رمضان المبار ک کا پورا مہینہ قبولیت دعا کے خاص مواقع میں سے ہے اس لیئے اس میں دعاؤوں کا خوب اہتمام ہونا چاہیئے البتہ کسی مخصوص عشرہ سے متعلق کسی مخصوص دعا کا کسی حدٰیث سے ثبوت نہیں ہے، حدیث میں اتنا ضرور ہے کہ چار چیزوں کی اس مہینہ میں کثرت رکھا کرو، جن میں سے دو چیزیں اللہ کی رضاء کے واسطے اور دو ایسی ہیں کہ جن سے تمہیں چارہ کار نہیں، پہلی دو چیزیں جن سے تم اپنے رب کو راضی کرو وہ کلمہ طیبہ اور استغفار کی کثرت ہے اور دوسری دو چیزیں یہ ہیں جنت کی طلب اور جہنم سے پناہ ،
اس کے لیئے
لاالہ الا اللہ استغفراللہ اسئلک الجنۃ واعوذبک من النار
کے الفاظ منقول ہیں ( بیھقی، صحیح ابن خزیمہ وغیرہ)
اس لیئے اس دعا کے اہتمام کے ساتھ اللہ سے اس کی رحمت، مغفرت، سلامتی ایمان وبدن ،فلاح دارین نیز ہر طرح کی خیر کا سوال بکثرت کرنا چاہیئے۔
بعض بزرگوں سے پہلے عشرہ میں رب اغفر وارحم وانت خیر الراحمین،
دوسرے میں استغفر اللہ ربی من کل ذنب واتوب الیہ،
اور تیسرے میں اللھم انک عفو تحب العفو فاعف عنا کا اہتمام منقول ہے، یہ آ خری دعا احادیث میں بھی طاق راتوں میں مانگنے کی ترغیب وارد ہے۔ واللہ اعلم