(40)مضمون. خاص
بسم اللہ الرحمن الرحیم
سیمانچل کے نام ایک پیغام — جذبات نہیں، بصیرت سے فیصلہ کیجیے
_____________-
“جب قومیں جذبات میں فیصلہ کرتی ہیں تو پچھتاوے ان کا مقدر بن جاتے ہیں،
اور جب بصیرت سے سوچتی ہیں تو تاریخ ان پر فخر کرتی ہے۔”
قوموں کی زندگی میں ایسے دور بھی آتے ہیں جب سچ بولنا مشکل اور خاموش رہنا جرم بن جاتا ہے۔
ایسے وقت میں اہلِ قلم پر یہ ذمہ داری دوچند ہو جاتی ہے کہ وہ نہ صرف حالات کا مشاہدہ کریں بلکہ امت اور انسانیت کو بیداری کی صدا بھی دیں۔
آج ہمارا ملک بھارت، جو محبت، بھائی چارگی اور یکجہتی کی علامت ہے ، افسوس کہ آج نفرت اور خوف کی فضا گہری ہوتی جا رہی ہے۔
اس کشمکشِ حالات میں کیا کہوں.
ادھر قلم بولنے پر مجبور ہے، اور اُدھر حالات زبان بند کر دیتے ہیں۔
ہم مسلمان آج اپنے ہی خوبصورت، ہر دل عزیز وطن بھارت میں ایسے ماحول سے گزر رہے ہیں یہاں خوف، نفرت اور فرقہ پرستی کے بادل گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔
ظلم و ناانصافی کے سائے تلے جینا معمول بنتا جا رہا ہے۔
اگر کوئی قلم اٹھائے تو خطرہ محسوس ہوتا ہے کہ کہیں سچ بولنے کی سزا نہ مل جائے۔
لیکن دکھ اس بات کا ہے کہ دشمن باہر سے نہیں، بلکہ اپنوں کی نادانیوں سے بھی چوٹ کھانی پڑ رہی ہے۔
آج جب ملک کو اتحاد، صبر اور فہم و فراست کی ضرورت ہے، ہم آپس میں ہی بٹ رہے ہیں۔
ابھی زیادہ دور نہیں؛ بہار و سیمانچل کے الیکشن دروازے پر ہیں۔
اور افسوس! ابھی قوم کی رہنمائی کا وقت ہے ، ہم ٹکٹ کے بٹوارے پر الجھ گئے ہیں۔
کون سچا، کون جھوٹا؟ کس کا حق، کس کا نہیں؟
یہی بحثیں، یہی الزامات، یہی لعن و طعن!
کوئی یہ نہیں سوچتا کہ آخر قوم و ملت اور ملک کا مفاد کہاں ہے؟
کیا ہم یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ کس پارٹی سے امن و سکون، بھائی چارگی اور انصاف کو تقویت ملے گی؟
ہماری بیٹیاں محفوظ رہیں گی؟
ہمارے نوجوان روزگار اور وقار کے ساتھ جی سکیں گے؟
ہمارے ملک کی فضا میں محبت اور مساوات کی خوشبو باقی رہے گی؟
افسوس کہ ہم جذبات اور تعلقات کے دھارے میں بہہ جاتے ہیں،
اور انتخابی شور میں حقیقی مسائل دب جاتے ہیں۔
اے میرے پیارے وطن کے خاص طور پر سیمانچل کے باسیو!
ذرا ہوش کے ناخن لو.؛
یہ وقت ایک دوسرے پر طعن و تشنیع کرنے کا نہیں،
نہ کسی امیدوار پر اتار چڑھاؤ تبصرہ کرنے کا۔
یہ وقت ہے سوچنے، سمجھنے اور فیصلہ کرنے کا۔
آپ کے ووٹ میں طاقت ہے — وہ طاقت جو قوم کی تقدیر بدل سکتی ہے۔
لہٰذا اپنے ووٹ کو وقتی دوستی یا جذبات کے نام پر ضائع نہ کریں،
بلکہ ملک و ملت کے بہتر مستقبل کے لیے صحیح جگہ استعمال کریں۔
کہیں ایسا نہ ہو کہ الیکشن گزرنے کے بعد ہم پھر یہی کہیں:
> "اس کشمکشِ حالات میں کسے ووٹ دیتے کسے ووٹ نہیں دیتے !"
تب صرف پچھتاوا رہ جائے گا، موقع نہیں۔
آئیے!
آپس کے اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر،
سچائی، ہوش مندی اور ایمان داری کے ساتھ اپنی رائے دیں :
تاکہ ہماری آنے والی نسلیں ایک محفوظ، منصف اور باوقار بھارت میں سانس لے سکیں۔
آپس کے اختلافات کو بھلا کر،
خلوص، اتحاد اور دانش مندی کے ساتھ اپنے حقِ رائے دہی کو استعمال کریں۔
یہ صرف ووٹ نہیں. قوم و ملت کے مستقبل پر آپ کا دستخط ہے۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو وقت پر درست، باایمان اور دانشمندانہ فیصلہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے،
اور ہمارے وطن بھارت کو محبت، انصاف اور بھائی چارگی کا گہوارہ بنائے۔
آمین یا رب العالمین۔
(نوٹ)
یہ تحریر کسی پارٹی یا فرد کی حمایت یا مخالفت میں نہیں،
بلکہ ملک و ملت کی بیداری کے لیے ایک درد بھری صدا ہے۔
بقلم محمودالباری mahmoodulbari342@gmail.com