حضرت امّ حمید رضی اللہ عنہا نے بارگاہِ نبوی ﷺ میں حاضر ہوکر عرض کیا کہ مجھے آپ کے ساتھ نماز پڑھنے کا شوق ہے، آپ ﷺ نے فرمایا:تمہارا شوق (اور دینی جذبہ) بہت اچھا ہے، مگر تمہاری نماز اندرونی کوٹھی میں کمرے کی نماز سے بہتر ہے، اور کمرے کی نماز گھر کے احاطے کی نماز سے بہتر ہے، اور گھر کے احاطے کی نماز محلے کی مسجد سے بہتر ہے، اور محلے کی مسجد کی نماز میری مسجد (مسجدِ نبوی) کی نماز سے بہتر ہے۔چناں چہ حضرت امّ حمید ساعدی رضی اللہ عنہا نے فرمائش کرکے اپنے کمرے (کوٹھے) کے آخری کونے میں جہاں سب سے زیادہ اندھیرا رہتا تھا مسجد (نماز پڑھنے کی جگہ) بنوائی، وہیں نماز پڑھا کرتی تھیں، یہاں تک کہ ان کا وصال ہوگیا اور اپنے خدا کے حضور حاضر ہوئیں"۔

اسی طرح حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا منشا ء بھی یہی تھا کہ فتنہ و فساد کی وجہ سے عورتوں کو گھر میں نماز پڑھنا چاہیے چناں چہ فرماتی ہیں کہ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم دیکھ لیتے آج کل عورتوں نے کیا نئی چیزیں شروع کردی ہیں تو ضرور منع فرماتے ۔

"عن عائشة زوج النبي صلى الله عليه وسلم، أنها قالت: "لو أدرك رسول الله صلى الله عليه وسلم ‌ما ‌أحدث ‌النساء لمنعهن المساجد كما منعه نساء بني إسرائيل" قال يحيى بن سعيد فقلت: لعمرة أو منع نساء بني إسرائيل المساجد قالت: نعم".

(موطأ مالك، باب ما جاء في خروج النساء الي المساجد، ج:1، ص:198، رقم:15، ط:دار احياء التراث العربي)

اس لیے موجودہ پر فتن دور میں خواتین کے لیے یہی حکم ہے کہ وہ اپنے گھروں میں نماز اداکریں، یہی ان کے لیے زیادہ اجر وثواب کا باعث ہے؛ لہذا عورتوں کا گھر سے باہر جاکر مسجد یا کسی بھی دوسری جگہ میں اجتماعی تراویح میں شریک ہونا درست نہیں۔
البتہ اگر اپنے گھر میں ہی تراویح کی جماعت ہورہی ہو اور گھر کا مرد ہی گھر میں تراویح کی امامت کرے اور اس کے پیچھے کچھ مرد ہوں اور گھر کی ہی کچھ عورتیں پردے میں اس کی اقتدا میں ہوں، باہر سے عورتیں نہ آتی ہوں، اور امام عورتوں کی امامت کی نیت کرے تو اس طرح عورتوں کے لیے تراویح کی نماز میں شرکت کرنا شرعاً درست ہے، اس میں کوئی قباحت نہیں،
 اسی طرح اگر امام تنہا ہو یعنی اس کے علاوہ کوئی دوسرا مرد نہ ہو اور مقتدی سب عورتیں ہوں اور عورتوں میں امام کی کوئی محرم خاتون بھی موجود ہواور امام عورتوں کی امامت کی نیت بھی کرے تو اس صورت میں بھی تراویح درست ہے، گھر کی جو خواتین امام کے لیے نامحرم ہوں وہ پردہ کا اہتمام کرکے شریک ہوں ،
 لیکن اگر امام تنہا ہو اور مقتدی سب عورتیں ہوں ، اور عورتوں میں امام کی کوئی محرم خاتون یا بیوی نہ ہو، تو ایسی صورت امام کے لیے عورتوں کی امامت کرنا مکروہ ہوگا؛ لہٰذا ایسی صورت سے اجتناب کیا جائے۔

فتاوی دارالعلوم دیوبند میں ہے:

اس زمانہ میں بل کہ بہت پہلے سے عورتوں کا جماعت میں شریک ہونے کے لیے مسجد و عید گاہ میں جانا ممنوع و مکروہ ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے زمانہ میں یہ ممنوع ہوچکا تھا ، کما ورد فی الحدیث۔

(کتاب الصلوۃ ، باب الامامۃ و الجماعۃ ، 47/3 ،ظ : دار الاشاعت)
فتاوی رحمیہ میں ہے:

گھر کا آدمی حافظ قرآن ہو اور وہ گھر میں تراویح پڑھائے اور اس کے پیچھے گھر کی محرم و غیر محرم عورتیں تراویح پڑھیں تو جائز ہے ،محلہ یا بستی میں سے عورتوں کو جمع کرنے کی اجازت نہیں کہ فتنہ و فساد کا زمانہ ہے اگر اجازت ہوتی تو مسجد میں کیوں روکا جاتا۔

(کتاب الصلوۃ ،فصل مسائل تراویح ، 263/6 ، ط : دارالاشاعت)

*خلاصہ* تراویح کی جماعت چاہے مسجد میں ہو یا مدرسے خواتین کو اپنے گھر میں ہی نماز پڑھنا چاہیے، کسی اور کے گھر یا کسی مدرسہ مسجد جانا مکروہ و ممنوع ہے۔
جن خواتین کو قرآن مجید سے بعض سورتیں یاد ہے وہ اپنی تراویح الحمدللہ اچھے سے ادا کرسکتی ہے، جن کو یاد نہیں وہ تیسوے پارے کے بیس یا بائیس سورے یاد کرلے ، وہ بھی اپنی تراویح خود پڑھ سکتی ہے، جس کیلیے اتنا یاد کرنا بھی مشکل ہو وہ محض آخر کی دس سورتیں یاد کرلے اور پوری تراویح ان دس سورتوں کی پڑھ لے۔
لیکن گھر کے باہر جاکر پڑھنا یہ صحیح نہیں ہے۔ علماء و مفتیان کرام نے اسکی سخت ممانعت کی ہے۔، حضرت عائشہ کی حدیث سے بھی معلوم ہوتا ہیکہ اگر آجکا زمانہ نبی نے دیکھا ہوتا تو یقینا عورتوں کے گھر سے باہر نکلنے کو بند کروا دیتے۔


فقط و اللہ اعلم