*استقبال رمضان نظامِ اوقات اور روحانی تیاری کی ضرورت*

✍🏻*خامہ بکف محمد عادل ارریاوی*
_______________________________
محترم قارئین دل بے حد مسرور اور شاداں ہے کہ چند ہی لمحوں بعد ایک مرتبہ پھر رمضان المبارک کا وہ بابرکت اور عظیم مہینہ ہماری زندگی میں جلوہ افروز ہونے والا ہے اس عظیم نعمت پر ربّ العالمین کا جتنا بھی شکر ادا کیا جائے کم ہے کہ اس نے ہمیں ایک بار پھر اپنی رحمتوں مغفرتوں اور برکتوں کے موسم سے فیض یاب ہونے کا موقع عطا فرمایا رمضان وہ مہینہ ہے جس میں عبادت کا لطف دوبالا ہو جاتا ہے نمازوں کی حاضری میں خشوع و خضوع بڑھ جاتا ہے مساجد نمازیوں سے آباد ہو جاتی ہیں اور تراویح میں قرآن شریف کو شوق و محبت کے ساتھ سننے اور پڑھنے کا ایک خاص روحانی سرور حاصل ہوتا ہے ذکر و دعا تلاوت و استغفار اور نیکیوں کی مختلف صورتوں کا جو حسین امتزاج اس مہینے میں نصیب ہوتا ہے وہ سال بھر میں کسی اور وقت میسر نہیں آتا اسی احساس کے ساتھ دل میں ایک پاکیزہ خوشی و شکرگزاری اور عزم کی کیفیت پیدا ہو رہی ہے کہ اس مبارک مہینے کو قدر و منزلت کے ساتھ گزارا جائے اور اس کے ہر لمحے کو اپنے لیے ذریعۂ سعادت بنایا جائے ۔ رمضان المبارک اہلِ ایمان کے لیےصرف ایک بابرکت مہینہ نہیں ہے بلکہ اصلاح باطن اور قرب الٰہی کا سنہرا اور بیش قیمتی موقع ہے یہ وہ بابرکت مہینہ ہے جس میں رحمتوں کی بارش ہوتی ہے مغفرت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور جنت کی راہیں آسان کر دی جاتی ہیں خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو اس عظیم مہمان کی آمد سے پہلے ہی اپنے دل و دماغ اور اپنے اوقات کو اس کے استقبال کے لیے تیار کر لیتے ہیں کیونکہ جو مہمان جتنا معزز ہو اس کی تیاری بھی اتنی ہی اہتمام اور سنجیدگی کے ساتھ کی جاتی ہے۔ 
استقبال رمضان صرف یہی نہیں ہے کہ چند جلسے سن لیئے کچھ بیانات میں شرکت ہو گئی اور کچھ مضامین پڑھ لئے بلکہ رمضان المبارک کا حقیقی استقبال یہ ہے کہ اس آنے والے مبارک مہینہ کے لئے اپنے روز کے نظام العمل میں کچھ تبدیلی لائیں مصروفیات اور مشغولیات سے وقت کو فارغ کرنے کا نظم بنائیں کیوں کہ دنیا میں کوئی کام بغیر نظام العمل کے بحسن و خوبی پائے تکمیل کو نہیں پہنچتا تو عبادات کا نظام بغیر نظم وضبط کے کیسے قابو میں آ سکتا ہے؟ اس لئے اس کے واسطے ہر مسلمان کو رمضان المبارک کی آمد سے قبل ہی اپنے معمولات کا ایک جائزہ لینا ضروری ہے اور لایعنی وفضول کاموں سے اجتناب کرتے ہوئے رمضان لمبارک کا نظام معمل ترتیب دینا چاہیے تا کہ سلیقہ وسہولت کے ساتھ وقت کی رعایت و پابندی کے ساتھ رمضان المبارک کو گزارا جائے اور عبادتیں انجام دی جائیں مفتی محمد تقی عثمانی مدظلہ فرماتے ہیں کہ میرے والد ماجد حضرت مفتی محمد شفیع صاحب فرمایا کرتے تھے کہ رمضان کا استقبال اور اس کی تیاری یہ ہے کہ انسان پہلے یہ سوچے کہ میں اپنے روزمرہ کے کاموں میں سے مثلاً تجارت ملازمت زراعت وغیرہ کے کاموں میں سے کن کن کاموں کو مؤخر کر سکتا ہوں ان کو مؤخر کر دے اور پھر ان کاموں سے جو وقت فارغ ہو اس کو عبادت میں صرف کرے (اصلاحی خطبات ۵۷/۱۰ ) اس طرح اگر رمضان المبارک کا استقبال ہو تو پھر واقعی ہر مؤمن نیکیوں کو سمیٹنے اور اعمال کو انجام دینے میں اس قدر مصروف ہوگا کہ اسے بے کار اور لایعنی امور میں پڑنے اور وقت کو غیر ضروری چیزوں میں ضائع کرنے کا موقع ہی نہیں ملے گا۔
اے اللہ ربّ العزت ہمیں اس رمضان میں گناہوں سے سچی توبہ کی توفیق دے نیکیوں پر ثابت قدمی عطا فرما اور اس مہینے کو ہماری زندگی میں حقیقی تبدیلی کا ذریعہ بنا دے آمین یارب العالمین