(41)مضمون 

بسم اللہ الرحمن الرحیم 

 امت فتوے سے نہیں، جہالت سے بکھرتی ہے

____________

      آج کے دور میں کچھ لوگ علمائے کرام اور نظامِ افتاء پر انگلی اٹھا کر یہ سمجھتے ہیں کہ فتوے امت میں انتشار کا سبب بنتے ہیں۔

حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ فتوے نہیں، بلکہ دین کی ناقدری اور جہالت کا فتنہ امت کے شیرازے کو بکھیرتا ہے۔

محترم جناب!

جب میں نے فون کر کے دریافت کیا کہ آپ نے یہ تحریر کس لیے اور کس ثبوت پر لکھی ہے،

تو آپ کا جواب تھا: “میں نے تو صرف اپنی رائے لکھی ہے، آپ بھی اپنی رائے لکھ دیں۔”

افسوس! یہ جواب سن کر دل کو دکھ ہوا، کیونکہ دینِ اسلام ذاتی آراء یا قیاسات کا نہیں۔

معاف فرمائیں، شریعت کوئی رائے کا میدان نہیں کہ جس کا جی چاہے وہ کچھ بھی لکھ دے،

بلکہ وحیِ الٰہی اور علمِ شرعی کا دین ہے۔

دینِ اسلام وحیِ الٰہی پر مبنی نظام ہے، خواہشات یا ذاتی آراء پر نہیں۔

قرآنِ کریم نے صاف ہدایت فرمائی:

> فَاسْئَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِن كُنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ (النحل: 43)

“اگر تم نہیں جانتے تو اہلِ علم سے پوچھو۔”

یعنی دین میں بولنے سے پہلے جاننا، اور جاننے کے لیے اہلِ علم سے رجوع کرنا ضروری ہے۔

جو شخص دین کے معاملے میں اپنی “رائے” کو علم پر مقدم رکھے،

وہ دراصل شریعت کو اپنی خواہشات کے تابع کر رہا ہوتا ہے — اور یہی گمراہی کی جڑ ہے۔

فتویٰ دین میں انتشار کا نہیں، رہنمائی کا ذریعہ ہے۔

فتویٰ دینے والا اگر دیانت و علم کے ساتھ کہے تو وہ امت کو جوڑتا ہے،

اور جو شخص فتوے کو کھیل یا نفرت کا عنوان بنا دے، وہی دراصل امت کو توڑتا ہے۔

رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا:

> "من قال في القرآن برأيه فليتبوأ مقعده من النار" (ترمذی)

“جس نے قرآن کے بارے میں اپنی رائے سے بات کی، وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے۔”

لہٰذا گزارش ہے کہ دین کو “رائے” کا نہیں بلکہ تعظیم، تحقیق اور فہم کا میدان سمجھا جائے۔

اختلاف ہمیشہ رہا ہے، مگر اہلِ ایمان کا شیوہ یہ ہے کہ وہ اختلاف کو علم و حلم سے حل کرتے ہیں،

نہ کہ نادانی اور ضد سے۔

امت فتووں سے نہیں بکھرتی،

بلکہ فتویٰ دینے والوں کی نیت اور دین کی بنیاد پر شک کرنے سے بکھرتی ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں فہمِ دین عطا فرمائے،

زبان و قلم کو احترامِ شریعت کے ساتھ استعمال کرنے کی توفیق دے،

اور امت کو علم و عدل کے ذریعے جوڑ دے۔

آمین یا رب العالمین۔

یہ تحریر دراصل دین کے بنیادی نظامِ رہنمائی سے ناواقفیت کی عکاس ہے۔

ایسی سوچ اس بیماری کا نتیجہ ہے جو علم کو انتشار اور جہالت کو رواداری سمجھتی ہے۔

فتویٰ کبھی انتشار کا سبب نہیں بنتا — بلکہ جہالت، نفس پرستی اور فتوے کی غلط تعبیر امت میں انتشار پیدا کرتی ہے۔

 چند نکات پر مدلل روشنی

1. فتویٰ انتشار نہیں، رہنمائی کا ذریعہ ہے

فتویٰ کا مطلب ہے:

> “شرعی دلائل کی روشنی میں کسی پیش آمدہ مسئلہ پر شرع کا حکم بیان کرنا۔”

یہی وہ عمل ہے جس کے ذریعے امت حق و باطل میں تمیز پاتی ہے۔

قرآن نے فرمایا:

> فَاسْئَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِن كُنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ (النحل: 43)

پس فتویٰ دین کا حکم پوچھنے اور سمجھنے کا شرعی راستہ ہے۔

فتویٰ بند ہوجائے تو دین میں بے یقینی اور بدعتوں کے دروازے کھل جاتے ہیں۔

2. افہام و تفہیم فتوے کا متبادل نہیں

افہام و تفہیم اچھی بات ہے، مگر یہ علمی حجت نہیں۔

جس طرح عدالت میں قانون کی تشریح قاضی کرتا ہے،

اسی طرح دین میں شریعت کی تشریح فقیہ و مفتی کرتا ہے۔

رائے سب کی ہو سکتی ہے، مگر شرعی رائے صرف اس کی ہوتی ہے جو قرآن و سنت، اجماع و قیاس کا علم رکھتا ہو۔

3. فتوے نے نہیں، نفسانی تعصب نے امت کو توڑا ہے

تاریخ گواہ ہے کہ جہاں فتوے عدل و علم پر مبنی رہے — وہاں اصلاح و اتفاق پیدا ہوا،

اور جہاں فتوے سیاست، تعصب یا ذاتی مفاد کے تابع ہوئے — وہاں انتشار ہوا۔

لہٰذا الزام فتویٰ پر نہیں، نیت پر ہے۔

4. نبی ﷺ کے دور میں بھی فتویٰ کا عمل موجود تھا

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بارہا مسائل پوچھتے تھے اور آپ ﷺ حکمِ شرع بیان فرماتے۔

یہی فتویٰ ہے — امت کے لیے راہنمائی کا منبع۔

اگر فتوے نہ ہوتے تو شریعت آج صرف ایک کتاب رہ جاتی، زندہ نظام نہ بنتی۔

5. امت کا شیرازہ علم سے جڑتا ہے، نہ کہ فتوے سے بکھرتا ہے

"امتِ واحدہ" کی بقا علم و عدل سے ہے، نہ کہ غفلت اور سطحی نعرہ بازی سے۔

فتویٰ وہ چراغ ہے جو جہالت کے اندھیرے میں راستہ دکھاتا ہے۔

اگر چراغ کو قصوروار ٹھہرائیں، تو اندھیرا خود روشنی بن جائے گا کیا؟

ایسی تحریریں جن میں علمِ دین کے نظامِ افتاء کو نشانہ بنایا جائے،

وہ دراصل امت کو روشنی سے محروم کرنے کی کوشش ہیں۔

امت کو انتشار فتوے سے نہیں، بلکہ “فتویٰ دینے والوں سے بغض رکھنے” اور

“سنتِ محمدی ﷺ سے ناواقف رہنے” سے ہوا ہے۔

اگر کوئی شخص جان بوجھ کر ایسی تحریر لکھے جس میں فتویٰ، علمائے حق یا نظامِ شریعت کی توہین ہو،

تو وہ دراصل دین کے بنیادی اصولوں کا انکار کر رہا ہے۔

قرآن نے فرمایا:

> ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ كَرِهُوا مَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأَحْبَطَ أَعْمَالَهُمْ (محمد: 9)

“یہ اس لیے کہ انہوں نے اس چیز کو ناپسند کیا جو اللہ نے نازل فرمائی، پس اللہ نے ان کے اعمال ضائع کر دیے۔”

یعنی جو شخص شریعت یا اس کے اہلِ علم سے بغض رکھے، وہ دراصل اللہ کے دین سے نفرت کر رہا ہے۔

اسی طرح نبی ﷺ نے فرمایا:

> من عادى لي وليا فقد آذنته بالحرب (بخاری)

“جس نے میرے کسی ولی سے دشمنی کی، میں نے اس پر جنگ کا اعلان کیا۔”

پس اگر کوئی جان بوجھ کر فتویٰ اور اہلِ فتویٰ کا مذاق اُڑائے یا انکار کرے،

تو وہ ایمان کے دائرے سے خارج ہونے کے خطرے میں پڑ جاتا ہے،

کیونکہ وہ دینِ الٰہی کے نظامِ رہنمائی کو مسترد کر رہا ہے۔

لہٰذا یہ محض “رائے” نہیں، بلکہ ایمان و کفر کا سنگین معاملہ ہے۔

> فتویٰ امت کو توڑتا نہیں، جوڑتا ہے — مگر شرط یہ ہے کہ ہم شریعت کو رائے نہیں، ایمان سمجھ کر اپنائیں۔

   بقلم: محمودالباری mahmoodulbari342@gmail.com