انسان کی کامیابی کا اصل راز نظمِ زندگی میں پوشیدہ ہے۔ جب انسان اپنی زندگی کو انضباطِ حیات کا پابند بنا لیتا ہے تو اس کے اعمال میں ترتیب، سنجیدگی اور وقار پیدا ہو جاتا ہے۔ یہی نظم اسے اس بات پر آمادہ کرتا ہے کہ وہ باقاعدگی سے احتسابِ نفس کرے اور اپنی کوتاہیوں کا جائزہ لیتا رہے۔ گویا نظمِ زندگی اصلاحِ ذات کی پہلی سیڑھی ہے۔
جب انسان احتسابِ نفس کو اپنا معمول بنا لیتا ہے تو اس کے کردار میں پختگی آ جاتی ہے۔ یہی پختگی آگے چل کر اس کے قول و عمل میں تطابق پیدا کرتی ہے۔ چنانچہ جب وہ گفتگو کرتا ہے تو اس کے کلام میں بلاغت نمایاں ہو جاتی ہے، کیونکہ اس کی باتیں محض الفاظ نہیں ہوتیں بلکہ اس کے عمل کی گواہی بھی ساتھ لاتی ہیں۔ اسی وجہ سے اس کی گفتگو سامعین کے قلوب پر گہرا اثر ڈالتی ہے۔
درحقیقت یہی تاثیر استعلائے فکر کا نتیجہ ہوتی ہے۔ بلند فکر انسان وقتی مشکلات سے گھبرا کر راستہ نہیں بدلتا بلکہ استقامت کے ساتھ اپنے مقصد کی طرف بڑھتا رہتا ہے۔ وہ کٹھن حالات میں بھی امید کا دامن نہیں چھوڑتا اور اپنے مستقبل کو افقِ اُمید سے تعبیر کرتا ہے۔ یوں اس کی مثبت سوچ اور مضبوط ارادہ اس کی زندگی کو چمنِ ہستی بنا دیتے ہیں۔
جب کسی کی زندگی اس نہج پر استوار ہو جائے تو اس کے کردار میں خلوص اور عزم کی جھلک نمایاں ہونے لگتی ہے۔ لوگ اس کی ذات میں اپنے بہتر مستقبل کی تصویر دیکھنے لگتے ہیں۔ وہ اپنی آنے والی نسلوں کے لیے فانوسِ رہنما بن جاتا ہے اور اس کی زندگی دوسروں کے لیے عملی نمونہ ثابت ہوتی ہے۔
پس ہمیں چاہیے کہ ہم نظمِ زندگی اختیار کریں، احتسابِ نفس کو اپنا معمول بنائیں اور استعلائے فکر کو اپنا شعار بنائیں۔ جب فرد سنور جاتا ہے تو معاشرہ بھی سنور جاتا ہے، اور یوں ہماری اجتماعی زندگی پر خیر و برکت کی بارانِ رحمت برستی ہے۔

✍🏻 فارغہ: مدرسہ اسلامیہ رحیمیہ للبنات بھیرہ