مکن تکیہ برملک ناپائیدار 

گل رضاراہی ارریاوی ✍🏻

✍🏻کبھی خیال آتاہے کہ یہ دنیا اور اس کی چمک ،دمک ،شمش وقمر ،ستارے وسیارے کی جگمگاہٹ ،شب و روز کی گردش، بے ستون نیلگوں آسمان کی بلندی، بچھی ہوئی زمین کی ہریالی وشادابی ،لوگوں کا ہجوم ،بچپن جوانی اور بڑھاپے کا کھیل ،طاقت وقوت ،تونگری وتنگ دامنی کی بے ثباتی یہ سب وقتی تماشہ ہے،
ہم سے پہلے بھی بہت سے لوگ دنیا میں آۓ جن کےفخر و مباہات ڈنکے بجتے تھے،مرضیات وناموری میں اس کا کوئی مثل نہیں تھا، جب وہ بولتا تھا دنیا اس کو سنتی تھی ،عجیب ان کے رنگ ڈھنگ تھے، ان کی شہرت کا چرچہ پوری دنیا میں تھا،لیکن وہ تمام ہمارے لیے ھباء منثورا ہوگیے فرعون وشداد کے واقعات کتابوں کی زینت بن گئی ،اور عاقل کے سامان عبرت بن گیے ،یقین نہیں آتاکہ ایسے لوگ بھی کبھی دنیا میں آۓ، بعینہ یہی چیزیں ہمارے ساتھ بھی ہونے والا ہے ،ہم بھی اک دن خاموش ہوجائیں گے،خاک کا خمیر خاک ہوکر رہ جائیں گے ،ہمارے چرچہ ختم ہو جائیں گے ،لیکن دنیا کے نظام میں تبدیلی نہیں ہوگی صرف لوگ بدلیں گے جگہ وہی رہے گی ،سب کچھ اسی طرح جاری رہے گا جس طرح اب جاری ہے اور ہمارے آنے پہلے سے جاری تھا،خدا یہ تکوینی نظام یوں ہی چلاتارہے گا،لیکن ان حقائق کے باوجود ہماری زندگی میں ذرا بھی تبدیلی نہیں ہے ،ہماری زندگی کس رو میں بہہ رہی ہے، ہمیں خود پتہ نہیں ،جس طریقے سے آج ہمارا وجود یقینی ہےاسی طرح ہمارا عدم بھی یقینی ہے،لیکن ہماری رحلت کے بعد ہم پہ دو طرح کے تبصرے ہوں گے ایک تبصرہ خیرکے ساتھ ، دوسرا اس کے برعکس جیساکہ آج ہم فی زماننا دیکھتے ہیں ،جن سے ہمارا اتفاق ہوگا وہ خیرکے ساتھ تذکرہ کرے گا اور جن سے اختلاف ہوگا تو وہ اس کے اخلاق پر مبنی ہے وہ اپنے حساب سے تبصرہ کرے گا، ماحاصل یہ ہے کہ انسان اپنی جیسی یادیں چھوڑ کر جاۓ گا ویسا ہی ان کاتذکرہ ہوگا ،لوگ آتے رہیں گے جاتے رہے ہیں سلطنت بدلتی رہیں گیے، محلات ومکانات یکے بعد دیگرے لوگوں کو رخصت کرتے رہیں گے ،لوگ جنازہ میں آتے رہیں گے ،بعدازاں کچھ دن ہم لوگوں کے ذہن میں رہیں گے پھر ہم لوگوں کے ذہنوں سے بھی نکل جائیں گے،حتی کہ کبھی تذکرہ ہوگا تو فورا ذہن منتقل نہیں ہوگا بلکہ بہت دیر بعد ذہن میں خیال آۓ گا کہ کبھی اس نام کا کوئی انسان بھی اس محلہ، گاؤں ،شہر ،قصبہ میں آباد تھالیکن اب ہزاروں من مٹی تلے دب گیے اور کیڑے مکوڑوں کی غذا بن گیے -
آج ہم کسی کے انتقال کی خبر دیتے ہیں کہ فلاں اس دنیا سے چلاگیا اک دن ہمارے بارے میں بھی اس خبر کی تشہیر ہوگی فلاں نہیں رہا وقت کم ہے تیاری کچھ بھی نہیں ،تھوڑے سفر کے لیے بھی ہم پوری تیاری کرتے ہیں ،لیکن ابدی سفر جہاں سے کبھی عود ممکن نہیں اس سفر کے لیے ہم نے کیا تیاری کی کبھی خیال نہیں ،دست تأسف کے ساتھ لڑکھڑاتی زبان کہیں گے ہم نے کچھ نہیں کیا، اسلیے ہمیں تیاری کرنا چاہیے وقت کم اور کام بہت زیادہ ہے-

اسی کو شیخ سعدی نے اپنے شعر میں فرمایا! 
خیرے کن اے فلاں غنیمت شمار عمر
زاں پیشتربانگ برآید کہ فلاں نماند
ترجمہ 

کوئی نیک کرلے اے فلاں اور زندگی کو غنیمت سمجھ 
قبل اس کے کوئی آواز لگاۓ کہ فلاں نہیں رہا