ایک بار پھر ماہ مقدس رمضان المبارک کا ورود مسعود ہونے والا ہے۔ رحمتوں، برکتوں والا مہینہ اپنا جلوہ بکھیرنے والا ہے۔ سعادتوں اور مغفرتوں کا مہینہ سایہ فگن ہونے والا ہے۔ نیکو کاروں کے لئے نیکیوں کا موسم بہار آنے والا ہے ۔ جب اس ماہ عظیم کی آمد ہوگی تو وہ اپنے آغوش میں مسلمانوں کے لیے روزہ کی سوغات، تراویح کا تحفہ اور تلاوت قرآن کا خصوصی ماحول لے کر آئے گا۔ اس ماہ کی برکت سے ہمارے رزق میں اضافہ ہوگا اور ہر نیکی کا ثواب عام دنوں کی نیکی کے ثواب سے زیادہ ہوگا۔ مساجد کی رونق بڑھے گی، مسلمانوں کے اندر عبادت کا ذوق دو بالا ہو جائے گا۔ غم خواری و ہمدردی کی باد بہاری چلے گی، نوکروں، چاکروں کی ڈیوٹیوں میں نرمی برتی جائے گی، ملازموں اور جاب کرنے والوں کے بوجھ کو کم کر دیا جائے گا۔ سخاوت و فیاضی کی ہوا تیز چلے گی، ناداروں، بے کسوں، اور فقیروں پر داد و دہش کے دروازے کثرت سے کھل جائیں گے۔ سماج و سوسائٹی پر تقوی و طہارت اور نورانیت و روحانیت کی چادر تن جائے گی۔سحری کی سحر خیزی اور افطار کی تیاریاں قابل دید ہوں گی۔ لذتوں بھرے انواع و اقسام کے پکوانوں سے ہر گھر معطر ہوگا۔
اس ماہ مبارک میں انوار خداوندی اور تجلیات ربانی کے جلوے ہر سو نظر آئیں گے، گنہ گار بندوں کے لئے سامان مغفرت ہوگا، رندان بادہ نوش بھی توبہ و انابت کے بعد بارگاہ صمد میں سر بسجود ہوں گے۔ جنت کے دروازے کھول دیے جائیں گے اور جہنم کے دروازے پر قفل چڑھا دیے جائیں گے۔ ہر رات بے شمار لوگوں کو دوزخ کی آگ سے خلاصی کی بشارت ملے گی۔ مومنوں کو تربیت و اصلاح کا خاص موقع ملے گا۔ اس ماہ کی عظمت کا ذرہ اندازہ لگایے کہ خالق کائنات نے انسان کے نفس کی تہذیب اور روح کی اصلاح کے لئے جب بھی کوئی آسمانی تحفہ اتارا ہے تو اس کے لیے اسی ماہ کا انتخاب فرمایا ہے۔ علامہ یوسف بنوری رحمتہ اللہ علیہ مسند احمد کے حوالے سے ارقام فرماتے ہیں:" صحف ابراہیم سے قرآن کریم تک تمام روحانی تحفے اور عجیب عجیب احکام ربانی اور قوانین الہی پر مشتمل نظام نامے سب اسی ماہ مبارک کی برکات ہیں۔ احادیث میں آتا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے صحیفے ماہ رمضان کی پہلی تاریخ کو نازل ہوئے، موسی علیہ السلام کی تورات چھ تاریخ کو، عیسی علیہ السلام کی انجیل تیرہ تاریخ کو، داؤد علیہ السلام کی زبور اٹھارہ کو اور قرآن کریم چوبیس کو نازل ہوا"۔ ابن ماجہ میں حدیث مروی ہے کہ اس ماہ کی ہر رات میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ندا لگائی جاتی ہے:"یا باغيَ الخيرِ أقبِلْ ويا باغيَ الشَّرِّ أقصِر" ۔( اے خیر طلب کرنے والے! آگے بڑھو، اور اے شر کی خواہش رکھنے والے! رک جاؤ)۔
اس ماہ کی خاصیت یہ ہے کہ اس میں عاصیوں کے معاصی معاف کیے جاتے ہیں اور بکثرت بندوں کی مغفرت کی جاتی ہے۔ لفظ "رمضان" کے مفہوم میں بھی یہ راز پنہاں ہے اور وجہ تسمیہ بھی یہی ہے۔ رمضان کا سہ حرفی مادہ ر، م، ض (راء،میم، ضاد)ہے۔ اور اس کا معنی ہے سخت گرمی، دھوپ کی شدت سے تپ جانے والی زمین یا پتھر ۔ اس کی وجہ تسمیہ میں علمائے اُمت کے مختلف اقوال ملتے ہیں:رمضان کا ماہ مبارک اسلام میں سب سے پہلے شدید گرمی کے موسم میں آیا تھا تو اسی مناسبت سے رمضان نام رکھ دیا گیا۔ دوسرا قول یہ ملتا ہے کہ اس ماہ میں رب غفور الرحیم اپنے روزے دار بندوں کے گناہوں کو اپنی خاص رحمت سے جھلسا دیتے ہیں اور معافی کا پروانہ عطا فرماتے ہیں؛ اسی لئے اس مہینہ کو رمضان کہتے ہیں۔ علمائے کرام نے حدیث کے حوالے سے اس ماہ کے متعدد نام بھی ذکر کیے ہیں جو ذیل میں مندرج ہیں۔ شہر الصبر، شہر مبارک، شہر المؤاسات، شہر مطہر۔
اس ماہ کی فضیلت کے لئے کیا یہ کم ہے کہ اللہ رب العزت کی طرف سے دنیا کی سب سے مقدس اور سچی کتاب قرآن کریم اسی ماہ میں نازل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:"شَهْرُ رَمَضَانَ ٱلَّذِىٓ أُنزِلَ فِيهِ ٱلْقُرْءَانُ هُدًۭى لِّلنَّاسِ وَبَيِّنَٰتٍۢ مِّنَ ٱلْهُدَىٰ وَٱلْفُرْقَانِ"۔ (سورۃ البقرۃ،آیت نمبر:۱۸۵) (ترجمہ: رمضان کا وہ مہینہ ہے، جس میں قرآن اتارا گیا ،جو لوگوں کے واسطے ہدایت ہے اور ہدایت کی روشن دلیلیں اور حق و باطل میں فرق کرنے والا ہے)۔ رمضان المبارک میں روزہ جیسا عظیم فریضہ ہے جس کے بارے میں حدیث شریف میں وارد ہے کہ اللہ تعالیٰ اس عمل کا بدلہ بذات خود دیں گے جب کہ دوسرے اعمال کے بارے میں ایسا نہیں ہے۔ اس مقدس مہینہ کی فضیلت میں سے یہ بھی ہے کہ اس مہینہ میں جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں اور شیطان کو قید کر دیا جاتا ہے جیسا کہ حدیث شریف میں ہے:" إذا دخل رمضان فُتحت أبوابُ الجنة وغلّقت أبواب جهنم وسُلْسلتُ الشیاطین"۔ (صحیح بخاری:۳۲۷۷) اس ماہ میں بندوں کے اعمال کا ثواب دس گنا سے سات سو گنا تک کر دیا جاتا ہے، حدیث شریف ملاحظہ کریں: "قال اﷲ عزّ وجل کل عمل ابن آدم یُضاعف الحَسنة بعشر أمثالھا إلی سبع مائة ضعف إلا الصوم، فإنه لي وأنا أجزي به یدع شھوته وطعامه من أجلي"۔(صحیح مسلم:۱۱۵۱) اسی ماہ میں لیلۃالقدر جیسی عظیم، مقدس، بابرکت رات ہے جس کے بارے میں قرآنی شہادت ہے کہ یہ رات ہزاروں مہینوں سے بہتر اور افضل ہے ۔
رمضان المبارک کی آمد ہونے والی ہے اس لیے چند باتوں کا عہد کیجیے:
روزہ کا اہتمام کریں گے۔ روزہ کو اس کے تمام مستحبات کی رعایت کے ساتھ رکھیں گے، جو چیز روزہ کے منافی ہوگی اس سے دور رہیں گے۔
اس مہینہ میں اللہ نے قرآن نازل کیا ہے گویا کہ یہ قرآن کا مہینہ ہے؛ اسی لیے کثرت کے ساتھ قرآن کی تلاوت کریں گے۔ اگر ہوسکے تو ترجمہ کے ساتھ پڑھنے کی کوشش کریں گے تاکہ ہمیں معلوم ہو کہ ہمارا رب ہم سے کیا
کہہ رہا ہے؟ ہم سے کیا مطالبہ کرتا ہے ؟
گناہوں سے بچیں گے، ہم سے سمجھتے ہیں کہ صرف نیک عمل کرنا ضروری ہے جب کہ نیک عمل کرنے سے زیادہ ضروری گناہ سے بچنا ہے۔ روزہ رکھ کر ہم حلال چیزوں اور حلال کام سے بچتے تو ہیں مگر حرام کام سے نہیں بچتے یہ افسوس کی بات ہے۔ عام دنوں میں کھانا پینا ہمارے لئے حلال ہے، بیوی سے قربت حلال ہے۔ مگر رمضان میں روزہ کی حالت میں ہم ان امور سے بچتے ہیں اور بچنا بھی ضروری ہے کہ روزہ تو ان امور کو ترک کر دینے کا نام ہے۔ مگر جو کام غیر رمضان میں بھی ہمارے لئے حرام ہے ہم ان سے نہیں بچتے مثلاً جھوٹ بولنا۔ غیبت کرنا، گالی دینا، عیب تراشی، الزام تراشی، دوسرے کا مذاق اڑانا۔ چغلی کرنا یہ سب غیر رمضان میں بھی حرام ہے مگر ہم رمضان میں بھی ان امور سے نہیں بچتے۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ ان امور کے ارتکاب سے ہمارے روزہ کی روح مر جاتی ہے اور بعض دفعہ ہمیں بھوکا رہنے کے سوا کچھ بھی
حاصل نہیں ہوتا۔
نیک اعمال کریں۔ اس ماہ میں زیادہ سے زیادہ نیک عمل کرنا چاہیے، نوافل کا اہتمام کریں۔ خوب ذکر و اذکار کریں ۔ غریبوں، فقیروں کی امداد کریں۔ صلہ رحمی پر خاص توجہ دیں۔ اپنے ماتحت ملازموں، نوکروں، چاکروں کے کام کا بوجھ ہلکا کر دیں۔ صدقہ ادا کریں۔ ضرورت مندوں کے لیے افطار و سحر کا نظم کریں۔ شب بیداری کی پابندی کریں، اللہ کے سامنے سر کو جھکا دیں اور ہاتھ پھیلا کر خوب مانگیں۔
رمضان المبارک کی اگر ہم نے قدر نہیں کی، اس کی مبارک ساعتوں کو تغافل و سستی کے نذر کر دیا۔ اس کے قیمتی لمحات کو گناہوں میں ضائع کر دیا ۔ عید کی شاپنگ، افطاری کی سرگرمیوں اور سحری کے لذت بھرے پکوانوں میں گنوا دیے تو یہ ہماری بہت بڑی بد نصیبی ہوگی۔ اور ہمیں ڈرنا چاہیے کہ کہیں ہم اس بدعا "ہلاک ہو جائے وہ شخص جس نے رمضان پایا اور اپنی مغفرت نہ کروا سکا" کا شکار نہ ہو جائیں جو حضرت جبریل امین علیہ السلام جیسے مقرب فرشتے نے کی تھی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جیسے محبوب خدا نے آمین کہہ کر اس کی قبولیت پر مہر لگا دی۔۔۔