ کی ایک بڑی تعداد اپنے دین سے جذباتی وابستگی رکھتی ہے ؛ مگر فکری و اخلاقی اعتبار سے غیر مربوط نظر آتی ہے۔ مدارس میں روح ہے مگر پرواز محدود، اور اسکولوں میں پرواز ہے مگر روح مفقود۔یہی خلا ملت کے فکری زوال کی جڑ ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا مذہبی تعلیم کو اسکولی نظام میں شامل کیا جا سکتا ہے؟ اگر ہاں، تو کس نوعیت اور حد تک؟
2. قانونی سہولتیں
الحمدللہ! ہندوستان کے دستور نے مذہبی تعلیم کے لیے بڑی وسعت دی ہے۔
آرٹیکل 28(1) کے مطابق کسی بھی تعلیمی ادارے میں — جو مکمل طور پر حکومت کے زیرِ انتظام نہ ہو — مذہبی تعلیم دی جا سکتی ہے۔
آرٹیکل 30(1) اقلیتوں کو یہ حق دیتا ہے کہ وہ اپنی مرضی کے مطابق تعلیمی ادارے قائم کریں اور انہیں چلائیں۔
NEP 2020 (نئی تعلیمی پالیسی) میںValue-Based and Multidisciplinary Educationکا تصور شامل کیا گیا ہے ۔
جس کے تحت اسکولوں کو اخلاقی، تہذیبی اور مذہبی اقدار کو نصاب میں شامل کرنے کی اجازت ہے۔یہ آئینی سہولتیں مسلمانوں کے لیے ایک عظیم موقع ہیں کہ وہ اپنے اسکولوں میں دینی تعلیم کے ایسے کورسز شامل کریں، جو نہ صرف عقیدے کی حفاظت کریں ؛بلکہ بچے کے ذہن کو دین و دنیا کے رشتے کی سمجھ بھی عطا کریں۔
3. حدود اور رکاوٹیں
قانونی آزادی کے باوجود چند عملی رکاوٹیں موجود ہیں:نصاب سازی کا سیکولر دباؤ: قومی سطح پر نصاب کی تشکیل میں اکثر مذہب کو ’غیر سائنسی ‘یا’نجی‘تصور کر کے الگ کر دیا جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں مسلمانوں کے اپنے اداروں کو دینی مضامین شامل کرنے میں ہچکچاہٹ ہوتی ہے۔
تربیت یافتہ دینی اساتذہ کی کمی
ایسے اساتذہ کم ہیں جو عصری اور دینی دونوں علوم کا امتزاج سمجھتے ہوں۔
والدین اور انتظامیہ کی ترجیحات
والدین زیادہ تر کیریئر اور مارکیٹ کے لحاظ سے سوچتے ہیں، اس لیے مذہبی تعلیم کو اکثر ثانوی حیثیت دی جاتی ہے۔
غیر مسلم ماحول میں تحفظِ تشخص کا مسئلہ
مشترکہ تعلیمی اداروں میں اسلامی تعلیم کو متوازن انداز میں پڑھانے کے لیے فکری حکمت درکار ہے تاکہ تعصب یا ٹکراؤ نہ پیدا ہو۔البتہ یہ رکاوٹیں وقتی ہیں، اگر مسلمان اپنی فکری پختگی کے ساتھ آگے بڑھیں تو ان کا ازالہ ممکن ہے۔
4. اصلاحی اقدامات
(الف) Values-Based Education (اقدار پرمبنی Listen to this تعلیم)
اسلام کا مقصد علم کے ذریعے انسان میں تقویٰ، عدل، رحم، اور ذمہ داری پیدا کرنا ہے۔
یہی اقدار جدید نصاب کے ساتھ اس طرح جوڑی جا سکتی ہیں کہ مذہب و اخلاق کا توازن برقرار رہے۔مثلاً:
اخلاقیات کے سبق میں قرآن و سنت کے اصول شامل کیے جائیں؛
سائنسی مضامین میں خالق کی حکمت پر غور کرنے کا پہلو اجاگر کیا جائے؛
تاریخ میں اسلامی تہذیب کے مثبت کردار کو نمایاں کیا جائے۔
(ب) Faith Integration Model (ایمان و علم کا امتزاج)
دنیا کے متعدد ممالک میں ایسے کامیاب تعلیمی ماڈل رائج ہیں جن میں دینی اقدار کو جدید علوم کے ساتھ ہم آہنگ کر کے ایک متوازن نصاب تشکیل دیا گیا ہے۔ یہ ماڈل اس بات کی عملی مثال ہیں کہ مذہبی روح کے ساتھ سائنسی و سماجی ترقی بھی ممکن ہے۔
مثال کے طور پر:
- ملیشیا کی انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی (IIUM) نے تعلیم کا ایک ایسا جامع نظام قائم کیا ہے جس میں قرآن و سنت کی روشنی میں سائنسی، معاشی اور سماجی علوم کی تشکیلِ نو کی گئی ہے۔ یہاں ہر مضمون میں اسلامی تناظر نمایاں طور پر شامل ہے۔
- انڈونیشیا میں پسانترن (Pesantren) نظامِ تعلیم، جدید اسکولی ڈھانچے کے ساتھ روایتی اسلامی تعلیمات کو جوڑنے کا کامیاب نمونہ ہے، جہاں طلبہ قرآن و سنت کے اصولوں پر قائم رہتے ہوئے سائنس، ٹیکنالوجی اور عمرانیات جیسے مضامین بھی سیکھتے ہیں۔
- برطانیہ کے Faith Schools میں مذہبی شناخت کو برقرار رکھتے ہوئے، قومی نصاب کے تمام تقاضے پورے کیے جاتے ہیں۔ ان اسکولوں نے یہ ثابت کیا کہ اخلاقی اقدار اور تعلیمی معیار کا امتزاج ممکن اور مؤثر ہے۔
یہ تمام تجربات اس حقیقت کو اجاگر کرتے ہیں کہ دینی و دنیاوی تعلیم کا امتزاج ہی وہ راستہ ہے جو ایک متوازن، باشعور اور باکردار نسل کو جنم دیتا ہے۔
اسی لیے یہ ماڈل ہندوستان کے مسلم اسکولوں کے لیے بھی ایک قابلِ تقلید مثال بن سکتے ہیں — بشرطِ عمل کہ ہم نصاب کی ہر سطح پر اسلامی تصورِ علم کو بنیاد بناتے ہوئے جدید علوم کی تدریس کریں؛ تاکہ ہمارے ادارے نہ صرف علم کے مراکز ہوں ؛بلکہ کردار سازی اور فکری رہنمائی کے سرچشمے بھی بن جائیں۔
(ج) دینی نصاب کی عملی تشکیل
اسلامی تعلیم کا مقصود محض مذہبی معلومات دینا نہیں ؛بلکہ ایمان، علم، کردار اور قیادت کی ایسی ہم آہنگ شخصیت تیار کرنا ہے جو دین اور دنیا، روح اور مادّہ، عبادت اور خدمت—سب کے درمیان توازن قائم کر سکے۔ اس مقصد کے لیے دینی نصاب کی تشکیل مرحلہ وار اس طرح کی جا سکتی ہے:
پرائمری سطح پر:
طلبہ کے ذہن و دل میں ایمان کی بنیاد مضبوط کی جائے۔ اس سطح پر بنیادی عقائد، سیرتِ نبویؐ کے واقعات، اخلاقِ حسنہ، اور عربی زبان کے ابتدائی اسباق شامل ہوں تاکہ بچوں کے ذہن میں دینی شناخت اور اخلاقی حساسیت بیدار ہو۔
مڈل سطح پر:
طلبہ کو قرآن فہمی، اسلامی تاریخ، ربّانی اخلاقیات، اور عبادات کے شعور سے روشناس کرایا جائے۔ اس مرحلے پر مقصد یہ ہو کہ وہ دین کو بطورِ نظامِ حیات سمجھنے لگیں اور عبادت کو محض رسم نہیں ؛بلکہ شعورِ بندگی کے طور پر جانیں۔
ہائی اسکول سطح پر:
نصاب کو فکری و تحقیقی وسعت دی جائے۔ اس مرحلے میں دینی فلسفہ، تقابلی مذاہب، اسلامی سوشل سائنسز، اور اخلاقی قیادت جیسے مضامین شامل ہوں تاکہ طلبہ دنیا کے فکری و تہذیبی چیلنجز کا سامنا علمی بصیرت کے ساتھ کر سکیں۔
اس نصاب کا مقصد، ایسے باشعور، متوازن اور باکردار شہری تیار کرنا ہے جو دین کے ساتھ دنیا کو سمجھیں، اور دنیا کے تقاضوں کے ساتھ دین کی روح کو زندہ رکھیں۔ یہی وہ امتزاج ہے جس سے ایک ایسی نسل پیدا ہوسکتی ہے جو علم میں گہری، کردار میں صادق، اور خدمت میں سرگرم ہو — یعنی وہ نسل جو اسلامی فکر کی روشنی میں انسانیت کی رہنمائی کر سکے۔
(د) اساتذہ کی تربیت
کامیاب تعلیمی نظام کی بنیاد باصلاحیت اور بافکر اساتذہ پر ہوتی ہے۔ مذہبی تعلیم اس وقت مؤثر بنتی ہے جب استاد خود وسیع نظر، روشن فکر اور تربیتی شعور رکھتا ہو۔ اگر استاد ایمان کو بوجھ نہیں بلکہ خوشی، یقین اور زندگی کی روح سمجھتا ہو تو وہ اپنے شاگردوں کے دلوں میں بھی یہی احساس منتقل کرتا ہے۔
ضرورت ہے کہ مسلم اساتذہ کے لیے "Faith and Pedagogy Training Programmes" قائم کیے جائیں، جہاں انہیں جدید تدریسی مہارتوں کے ساتھ قرآنی بصیرت، اخلاقی تربیت اور سیرتِ نبویؐ کا عملی شعور دیا جائے۔ ایسے اساتذہ ہی وہ نسل تیار کر سکتے ہیں جو علم میں گہری، فکر میں متوازن اور کردار میں باایمان ہو۔
(ہ) اردو اور عربی زبان کا احیاء
اسلامی تہذیب اور فکر کا سب سے قیمتی سرمایہ عربی اور اردو زبانوں میں محفوظ ہے۔ یہی زبانیں ہمارے علمی، دینی اور فکری ورثے کی امین ہیں۔ اسکولوں میں ان زبانوں کی منظم تدریس سے نہ صرف قرآن و سنت سے تعلق گہرا ہوتا ہے بلکہ طلبہ کو اپنی تہذیبی شناخت اور فکری بنیاد بھی حاصل ہوتی ہے۔
عربی زبان، وحی کی زبان ہونے کے ناتے، علمِ دین کی کلید ہے، اور اردو زبان اس امت کے فکری و ادبی احساس کی ترجمان۔ ان دونوں زبانوں کا احیاء دراصل ملت کے فکری استحکام اور وحدتِ احساس کا احیاء ہے۔ یہی زبانیں ہماری آنے والی نسلوں کو اپنی تاریخ، فکر اور ایمان سے جوڑنے کا مضبوط ذریعہ بن سکتی ہیں۔
خلاصہ ٔ گفتگو
اسکولی نظامِ تعلیم میں دینی علوم کی شمولیت ماضی کی طرف واپسی نہیں؛بلکہ علم و شعور کے نئے افق کی طرف ایک باشعور قدم ہے۔ جب تک علم کا سرچشمہ خدا کی معرفت سے منقطع رہے گا، تعلیم کا حاصل محض شکم پرستی اور سطحی کامیابی تک محدود رہے گا، اور شخصیت کی حقیقی تعمیر ممکن نہیں ہوگی۔
اسلام چاہتا ہے کہ علم انسان کو نہ صرف جہالت اور غلامی کے اندھیروں سے آزاد کرے بلکہ اس کے اندر ایمان کا شعور، کردار کی بلندی، اور معیشت میں استحکام پیدا کرے، تاکہ وہ خدا کا بندہ ہوتے ہوئے زمین پر خیر و عدل کا علم بردار بن سکے۔ دینی علوم کا مقصد دنیا سے فرار حاصل کرنا نہیں؛بلکہ دنیا میں خدا کے اصولوں کے مطابق بامعنی، متوازن اور ذمہ دار زندگی گزارنا ہے۔ اسی لیے حقیقی تعلیم وہی ہے جو انسان کو نفع بخش، مہذب، عادل اور معاشرتی ذمہ داریوں کے شعور سے آراستہ کرے۔ یہی وہ جوہر ہے جو ایک متحدہ نظامِ تعلیم کے ذریعہ پیدا ہوتا ہے۔
مولانا راشدوحیدقاسمی ڈائریکٹر مرکزالفکرالاسلامی،براہ مؤکلاں،یوپی، انڈیا