💓موجودہ حالات میں ہندوستانی مسلمانوں کا
تحفظ وبقا✨
گل رضاراہی ارریاوی
✍🏻ملک کی موجودہ صورت حال سے ہر شخص واقف ہے ، لفظ سیاست جو انسانی حقوق دیگر باہمی اخوت ومحبت اورمساوات جیسے خوبی کاحسین گلدستہ ہے اور اس کا حقیقی معنی ومفہوم ہے،اس کی بنیاد ہی اسی لیے رکھی گٸی تھی تاکہ خلق خدا کے درمیان عدل گستری ،انصاف پروری، رواداری ،باہمی نصرت و معاونت کے ساتھ سفینہ حیات مستعار کو ساحل پہ لگا کر اپنے رب کریم کے یہاں اجر عظیم کا مستحق بنیں ۔
لیکن انسانی مزاج کا خاصہ ہے کہ وہ اگر اپنی حقیقت سےنابلد وناآشنا اور کوڑاہو ،اسکےبعد بھی زمام حکومت سنبھال لے تو وہ اپنے جیسے انسان کو خاطر میں نہیں لاتا بلکہ اسے ہیچ اورحقارت وقصارت کی نگاہ سے دیکھتا ہے،اگر وقتی اقتدار وعروج کا غرور اور نشہ سوار ہوجاۓ تو پھر کیا کہنے ،وہ اپنے آپ کو خدا تصور کرنے لگتاہے ،ارض وسما کے تکوینی نظام کو باپ کی جاگیر گمان کرنے لگتاہے،اور پھر اس کا خلق خدا کے ساتھ جو معاملات وسلوک ہوتاہے اس کا اندازہ کتب سماویہ و کتب تاریخ کے ورق گردانی اور فرعون ونمروداور جابر وظالم حکمرانوں کے بے شمار واقعات سے لگایا جاسکتا ہے ۔
ملک کے موجودہ صورت حال بھی اسی کی ایک مثال ہے ،سیاست کے حقیقی معنی ومفہوم پر سلب حقوق، جبر وتشدد، ناانصافی اوردوہرا وریہ کا نقاب ڈال دیا ہے، اسی لیے سیاست کا خیال کرتے ہی اس کے عکس معنی متصور ہونے لگتاہے،کیونکہ فارسی کا مقولہ ہےشنیدہ بود کے مانند دیدہ ،اگرچہ اس کا محل کچھ اور ہےمگر اعتبار اسی کا کیاجاتاہے جو ہمیں دیکھاٸی دیتاہے، ملک ہندوستان جو پوری دنیا میں اپنی تہذیب وتمدن اور ثقافت کی وجہ سے خاص شناخت رکھتاہے، باہمی اخوت ومحبت اس ملک کی علامت شناخت اور پوری دنیا میں مقبولیت کا راز ہے۔
مگر جب 1947 کو ملک انگریزوں کے چنگل سے آزاد ہوا اور ایک ملک دو حصوں میں منقسم ہوگیا،پھر ایک خطیر تعداد میں نقل مکانی سلسلہ شروع ہوگیا ،بہت سے مسلمان پاکستان چلے گیۓ ،اوروہاں کے بہت سے غیرمسلم ہندوستان آگیۓتو اس نقل مکانی کی وجہ سے مسلمانوں کو بہت سی صعوبتوں اور تکالیف کو برداشت کرناپڑا ،اس کی وجہ سےہزاروں لوگ جاں بحق ہوۓ ،پورے ملک میں خوف ووحشت کاایک سماں تھا ۔
کٹر وادی لوگوں نےیہ نعرہ بازی شروع کردی تھی کہ مسلمان پاکستان چلے جاٸیں ، یہاں ان کی کوٸی ضرورت نہیں ۔
لیکن خوش طبع لوگوں نے مسلمانوں سے ہمدردی جتاٸی اور حفاظت وصیانت کی مکمل یقین دہانی کراٸی،
لیکن یہ ہمدردی محض چند سال رہا ،پھر وہی ظلم وستم اورنفرت انگیز مہم شروع کردی گٸی جو تاہنوز جاری ہے،
مگر گذشتہ چند عرصہ سے تحفظ وبقاۓ مسلم ایک دشوار کن مسٸلہ بن گیا ہے،مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ کرنے کی سعی جاری ہے،دن بہ دن جبر وتشدد میں اضافہ ہوتاجارہا ہے ،کھلم کھلا مسلم دشمنی کا اظہارکیاجارہاہے ، آۓ دن مسلمانوں کی ملی ومذہبی قوانین اور انکی معبد اور عبادت گاہوں کو نشانہ بناکر مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کرنے کی سعی کی جارہی ہے،نکاح وطلاق ، صوم وصلاة ،زکوة وقربانی جیسے بنیادی امور پہ اشکال کرکے نادانستہ وناخواندہ مسلمانوں کو شریعت سے منحرف کرنےکی کوشش جارہی ہے، یعنی بقاۓ مسلم کی کوٸی صورت یہاں کے یکطرفہ نظریہ کے حامل شخص کو قبول نہیں ۔
یہی وجہ ہیکہ وہ مسلسل کوشش میں ہے کہ مسلمان یا توتبدیلی مذہب کرکے ہم میں شامل ہوجاۓ، چنانچہ بھگوا لوٹریپ اسی کی ایک مثال ہے ،
یا اگرمسلمان اسکو قبول نہیں کرتے تو ان کو ظلم وستم کانشانہ بناکر اس کو اس صفحہ ہستی سے مٹادے،
چنانچہ این آر سی ،سی ڈبل اے، این پی آر اسی کی ایک شکل ہے،
آپ بخوبی جانتے 2019 میں آر ایس ایس کے دوبارہ حکومت میں آنے کےفورا بعد اس کا شوشا چھوڑا گیا، پھر اسکے بعد یکے بعد دیگر مسلمانوں پہ الزام تراشی وبہتان بازی کا سلسلہ شروع ہوگیا ،چنانچہ کرونا واٸرس میں تبلیغی جماعت اور مرکز نظام الدین پہ الزام لگایا گیا کہ کرونا انکی وجہ پھیلا ہے ،مگر تفتیش کے بعد حقیقت کچھ اور ہی نکل کر کے آٸی ، مسلمانوں کی قدیم بابری مسجد کا فیصلہ دلاٸل وشواہد پر پردہ ڈالتے ہوۓ اپنے حق میں کرالیا گیا،اور 22 جنوری 2024 کو بڑے دھوم دھام سے خوشی کا اظہارکیا گیا ، سفر وحضر میں مسلمانوں کے چہرہ کو دیکھ کر قتل کردیا گیا ،مساجد میں اٸمہ کو قتل کرکے ہمیشہ کیلیے اسکو اہل وعیال سےدور کردیا گیا ، مسلم علاقہ میں فساد کراکر جانی ومالی نقصان پہنچایا گیا گیا ،مساجد پر بلڈوزر چلاکر فتح کا پرچم لہرانے کا احمقانہ کوشش کی گٸی ،حالت نماز میں مسلمانوں کو مارا پیٹا گیا ،نقاب وحجاب پہ بے جا قانون بناکر مسلم بیٹی کو تعلیم سے روکا گیا ۔
یہ سب دیکھ کر یہ سوال ذہن میں آتاہیکہ مسلمانوں کواس ملک میں اب تحفظ وبقا کیسے حاصل ہو،یہ سوال بہت اہم ہے ، اس کے حل کے لیے ہمیں اپنے ماضی کی طرف رخ کرنا ہوگا کہ ہم میں وہ کونسی کوتاہی اور غلطیاں ہیں جس کی وجہ سے جسکی ہم عزت ورفعت کی راہ سے ہٹ کر ذلت ونکبت کی راہ پہ گامزن ہوگیۓ وہ کون سے اسباب جس کی وجہ سےتحفظ وبقاۓ مسلم کا دوبارہ بحال ممکن ہو۔
وہ پانچ اہم اسباب جو مندرجہ ذیل ہیں
نمبر 1: تعلیم کا فقدان -
کسی بھی قوم کی تحفظ وبقا کیلیے تعلیم کا ہونا ضروری ہے آج ہماری قوم کے 60 فیصد سے زاٸد لوگ جاہل ہیں، جب کوٸی قوم جاہل ہوتی ہے تو اسکے خواب بلند نہیں ہوتے بلکہ وہ جس پر ہے اسی کو اصل زندگی سمجھتے ہیں ، اگر مسلمانوں میں سےکوٸی بھی سرکاری کسی ملازمت میں ہیں تو وہ دین سے بہرہ ور نہ ہونیکی وجہ سے اپنی قوم کی ذمہ داری سے بے خبراور غافل ہے، اگر مسلمان اپنی تحفظ و بقا چاہتے تو ان کو علوم دینیہ وعصریہ سے ہم آہنگ ہوناپڑے گا اس کے بغیر کوٸی چارہ نہیں ،مجھے یاد ہے کہ زمانہ طفولیت میں جب ہم اسکول جاتے تھے تو اسکول کی جانب سے نعرہ لگایا تھا کہ آدھی روٹی کھاٸیں گے پھر بھی اسکول جاٸیں گے یہ نعرہ جس کا بھی ہو مگر ہےکمال کاکیونکہ اس میں تعلیم کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے ،اسلام میں تعلیم اہمیت اس قدر ہے کہ اللہ رب العزت نے سب سے پہلی وحی اہمیت تعلیم کیلے نازل کی چنانچہ باری تعالی کا ارشاد ہے اقرأ باسم ربک الذی خلق الخ -
نمبر ٢: معاشی حالت کی درستگی ،
کسی قوم کی تحفظ وبقا کیلیے معاشی حالت کا بہتر ہونابھی ضروری ہے، آج ہماری قوم کے بیشترافراد معاشی زبوحالی شکار ہے،10 فیصد مسلمان ہی تجارت کرتے ہیں بقیہ ملازمت اور مزدوری ،تجارت کرنا سنت نبوی ہے ،اور خود نبی کریم لوگوں کو تجارت کرنے کی ترغیب دیتے تھے اور فرماتے تجارت کرو کیونکہ اس میں برکت ہے ،قوم کی تحفظ وبقا کی ایک صورت تجارت ہے لہذا مسلمان زیادہ سے تجارت کی طرف ماٸل ہو ،مسلمانوں میں جو صاحب ثروت ہیں اس کو چاہیے کہ وہ کمزوز مسلمان اور اسکے نوجوان کوتجارت سے جوڑے رقم کو بے جا صرف نہ کریں فضولیات وغیرہ میں خطیر رقم خرچ کرنے بچیں ،شادی بیاہ اور دیگر رسومات میں بے جا پیسہ خرچ نہ کریں بلکہ اس کو جمع کرکے رکھے تاکہ برے وقت میں اس کے یادوسرے مسلمان کی ذات پہ صرف ہوسکے -
نمبر 3:سیاست میں اپنا حصہ ضرورڈالے -
سیاست عربی لفظ ہے جس کے معنی خیرخواہی کے آتے ہیں سیاست اسلام کا جزو لاینفک ہے ،اس سے کوٸی مسلمان الگ نہیں ،نبی اکرم ﷺکی نبوت کے بعد کی زندگی میں سیاست کا پہلونمایاں تھا جتنی غزوات اور جنگیں لڑی گٸی اس میں سیاست کا وافر حصہ میں موجودہے-
صحابہ کرام وخصوصاخلفاۓ راشدین جن میں حضرت ابوبکر وعمر ؓ یہ نمایاں شخصیت تھے جنہوں نے نبی اکرمﷺ کے وصال کے بعد سیاست وتدابیر سےمزید اسلام کو تقویت پہنچاٸی ،اور اسلام کو عروج دیا -
پر افسوس ہم اس ملک میں سب سے بڑی اقلیت ہونے کے باوجود ہماری کوٸی سرکار کسی صوبہ میں نہیں ہے صرف دویا تین ایم پی ہی پارلیمنٹ میں ہے،جس کی وجہ وہ ہمیں خاطر میں نہیں لاتے ،لہذا ہمیں سیاسی لحاظ سے مضبوط ومستحکم ہوناچاہیے تاکہ ہمارا تحفظ وبقا یہاں بآسانی بحال ہوسکے-
نمبر4 :باہمی اتحاد واتفاق اور معاونت -
قوم کے تحفظ بقا کا اہم ذریعہ باہمی اتحاد اتفاق اورمعاونت ضروری ہے ،تاریخ شاہد ہیکہ جب کوٸی قوم اتحاد واتفاق کی دولت سے بہرہ ور ہوتی ہے تو وہ بہت جلد ترقی کرجاتی ہے ،اس کی مثال آج کے موجودہ ترقی یافتہ قوم یہود ونصاری ہے ان کےسارے امور باہمی اتفاق راۓ سے طے ہوتاہے ،وہ ہر مسٸلہ میں سرجوڑ کر غوروفکر کرتے اور کامیابی کی بحث وتمحیص کرتے ہیں،قوم میں محبت ہوگی تو وہ آپس میں ایک دوسرے کی حفاظت وصیانت کیلیے ہمیشہ مستعد رہیں گے ،اور یہ اس وقت حاصل ہوگی ، جب ایک دوسرے کی بروقت تعاون کریں گے ،اور انا کی دیوار کوآپس میں حاٸل نہ ہونے دیں گے بلکہ خیرخواہی کےجذبہ کام کریں گے توہماری تحفظ بقا صورت نکل جاۓ گی -
نمبر5 دفاعی تدابیر اوربے باکی :
زندہ قوم وہی ہےجو شجاعت وبسالت اور بےباکی کی عظیم صفت کامالک ہو ،اگر آپ اپنے ماضی کو دیکھیں تو اسکی تابناکی وخوشگوای کاراز معلوم ہو گا کہ صحابہ کرام تابعین اوراتباع تابعین، اسلاف واکابر دنیا کسی طاقت کے آگے سرنگوں نہیں ہوتے تھے بلکہ آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنا ہی اپنی اصل زندگی سمجھتے تھے،مثل مشہور ہےشیر کی ایک دن کی زندگی گیدر کے ہزار دن سے بہتر ہے،ہم اپنے پاس دفاعی آلات ضرور اپنے پاس رکھیں قانون کی پاسداری کرتے ہوۓ اپنا دفاع کریں چونکہ قرآن کریم میں ہے واعدو لھم مااستعطتم من قوة ومن رباط الخیل ترھبون بہ عدواللہ وعدوکم آخرین من دونھم ، اگر مذکورہ تمام باتوں کا پاس لحاظ کریں گے تو ان شاء اللہ ہماری تحفظ بقا دوبارہ بحال ہوجاۓ گی -
رب کریم پوری امت مسلمہ کی حاظت اور انابت الیہ کی توفیق مرحمت فرماۓ آمین