"قرآن کے معاملے پر واقعی تعجب ہے!"
قرآن رمضان میں نازل ہوا تو رمضان تمام مہینوں میں سب سے افضل بن گیا۔
وہ لیلۃ القدر میں نازل ہوا تو وہ رات ہزار مہینوں سے بہتر قرار پائی۔
قرآن کو جبریل لے کر نازل ہوئے تو وہ فرشتوں میں سب سے برتر ٹھہرے۔
قرآن محمد ﷺ پر نازل ہوا تو وہ تمام مخلوق کے سردار بن گئے۔
اور جب یہی قرآن آپ ﷺ کی امت پر نازل ہوا تو وہ “خیرِ اُمّت” کہلائی، جو لوگوں کے لیے نکالی گئی۔
تو غور کیجئے… اگر یہی قرآن ہمارے دل میں اُتر جائے، ہماری زندگی میں بس جائے، ہمارے اعمال اور اخلاق میں رچ بس جائے تو پھر ہماری زندگی کیسی ہو جائے گی؟
اللہ کے قریب ہونے کی برکتوں میں سے یہ ہے کہ
تم پر ذمہ داریاں بڑی ہوں، مگر تمہیں مدد عطا کی جائے؛
تمہارے اردگرد کی دنیا بے چین ہو، مگر تم مطمئن رہو؛
تمہارے مشاغل بھاری ہوں، مگر تم انہیں بخوبی انجام دو؛
تمہارا وقت کم ہو، مگر اس میں برکت ہو؛
تم حلال کی تلاش میں نکلو تو اللہ اسے تمہارے لیے آسان کر دے
اور اسے تمہاری نگاہ میں خوشنما بنا دے؛
اور جب تم حرام کو چھوڑ دو تو اس کے ترک میں تمہیں دشواری محسوس نہ ہو۔
لوگ سخت دل ہو جائیں، مگر تم اپنے چاہنے والوں کی شفقت میں گھِرے رہو؛
نقاب بڑھ جائیں، مگر تمہیں سچے اور حقیقی چہرے نصیب ہوں؛
لوگ لوگوں میں الجھے رہیں، مگر تم اپنی اصلاح کی طرف متوجہ رہو؛
وہ فضول باتوں میں مقابلہ کریں،
اور تم کسی اعلیٰ اور باوقار مقصد کے امین بنا دیے جاؤ۔
جب تم اللہ کے قریب ہوتے ہو تو
ہر چیز خوبصورت ہو جاتی ہے