🍂{ان الدین عند اللّٰہ الاسلام}❤️
گل رضاراہی ارریاوی ✍🏻
✍🏻یوں تو دنیا کے اندر سیکڑوں ادیان پاۓ جاتے ہیں،بے شمار مذاہب ومسالک کے لوگ آباد ہیں،ہر کوئی اپنے طور پہ اپنے مذہب کی تائید میں لگا ہواہے، اپنے مذہب کو صحیح ثابت کرنے اور اس کی اشاعت میں سرگرم ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ کو ن سا مذہب درست ہے ،ہم کون سا مذہب اختیار کریں جس سے ہماری دنیا وآخرت سنور جائے ،تو اس کے لیے ضروری ہےہم ایسے مذہب کو تلاش کریں جس میں ہر اعتبار سےجامعیت ہو،جو ظاہری وباطنی خو بیوں سے آراستہ ہو ،ہر طرح کے عیوب و نقائص سےمنزہ ہو،عدل وانصاف کا حقیقی عکس جمیل ہو،مساوات کا ہمنوا ہو،انسان کے افکار ونظریات کو صحیح سمت دینے والا ہو،فہم وفراست کو درست کرنےوالاہو،گفتار و کردار کے معیار کو دوبالا کرنےوالاہو،اخوت ومحبت کی تعلیم دینے والا ہو،انسانیت سے ہم آہنگ کرنےوالا ہو،صلح وآشتی کا پیغام دینے والاہو،خالق حقیقی ملنے کا راستہ فراہم کرنے والا ہو،ایسا مذہب ایسا دین جو عقل و نص کے عین مطابق ہو ،صواب دید پہ قائم ہو،ذی شعور اورصحیح العقل انسان کو کوئی اختلاف نہ ہو ،جو مذہب مذکورہ اوصاف کا مرقع ومرصع ہو وہی سچامذہب ہے-
آپ اگر ادیان عالم پہ صحیح نظر ڈالیں گے،دنیاکے مذاہب کا مطالعہ کریں گے تو آپ کو مذہب اسلام کے سوا کوئی دوسرا مذہب نظر نہیں آۓ گاجو حقانیت پہ قائم ہو،مذہب اسلام ہی عقل و نص کےبالکل عین مطابق ہے
جس کی دلیل قرآن کریم ہےخود اللہ تعالیٰ نےارشاد فرمایا!٫٫ان الدین عند اللہ الاسلام ،،
اللہ کے نزدیک سب سے پسندیدہ اور سچامذہب اسلام ہے ،
دوسری جگہ ارشاد فرمایا ،جو شخص مذہب اسلام کے سوا کوئی دوسرا مذہب تلاش کرے اس کو ہرگز قبول نہیں کیا جاۓ،
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں
من شھد ان لاالہ الااللہ وأن محمدا رسول اللہ حرم اللہ علیہ النار
جو شخص اس بات کی گواہی دے کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت وبندگی کے لائق نہیں ہے اور محمد اس کے رسول ہیں ،تو اللہ تعالیٰ اس شخص دوزخ کی آگ حرام کردی ہے،
(معارف الحدیث جلد اول کتاب الأیمان
حیث نمبر 11)
اسلیے کی مذہب اسلام اپنی نوعیت میں منفرد ہے،جامعیت میں اس کی کوئی مثال نہیں ،اخوت ومحبت میں اس کی کوئی نظیر نہیں ،جو سراپاعدل وانصاف پہ قائم ہے،جس میں پیدا ئش سے لے کر موت تک رہنمائی موجود ہے،جس میں صلح وآشتی کا پیغام موجود ہے-
قرآن پڑھیے تو آپ کو اس کی تعلیمات کا اندازہ ہوگا کہ ایسا جامع اصول کسی اور مذہب میں نہیں ملتا، مذہب اسلام ہی خالق حقیقی سے ملاتا ہے ،حقیقت سے آشنا کراتا ہے ،زندگی کی حقیقت سے روشناس کراتا ہے-
لہذا ہمیں چاہیے کہ ہم دامن اسلام کو تھامے رکھیں تادم حیات اس پہ قائم ودائم رہیں ،اس کی خاطر ہمہ وقت ایثار علی النفس کا جذبہ رکھیں تاکہ ہم دنیا و آخرت میں سرخ رو ہوں-