*خواتین کی تراویح کا حکم اور طریقہ*

رمضان المبارک میں عشاء کی فرض اور سنتوں کے بعدآخری روزے تک بیس رکعات تراویح کی نماز مردوں اور عورتوں دونوں کے لیےسنتِ مؤکدہ ہے، فرض نہیں ہے، اور اس کا وقت صبح صادق سے پہلے پہلے تک ہے، چنانچہ تراویح کی نماز اگر چھوٹ جائے تو اس کی قضا نہیں ہوسکتی ہے، البتہ بلا عذر اس کو چھوڑنے والا نافرمان اور گناہ گار ہے۔

خلفاء راشدین،صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین،تابعین،تبع تابعین،ائمہ مجتہدین اور سلف صالحین رحمہم اللہ سے پابندی سے تراویح پڑھنا ثابت ہے، عورتیں تراویح کی نماز جماعت سے نہ پڑھیں، بلکہ گھر میں ہی انفرادی طور پر عشاء کی فرض اور سنت کے بعد بیس رکعت تراویح کی نماز (دو، دو کر کے) پڑھ لیں پھر اس کے بعد وتر پڑھ لیں، کیوں کہ عورتوں کے لیے تراویح کی نماز گھر میں تنہا پڑھنے میں زیادہ ثواب ہے،حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت کی نماز کو گھر اور گھر میں بھی اندرونی حصہ میں ادا کرنے کو افضل قرار دیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی چاہت اور احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا اس پر اتفاق ہوا کہ عورتیں گھروں میں نمازیں ادا کریں ؛ اس لیے موجودہ پر فتن دور میں خواتین کے لیے یہی حکم ہے کہ وہ اپنے گھروں میں نماز اداکریں، یہی ان کے لیے زیادہ اجر وثواب کا باعث ہے؛ لہذا عورتوں کا گھر سے باہر جاکر مسجد یا کسی بھی دوسری جگہ میں اجتماعی تراویح میں شریک ہونا درست نہیں۔

*قرآن مجید یاد نہ ہو تو تراویح کس طرح ادا کریں؟*
تراویح پڑھنے کے لیے قرآن کی حافظہ ہونا شرط نہیں، حافظہ اور غیرحافظہ سب کے لیے تراویح پڑھنا مسنون ہے، خواتین اپنے گھروں میں از خود (تنہا تنہا) پڑھیں نماز کے لیے الگ سے مخصوص کوئی طریقہ نہیں ہے، نفل نماز کی طرح تراویح دو دو رکعت کرکے پڑھی جائے گی، اور سورتوں کی بھی تعیین نہیں ہے، اگر کسی کو بیس سورتیں بھی یاد نہیں ہیں تو آخر کے دس سورے الم تر کیف سے الناس تک دس رکعت پڑھے اور پھر دوبارہ انہی سورتوں کے ساتھ بقیہ دس رکعت پوری کرلے۔


*تراویح کی نماز چار چار رکعت کرکے پڑھی جاسکتی ہے یا نہیں ؟*
تراویح میں دو دو رکعت پر سلام پھیرنا افضل اور سنت ہے، لیکن اگر چار رکعت پر سلام پھیرا جائے تو نماز ہو جائے گی, بشرطیکہ دو رکعت کے بعد بقدر تشہد بیٹھا جائے۔ لیکن چار چار رکعات کرکے پڑھنا افضل نہیں ہے، اس لیے قصداً ایسا کرنا مکروہ ہے۔  
لہذا بغیر کسی مجبوری یا بیماری کے چار چار رکعت سے نہیں پڑھنی چاہیے، دو دو رکعت پر سلام پھیر کر ہی تراویح کے بیس رکعت مکمل کرے۔

*ہر چار رکعت کے بعد پڑھے جانے والی دعا*
تراویح کی ہر چار رکعت مکمل ہونے کے بعد پڑھی جانے والی مشہور دعا کسی روایت و حدیث میں ایک ساتھ نہیں ملتی، اور نہ ہی دعائے تراویح کے حوالہ سے کوئی دعا احادیث میں منقول ہے، البتہ مختلف روایات میں وارد دعاؤں کو جوڑ کر عوام کی سہولت کی خاطر بعض فقہاء نے اسے ترتیب دیا ہے، جس کے الفاظ درج ذیل ہیں:

"«سُبْحَانَ ذِي الْمُلْكِ وَالْمَلَكُوتِ، سُبْحَانَ ذِي الْعِزَّةِ وَالْعَظَمَةِ وَالْقُدْرَةِ وَالْكِبْرِيَاءِ وَالْجَبَرُوتِ، سُبْحَانَ الْمَلِكِ الْحَيِّ الَّذِي لَايَمُوتُ، سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ رَبُّ الْمَلَائِكَةِ وَالرُّوحِ، لَا إلَهَ إلَّا اللَّهُ نَسْتَغْفِرُ اللَّهَ، نَسْأَلُك الْجَنَّةَ وَنَعُوذُ بِك مِنْ النَّارِ»".

واضح رہے کہ مذکورہ دعا پڑھنا لازم نہیں ہے، لہذا نمازی ہر چار رکعت کی تکمیل پر دیگر تسبیحات، ذکر و اذکار، تلاوتِ کلامِ مجید کچھ بھی کر سکتا ہے۔

*تراویح کی نماز چھوڑنے والے کا حکم*
تراویح سنت موکدہ ہے،بلا عذر اس کو چھوڑنے والا نافرمان اور گناہ گار ہے۔خلفاء راشدین، صحابہ کرام، تابعین، تبع تابعین،ائمہ مجتہدین اور سلف صالحین سے پابندی سے تراویح پڑھنا ثابت ہے۔


فقط واللہ اعلم