*روزہ فقط بھوکا پیاسا رہنے کا نام نہیں*
روزہ فقط بھوکا پیاسا رہنے کا نام نہیں، بلکہ یہ انسان کی مکمل اصلاح اور باطنی انقلاب کا نام ہے، یہ ایک ایسی عبادت ہے جو انسان کے جسم کے ساتھ اس کے دل، عقل، ارادے اور کردار کو سنوارنے کے لیے فرض کی گئی ہے، اگر روزہ محض کھانے پینے سے رک جانے کا نام ہوتا تو اس کے ساتھ اتنی فضیلتیں اور بشارتیں وابستہ نہ ہوتیں، قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے *يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ* یعنی اے ایمان والو تم پر روزے فرض کیے گئے جیسے تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے تاکہ تم میں تقویٰ پیدا ہو، اس آیتِ مبارکہ سے واضح ہوتا ہے کہ روزے کا اصل مقصد تقویٰ ہے، اور تقویٰ وہ کیفیت ہے جس میں بندہ ہر لمحہ یہ احساس رکھتا ہے کہ میرا رب مجھے دیکھ رہا ہے، جب یہ احساس دل میں زندہ ہو جائے تو انسان تنہائی میں بھی گناہ سے بچتا ہے اور مجمع میں بھی اپنی حدود قائم رکھتا ہے۔
روزہ نفس کی تربیت کا سب سے مؤثر ذریعہ ہے، انسان کے اندر خواہشات کی ایک دنیا آباد ہے، بھوک، پیاس، غصہ، شہوت، حرص اور لالچ یہ سب نفس کی آوازیں ہیں، روزہ ان خواہشات کو قابو میں کرنے کی عملی مشق ہے، جب انسان شدید پیاس کے باوجود پانی نہیں پیتا اور بھوک کے باوجود کھانا نہیں کھاتا تو وہ دراصل اپنے نفس کو یہ پیغام دے رہا ہوتا ہے کہ میں خواہش کا غلام نہیں بلکہ اپنے رب کا بندہ ہوں، یہی بندگی کا حقیقی سبق ہے جو روزہ ہمیں سکھاتا ہے، روزہ صرف معدے کا نہیں بلکہ آنکھوں، زبان، کانوں، ہاتھوں، پاؤں اور دل کا بھی ہوتا ہے، آنکھ کا روزہ یہ ہے کہ وہ حرام نظروں سے بچے، زبان کا روزہ یہ ہے کہ وہ جھوٹ، غیبت، طعنہ اور بدکلامی سے محفوظ رہے، کان کا روزہ یہ ہے کہ وہ فحش اور گناہ کی باتیں نہ سنے، ہاتھ کا روزہ یہ ہے کہ وہ ظلم اور زیادتی سے رکے، پاؤں کا روزہ یہ ہے کہ وہ گناہ کی طرف نہ بڑھیں، اور دل کا روزہ یہ ہے کہ وہ حسد، کینہ، بغض اور تکبر سے پاک ہو جائے، اگر کوئی شخص دن بھر بھوکا پیاسا رہ کر بھی دوسروں کو تکلیف دیتا رہے اور گناہوں میں مشغول رہے تو اس نے روزے کی روح کو حاصل نہیں کیا۔
روزہ صبر کی تربیت دیتا ہے، زندگی میں آزمائشیں اور مشکلات آتی ہیں، روزہ انسان کے اندر برداشت اور تحمل پیدا کرتا ہے، جب انسان اپنی بنیادی ضرورت یعنی پانی کو بھی اللہ کے حکم پر چھوڑ سکتا ہے تو وہ زندگی کی دیگر تکالیف کو بھی صبر کے ساتھ برداشت کرنا سیکھ جاتا ہے، اسی لیے رمضان کو صبر اور ہمدردی کا مہینہ کہا جاتا ہے، روزہ معاشرتی اصلاح کا بھی ذریعہ ہے، جب انسان بھوک محسوس کرتا ہے تو اسے غریبوں اور محتاجوں کی تکلیف کا اندازہ ہوتا ہے، یہی احساس اسے صدقہ و خیرات اور ایثار کی طرف مائل کرتا ہے، رمضان المبارک دراصل ایک روحانی تربیتی کیمپ ہے جس میں عبادات کی کثرت، قرآن کی تلاوت، نمازوں کی پابندی اور راتوں کی مناجات کے ذریعے انسان اپنے باطن کو پاک کرنے کی کوشش کرتا ہے، اصل کامیابی یہ ہے کہ رمضان کے بعد بھی یہ تبدیلی باقی رہے اور انسان کی زندگی نیکی اور تقویٰ کے راستے پر قائم رہے۔
حقیقی روزہ وہ ہے جو انسان کے اخلاق بدل دے، اس کی گفتگو میں نرمی پیدا کر دے، اس کے کردار کو سنوار دے اور اسے اللہ تعالیٰ کے قریب کر دے، ایسا روزہ ہی مغفرت اور نجات کا ذریعہ بنتا ہے، اللہ تعالیٰ ہمیں ایسا روزہ نصیب فرمائے جو صرف بھوک اور پیاس تک محدود نہ ہو بلکہ ہماری پوری زندگی کو بدل دے، آمین۔

*علامہ اقبال نے کہا تھا*
گونگی ہو گئی آج کچھ زباں کہتے کہتے
ہچکچا گیا خود کو مسلمان کہتے کہتے۔
یہ بات نہیں کے مجھ کو اس پر یقیں نہیں
بس ڈر گیا خود صاحب ایماں کہتے کہتے۔
توفیق نہ ہوئی مجھ کو ایک وقت کی نماز کی
 اور چپ ہوا موذن آذان کہتے کہتے۔
کسی کافر نے پوچھا، ہے کونسا مہینہ شرم سے پانی ہاتھ سے گر گیا رمضان کہتے کہتے۔
میری الماری میں گرد سے اٹی کتاب کو
جو پوچھا میں گر گیا زمین پر قرآن کہتے کہتے۔
یہ سن کے چپ سادھ لی اقبال اس نے
 یوں لگا جیسے رک گیا وہ مجھے حیوان کہتے کہتے۔

                  *✍️متعلم الجامعۃ الاشرفیہ✍️*